تازہ ترینکالم

موت کے بیوپاری۔۔۔

تحریر/اسد بٹ

انسان ہمیشہ حاصل سے لاحاصل کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔بے ہنگم خواہشات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہوتا چلا جاتا ہے کہ جائز وناجائز ،نفع نقصان سب نظر آنا بند ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات ہلاکت مقدر بن جاتی ہے۔بقائے زندگی خواہشات کے ڈوب جانے میں ہے ورنہ خواہشات زندگی ڈبو دیتی ہیں۔ماضی ایسی ہزاروں مثالوں سے بھرا پڑا ہیں۔آپ ماضی کے قصے چھوڑیں لیبیا میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے والا حالیہ وقوعہ دیکھ لیجئے۔انھیں کشتی نے نہیں خواہشات نے ڈبویا ہے۔بیرونِ ملک ڈالر کمانے کی خواہش جب الفاظ کی صورت میں ایجنٹ کے کانوں تک پہنچتی ہے وہ ایجنٹ جنھیں میں موت کے بیوپاری سمجھتا ہوں،اپنی خواہشات کا پیٹ بھرنے کیلئے انسانی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔انکے ہاتھ ناجانے کتنے انسانوں کے خون سے رنگے پڑے ہیں۔آج تارکینِ وطن کے ڈوب جانے پر ہر کوئی افسردہ ہے۔غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے نوجوانوں میں خوف کی فضا پیدا ہو چکی ہے مگر یہ سب وقتی ہے۔کچھ دن گزریں گے یہ قصہ دماغ کے دریچے سے نکل کر ماضی کی وادیوں میں کھو جائے گا۔خواہشات ایک بار پھر سر اٹھائیں گی۔موت کے بیوپاری پھر سرگرم عمل ہو جائیں گے۔آج کا کالم خصوصاً ان نوجوانوں کیلئے ہے جو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کے خواہشمند ہیں۔میں ان تمام نوجوانوں سے کہنا چاہوں گا کہ یہ ایجنٹ آپ کو بھلے کتنے ہی حسین باغ دکھا دیں،آپ کو محفوظ رکھنے کی قسمیں اٹھا لیں مگر ان پر یقین مت کیجئے گا۔پاکستان سے بھجوانے کے بعد انکا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔اسکے بعد آپ بیرونِ ملک بیٹھے ایجنٹوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔شاید آپ جان چکے ہوں کہ ایجنٹ اب مغربی ممالک میں بھجوانے کیلئے ایران اور ترکی کا راستہ استعمال نہیں کرتے،وجہ یہ کہ ان دونوں ممالک نے گرفتاریوں کا سلسلہ بند کر کے بارڈر پولیس کو حکم جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص غیر قانونی طریقے سے بارڈر پار کرتا نظر آئے اسکو گولی مار دی جائے۔لہذا ایجنٹ اب پاکستان سے قانونی طور پر دوبئی پہنچاتے ہیں۔دوبئی میں ایک دوسرا ایجنٹ پہلے سے موجود ہوتا ہے جو پہلے ایجنٹ سے رابطے میں رہتا ہے۔وہ مصر یا لیبیا کا ویزہ دلوانے میں سہولت کاری کرتا ہے۔لیبیا میں ایک تیسرا ایجنٹ موجود ہوتا ہے جو دو اڑھائی ہزار ڈالر فی کس پاکستانی شہری کشتی میں سوار کرنے کے عوض وصول کرتا ہے جبکہ لیبیا کے ساحلی کرپٹ حکام سے اس کا معاہدہ بندوں کی تعداد کے مطابق نہیں بلکہ فی کشتی کے حساب سے ہوتا ہے۔ایجنٹ چار کشتیوں کی سواریاں ایک کشتی میں بٹھا دیتا ہے یعنی اگر ایک کشتی میں پچاس بندوں کی گنجائش ہے،وہ اس میں ڈیڑھ سے دو سو بندے بٹھا دیتا ہے۔ایسی صورت میں اگر کشتی کے اندر ہلکی سی ہلچل مچے یا سمندری موجوں میں معمول سے ہٹ کر اضطراب پیدا ہو تو نتیجتاً انسانوں سے بھری کشتی انکی خواہشات سمیت ڈوب جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بوڑھے ماں باپ کی امیدیں انکے بڑھاپے کے سہارے بھی ڈوب جاتے ہیں۔کیا آپ نے وجہ جاننے کی کوشش کی؟ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ سوچ رہے ہوں گے شاید غربت کے ہاتھوں مجبور پاکستانی خود کو موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں تو ایسا ہرگز نہیں،اصل وجہ ہمارے معاشرے کی فرسودہ سوچ ہے۔ہم نے شخصیت کا معیار پیسہ بنا رکھا ہے۔اعلیٰ کردار رکھنے والا غریب شخص ہماری سوچ کے مطابق اہمیت کا حامل نہیں ہوتا۔ہم انسان کی شخصیت کا اندازہ لباس،سواری اور پیسے سے لگاتے ہیں۔ہزاروں معاشرتی عیبوں میں لتھڑے شخص کو دولت کے بل بوتے پر عزت کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ہم اپنے گرد ایک دائرہ کھینچ دیتے ہیں۔دائرے کے اندر مفلس دوست یا رشتہ دار کی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ کردار کا حامل ہو۔ اس معاشرتی سوچ کا شکار ہوا نوجوان معاشرتی رویے سے دل برداشتہ اپنی توجہ اخلاق و کردار سنوارنے کے بجائے اپنا حال سنوارنے پر مذکور کر دیتا ہے اور اپنے مقاصد کی تکمیل میں اپنی جان اور عزت آبرو تک قربان کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔آپ کے سامنے سوشل میڈیا ایک مثال ہے کہ اپنا حال سنوارنے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں نے اپنے گھر کی عورتوں تک کی نمائش کر دی۔کشتیاں یوں ہی ڈوبتی رہیں گی،بہن بیٹیوں کی نمائش جاری رہے گی،فقط اظہارِ افسوس سے یہ سلسلہ رکھنے والا نہیں جب تک اس معاشرتی رویے میں تبدیلی نہ آ جائے،جب تک ہم امیر و غریب کو بلا امتیاز اعلیٰ کردار کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد عزت دینا شروع نہ کر دیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button