لاہور (بیورو چیف) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پالیسیاں بناتے وقت تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلے، کیونکہ زمینی حقائق سے آگاہی کے بغیر کیے گئے فیصلے دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسی کمی کی وجہ سے کئی مسائل جنم لیتے رہے، تاہم اب حکومت اس پہلو پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
وہ گورنر ہائوس میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ وفد میں سینئر نائب صدر تنویر اقبال احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، نائب صدر سارک چیمبر میاں انجم نثار، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران وقاص اسلم، عامر سعید میاں، فردوس نثار، احسن شاہد، آمنہ رندھاوا، شعبان اختر، افتخار احمد، کرامت علی اعوان، عمر سرفراز، عرفان قریشی، علی عمران، زین الٰہی، محسن بشیر، عبدالمجید اور سید حسن رضا شامل تھے۔
گورنر نے کہا کہ کاروباری برادری تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے، جو ان کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صنعتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور ان کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے گی۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر نے گورنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاس کی جانب سے کاروباری برادری کو فوری رسپانس ملنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے مختلف صنعتی علاقوں خصوصاً سگیاں، فیروزپور روڈ، ملتان روڈ اور رائیونڈ روڈ پر قائم سیکڑوں صنعتیں اس وقت شدید مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان صنعتی علاقوں میں تقریباً چودہ سو سے زائد صنعتیں کام کر رہی ہیں جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں، مگر کمرشلائزیشن فیس اور دیگر انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کی بقا خطرے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان علاقوں کو فوری طور پر باقاعدہ صنعتی زون قرار دیا جائے اور فیسوں میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
صدر لاہور چیمبر نے حکومت کے صنعتی ریلوکیشن پلان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں نجی شعبے کو مکمل طور پر شامل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں اور صنعتکاروں کو درپیش عملی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ صرف ایک صنعت نہیں بلکہ اس کے ساتھ چالیس سے زائد دیگر صنعتیں منسلک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس سیکٹر کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کرے تاکہ سرمایہ کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو اور معیشت میں تیزی آئے۔
فہیم الرحمٰن سہگل نے انسانی وسائل کی ترقی پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی 60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے جدید مہارتوں سے آراستہ کر کے ایک بڑی معاشی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اس حوالے سے زبانوں اور ہنر کی تربیت کے مختلف پروگرامز شروع کر رہا ہے، جن میں چینی زبان کے بعد جاپانی، کورین اور جرمن زبانیں بھی شامل کی جا رہی ہیں تاکہ نوجوان عالمی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ انہوں نے ترسیلات زر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ریمیٹینسز برآمدات سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔
اس لیے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور بیرون ملک مواقعوں سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صدر لاہور چیمبر نے ملکی قیادت کی حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کا عالمی امیج بہتر ہوا ہے اور مستقبل میں اس کے مثبت معاشی اثرات سامنے آئیں گے، خصوصاً سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
گورنر نے مزید کہا کہ شہر کے اندر قائم صنعتوں کی منتقلی کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک مشکل مگر ضروری عمل ہے، تاہم اسے زبردستی نافذ کرنے کے بجائے مرحلہ وار اور باہمی مشاورت سے آگے بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت صنعتکاروں کو متبادل جگہ، بنیادی سہولیات اور مالی مراعات فراہم کرے تاکہ منتقلی کا عمل ہموار بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کا معاشی یا سماجی نقصان نہ ہو۔ گورنر نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی اہمیت پر بھی تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے درجنوں دیگر صنعتیں وابستہ ہیں، اور اس میں بہتری آنے سے معیشت کے دیگر شعبے بھی فعال ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کے حوالے سے مثبت پیش رفت شروع ہو چکی ہے اور آئندہ بجٹ میں مزید اقدامات متوقع ہیں۔



