حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس، منزہ سحر کی نظم ، جواز جعفری کا مضمون تنقید کیلئے پیش

لاہور:(شہزاد فراموش سے) حلقہ ارباب ذوق لاہور کا نئے سیشن کا تیسرا تنقیدی اجلاس حسین مجروح کی صدارت میں ہوا جس میں منزہ سحر نے اپنی نظم ”تجارت“ تنقید کیلئے پیش کی۔ حاضرین کی آراء کے بعد حسین مجروح نے حتمی رائے دیتے ہوئے کہاکہ یہ نظم متعینات کے اورمعلوم کے درمیان سفر کر رہی ہے،شاعرہ کو چاہیے کہ معلوم کے علاوہ نامعلوم کی غمازی بھی کریں۔ بعد ازاں جواز جعفری نے اپنا مضمون ”ڈرامہ، موسیقی اور رقص کی مثلث“ تنقید کیلئے پیش کیا۔

شرکائے مجلس کی آراء سننے کے بعد صاحب صدارت نے کہا کہ مضمو ن میں لوک آرٹ، بھنگڑا، بیساکھی، لوہڑی کے رقص کی تشنگی رہی لیکن ایک بات ہے کہ جواز جعفری نے بنجر ورثے میں تازہ پانی ڈالا ہے۔یہ تنہا آدمی کے کرنے کا کام نہیں، تہذیبی زندگیاں ہم پر اس وقت تک عیاں نہیں ہونگی جب تک ہم ان روٹھے ہوئے علوم کیساتھ صلح نہیں کرینگے۔

الطاف حسن قریشی کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئی اور آفاتب جاوید نے قاضی ظفر اقبال کے افسانوی اور شعری مجموعے تقسیم کئے۔ اجلاس میں 80سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر حسین مجروح نے اپنی دو نظمیں اور ایک غزل سناکر داد سمیٹی۔غزل کا مطلع تھا
جس طرح بھید کو افزائی سے ڈر لگتا ہے
حسن کو اپنے ہی سودائی سے ڈر لگتا ہے۔



