مشرق وسطی پر تیسری عالمی جنگ کے سائے ۔۔۔۔۔
انعام علوی۔۔۔۔۔۔سینئر صحافی ۔۔۔تجزیہ کار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے ہیں وہ ایک آسان ہدف ہیں لیکن فی الحال محفوظ ہیں۔ہم ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے نہیں جارہے کم از کم اس وقت ہمارا ایسا ارادہ نہیں، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ شہریوں یا امریکی فوجیوں پر میزائل گریں، ہمارا صبر جواب دے رہا ہے۔ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اب ہمیں ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اچھے فضائی ٹریکرز اور دیگر دفاعی ساز و سامان بڑی تعداد میں موجود تھا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کا ساز و سامان امریکی سامان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، کوئی بھی امریکا سے اچھا سامان نہیں بنا سکتا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس انتظامیہ کو ایرانی حکام سے جلد ازجلد ملاقات کے اہتمام کی ہدایت کردی۔جبکہ ذرائع کے مطابق امریکا کا ایران کے جوہری ری ایکٹر کو بنکر بسٹر بم سے تباہ کرنے پر غور کر رہا ہے اور اسرائیل کی جانب سے امریکا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اسے جی بی یو 57 بنکر بسٹر بم فراہم کیے جائیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق زیر زمین فردو جوہری ری ایکٹر تک امریکا کا 30 ہزار پاؤنڈ وزنی سب سے بڑا بنکر بسٹر بم ہی پہنچ سکتا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ جی بی یو 57 صرف بی ٹو بمبار سے ہی گرایا جاسکتا ہے اور یہ دونوں صرف امریکا کے پاس ہیں۔اسے خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے اسٹیل سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ اپنے وزن کو استعمال کرکے 200 فٹ گہرائی تک چلا جاتا ہے، یعنی اتنی گہرائی میں جتنی 20 منزلہ عمارت کی بلندی ہوتی ہے اور پھر دھماکا کرتا ہےجی پی ایس کے ذریعے کام کرنے والے اس بم کو زمین کی گہرائی میں موجود بنکر تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یہ بم 4 متحرک lattice fins سے لیس ہوتا ہے اور جی پی ایس اسے درست مقام تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔بم کے بڑے حجم اور وزن کے باعث طیارہ ایک بار میں صرف 2 بموں کو ہی اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے۔ ادھر ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے اسرائیل کے خلاف عنقریب بڑی کارروائی کا اعلان کردیا۔اپنے ویڈیو پیغام میں ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف کا کہناتھاکہ اب تک جو کارروائی کی گئی وہ ایک انتباہی عمل تھا، اصل کارروائی عنقریب ہوگی۔انہوں نے اسرائیلیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی جان بچاتے ہوئے فوراً حیفا اور تل ابیب چھوڑ دیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ دنیاکو بھی یقین رکھنا چاہیے کہ ایرانی قوم، مسلح افواج کی قیادت میں شہدا کے خون کا بدلہ لے گی، ایران قوم نے کسی بھی جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکایاایرانی چیف آف جنرل اسٹاف کا کہناتھاکہ ایران اسرائیلی حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دے کر چھوڑے گا۔جبکہ اسرائیل نے بھی ایرانی شہریوں کو تہران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے ۔اسرائیل کا بھی تہران پر بڑی کارروائی کا امکان ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای جنگ سے متعلق اختیارات پاسداران انقلاب گارڈز کی شوریٰ کو منتقل کردیے ہیں۔ایرانی نژاد امریکی رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تہران کو "خالی کرنے” کی تجویز پر شدید ردعمل دیا ہے اور اسے "ظالمانہ اور خوفناک” قرار دیا ہے۔یاسمین انصاری، جو گزشتہ سال امریکی ایوانِ نمائندگان میں منتخب ہونے والی دوسری ایرانی نژاد رکن بنیں، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ:تہران تقریباً 1 کروڑ آبادی کا بڑا شہر ہے۔ ایرانی عوام آزادی کے مستحق ہیں، مگر معصوم شہریوں کا قتل، بڑے پیمانے پر خونریزی یا ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر ان کے تہران سے شہریوں کو نکالنے کے مشورے کو جنگ کی دھمکی سمجھا جا رہا ہے۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں لڑاکا طیاروں کی منتقلی شروع کر دی گئی ہے۔ امریکی بیڑے کی مشق وسطی آمد امریکہ کی ایران اسرائیل جنگ میں شمولیت کو تقویت دے رہی ہے ،جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے بھی اپنے جہاز مشرق وسطی بھیج دئیے ہیں ،جس سے تیسری عالمی جنگ کا امکان بڑھ رہا۔ہماری دعا ہے کہ ایسا نہ ہو اور معاملات مزاکرات سے ہی حل ہو ں کیونکہ یہ خطہ عالمی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر امن کا نوبل انعام جیتنے کی خواہش کے باوجود دباؤ میں آ کر ایرانی قیادت کو سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ایران پہلے ہی مذاکرات کی میز پر موجود تھا۔برطانوی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے اور خلیجی ممالک میں موجود ان کے دفاعی نظام پہلے ہی ایرانی میزائلوں کو ناکارہ بنانے میں اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔
ادھر ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی میزائل حملوں سے تنگ اسرائیلی سمندری راستے سے ملک سے فرار ہونے لگے۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی حدود بند ہونے اور پروازیں معطل ہونے کے بعد اسرائیلی شہری کشتیوں کی ذریعے ملک چھوڑ کر قبرص جانے لگے ہیں۔اخبار کے مطابق ہرزلیا کے مرینا نے اب ایک عارضی ائیرپورٹ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اسرائیل سے نکلنے کے خواہش مند افراد یہاں صبح 7 بجے سے ہی پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں، یہ اپنی مخصوص یاٹ تلاش کرتے ہیں جو انہیں قبرص پہنچائے گی اور وہاں سے وہ کہیں بھی چلیں جائیں گے، انہیں بس اسرائیل سے نکلنا ہے۔روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان کی آئی اے ای اے کی رپورٹ کے منتظر ہیں۔روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر قائم ہونے کے مؤقف سے آگاہ ہیں، آگاہ ہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ رابطے دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے غیر قانونی ہیں۔روسی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیلی حملے عالمی سلامتی کیلئے ناقابل قبول ہیں۔دیگرعالمی ممالک نے بھی ایران اسرائیل تنازعہ کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ۔پاکستان اور سعودی عرب سمیت 20 ممالک کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے اور ایران کی حمایت کا بھی اعلان کیا ، اگر امریکہ اس جنگ میں کود پڑتا ہے تو یہ ایک خوفناک جنگ ہو سکتی ہے ،چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے، اس کے بعد ٹرمپ نے تہران کے رہائشیوں کیلئے ’ فوری طور پر انخلا’ کا انتباہ جاری کیا تھا۔اسرائیل اس جنگ میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو گھسیٹنا چاہتا ہے تاکہ ایران میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکے اور آیت اللہ خامنی کو شہید کر کے ان کے اٹیمی مرکز کو تباہ کر سکے ،ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مشرق وسطیٰ کے امن و سلامتی کے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دے دیا۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال ترک کردیں۔فرانسیسی ٹی وی رپورٹ میں مزید کہا کہ ایرانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ سوشل میڈیا سائٹ کے ذریعے ایرانیوں کا ڈیٹا اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز تک پہنچ رہا ہے۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو تہران میں ان کی گاڑی میں اہلیہ اور دو بیٹوں سمیت شہید کر دیا۔اسرائیل کی غنڈہ گردی امریکہ کی شہ پر جاری ہے اور اس کالم کے شائع ہونے تک تہران میں بڑی کاروارئی کا آغاز ہو چکاہو ۔اللہ ایران کی خیر کرے اور امت مسلمہ کو اکھٹنے ہونے کی توفیق عطا کرے آمین آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے سرکاری کامینٹری اکاؤنٹ سے ایک پیغام جو نہایت اہم ہے ۔جو انکی بیش بین نگاہوں کی غماز ہر ، چینی صدر کے مطابق دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔ اگر امریکا دنیا کا احترام کھو بیٹھا ہے تو وہی سبق سیکھے گا جو ہر زوال پذیر سلطنت نے بہت دیر سے سیکھا، کہ ’دنیا کسی کےلیے نہیں رکتی، ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔‘چینی صدر کے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس اکاؤنٹ پر تحریر جاری کی گئی ہے کہ سو سال پہلے، برطانوی سلطنت عالمی تجارت پر چھائی ہوئی تھی اور دنیا کی 20 فیصد دولت اس کے پاس تھی، لوگ سمجھتے تھے اس کا سورج کبھی نہیں ڈھلے گا۔تحریر میں لکھا گیا ہے کہ دو سو سال پہلے فرانس یورپ کے افق پر چھایا ہوا تھا، اس کی افواج سے لوگ ڈرتے تھے، اس کی ثقافت قابلِ رشک تھی، نپولین نے خود کو لازوال قرار دیا تھا۔چار سو سال پہلے ہسپانوی تخت و تاج منیلا سے میکسیکو تک حکومت کر رہا تھا، اس کے خزانے چاندی اور ریشم سے بھرے ہوتے تھے، ہسپانوی بادشاہ سمجھتے تھے کہ ان کی عظمت ہمیشہ باقی رہے گی، ہر سلطنت نے خود کو ناگزیر سمجھا لیکن ہر ایک کا سورج غروب ہوا۔ایکس پیغام میں لکھا گیا ہے کہ طاقت کمزور پڑ جاتی ہے، اثر و رسوخ بدل جاتا ہے اور قانونی حیثیت اسی لمحے دم توڑ دیتی جب اسے حاصل کرنے کے بجائے خود پر فرض کر لیا جائے، اگر امریکا دنیا کا احترام کھو بیٹھا، تو وہی سبق سیکھے گا جو ہر زوال پذیر سلطنت نے بہت دیر سے سیکھا ہے کہ دنیا کسی کے لیے نہیں رکتی، ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔




Good analysis