
دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں کچھ تبدیلیاں تو بڑی واضح اور نمایاں ہیں لیکن کچھ تبدیلیاں ابھی صرف محسوس کی جا رہی ہیں اور بہت کچھ پس پردہ ہے بظاہر دکھائی دینے والے حالات سے پوشیدہ حالات زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی بالادستی قائم رکھنے اور نئی طاقتیں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے جو چالیں چل رہی ہیں ان کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔
دنیا تبدیلی کے دوراہے پر کھڑی ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے دنیا کو سرد اور گرم جنگ دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے دنیا میں بالادستی کے لیے کچھ جنگیں اور کشمکش تو نظر آ رہی ہے لیکن بہت ساری چیزیں سرد جنگ کی صورت میں جاری ہیں سفارتی حربوں ٹریڈ وار اور جنم لیتے نئے تعلقات عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں عالمی سطح پر تعاون اور عدم تعاون کے پیدا شدہ حالات نئی گروپ بندیوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں ایسے حالات میں دنیا کروٹ لے رہی ہے روایتی معاملات الٹ پلٹ کا شکار ہیں۔
درجنوں ممالک نئی صف بندیوں میں مصروف ہیں اور اس کی سب سے بنیادی وجہ سپر پاور امریکہ کی دنیا کے بیشتر ممالک پر ان کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت ہے امریکہ اپنی روائیتی بالادستی کھو رہا ہے اس کے اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور کی چونکا دینے والی پالیسیوں نے سارا نظام درہم برہم کر دیا ہے دنیا کی معیشتیں ابھی کرونا کی تباہ کاریوں سے نکل نہیں پا رہی تھیں کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے سب کچھ تلپٹ کر دیا دنیا امریکہ کی اسلحہ فروخت کرنے، وسائل ہڑپ کرنے اور جنگیں مسلط کرنے کی پالیسیوں سے پہلے ہی تنگ تھی اوپر سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ظالمانہ ٹیرف کے ذریعے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
متاثرہ ممالک میں بیزاری پائی جانے لگی اور رہی سہی کسر مڈل ایسٹ کی جنگ نے نکال دی مڈل ایسٹ کی جنگ نے دنیا کی لڑکھڑاتی معیشتوں کو توانائی کے بحران سے دوچار کر دیا دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر نے جنم لیا امریکہ آبنائے ہرمز کامعاملہ حل کرنے میں تاحال ناکام ہے وہ دنیا کی بیزاری کو ختم نہیں کر پارہا امریکہ اسرائیل گھٹ جوڑ نے روائیتی اتحادیوں کو امریکہ سے دور کر دیا دنیا کے بیشتر ممالک نے امریکہ ایران جنگ کی مخالفت کی اور آج یورپ، نیٹو اور یو این او امریکہ سے اختلاف کر رہے ہیں۔
وینزویلا کے صدر کا اغوا اور گرین لینڈ پر قبضہ کے عزائم توانائی کے بحران ،ٹیرف اور یوکرائن کی جنگ نے یورپ کو امریکہ سے بدظن کر دیا امریکہ مڈل ایسٹ کے ممالک کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام رہا حالانکہ امریکہ عرب ریاستوں سے ان کی حفاظت کے نام پر اربوں ڈالر کئی دہائیوں سے اینٹھ رہا تھا ایران پر مسلط بے وجہ جنگ نے امریکہ کو بری طرح بےنقاب کر دیا ہے اس کی سپرمیسی خطرے میں پڑ گئی ہے اوپر سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔
امریکہ کو چین سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ہے حالانکہ ٹرمپ بہت بڑی توقعات لے کر چین گیا تھا وہ امریکہ کی 30 ٹاپ کلاس کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو سمیت سو کے قریب کاروباری شخصیات کو ساتھ لے کر گئے تھے جن میں ایلون مسک بھی شامل تھے یہ سب لوگ چین کی ترقی سے متاثر ہو کر لوٹ گئے چینی ٹیکنالوجی کا اتنا خوف تھا کہ مارے ڈر کے امریکی اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل بھی نہ کھول پائے کہ کہیں ان کے لیپ ٹاپ اور موبائل ہیک کرکے ان کا ڈیٹا لیک نہ ہو جائے چینی ٹیکنالوجی کا اتنا خوف تھا کہ امریکی وفد ملنے والے تحائف بھی چین میں ہی چھوڑ کر آ گئےکہ کہیں ان تحائف میں جاسوسی کے آلات نصب نہ ہوں چین نے اپنی روایتی مہمان نوازی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے امریکی صدر کا بھر پور استقبال کیا لیکن چینی صدر نے اپنی ذہانت کے ساتھ ایسے تاثرات ظاہر کیے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو ناک آوٹ کر دیا۔
امریکی صدر کو تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے سے روکنے سمیت مل کر چلنے کے فوائد اور مخاصمت کے نقصانات بھی گنوا دیے غیر محسوس طریقے سے سب کچھ کہہ دیا امریکہ اپنی کاروباری کریم کو چائنہ لانے کے باوجود کوئی بڑی کاروباری ڈیل نہ کر سکا نہ ہی کوئی مشترکہ ڈیکلریشن کرنے میں کامیاب ہو سکا نہ ہی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے اور ایران کی جنگ پر چین کی حمایت حاصل کر سکا اوپر سے چین نے ٹرمپ کے جانے کے فوری بعد روسی صدر پوتن کو بلوا لیا کچھ دنوں بعد پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف بھی چین کا دورہ کر رہے ہیں حالانکہ چند دن پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری چین کا دورہ کرکے آئے ہیں ۔
چین بین الاقوامی معاملات میں یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ باوقار سنجیدہ قیادت کے ساتھ دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کی اہلیت رکھتا ہے جبکہ امریکہ ہر معاملے میں غیر یقینی کا تاثر چھوڑ رہا ہے امریکہ اپنے رویوں سے بہت کچھ کھوتا جا رہا ہے جبکہ چین اپنی مستقل مزاجی سے بہت کچھ حاصل کرتا جا رہا ہے سپرمیسی کی جنگ میں کون جیتتا ہے اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا لیکن موجودہ حالات نے پوری دنیا کو سولی پر لٹکا رکھا ہے۔



