انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

گلگت بلتستان الیکشن اور کشمیر میں احتجاج

سپیڈبریکر، میاں حبیب

گلگت بلتستان میں انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا ہے اور پیپلزپارٹی وہاں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے توقع یہ ہے کہ آزاد ارکان بھی حکومت کا حصہ ہوں گے اب یہ فیصلہ پیپلزپارٹی نے کرنا ہے کہ وہ مرکز میں اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کو شریک اقتدار کرنا چاہتی ہے یا آزاد ارکان کو اقتدار کا حصہ بناتی ہے۔

یاد رہے کہ آزاد ارکان میں سے زیادہ تر تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی اتحادی حکومت قائم ہو جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو مستقبل کی صف بندیاں واضح ہونا شروع ہو جائیں گی پیپلزپارٹی کی گلگت بلتستان میں میدان مارنے کے بعد اگلی نگاہیں کشمیر کے اقتدار پر ہیں جہاں اگلے مہینے الیکشن ہونے والا ہے لیکن پیپلزپارٹی کے لیے یہ کڑا امتحان ہے کیونکہ اس وقت کشمیر میں پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت ہے اور احتجاجی مظاہرین بہت بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں اور یہ ایشو انتخابات پر اثر انداز ہوں گے۔

گلگت بلتستان جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے بہت حساس علاقہ ہے ویسے تو پنجاب اور سندھ کے علاوہ پورا پاکستان بڑا حساس بن چکا ہے بلوچستان گوادر اور قدرتی وسائل کے حوالے سے بڑا اہم ہے دشمن کی پوری کوشش ہے کہ بلوچستان کے امن کو خراب کرکے اپنے مذموم مقاصد پورے کرے، خیبر پختون خواہ افغانستان کی وجہ سے بڑا حساس ہے گلگت بلتستان چین، افغانستان اور واخان پٹی و سی پیک روٹ کے باعث اہم ہے آزاد جموں کشمیر بھارت کے قبضہ میں کشمیر کے ساتھ لائن آف کنٹرول کے باعث، پانی کے ذخائر کی وجہ سے اہم ہے پنجاب اور سندھ کی بھی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن دشمن بلوچستان، خیبر پختون خواہ، کشمیر اور جی بی کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہے۔

10 مئی 2025 کے معرکہ حق بنیان المرصوص میں فتح کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اب دشمن اپنی سازشی چالوں کے ذریعے پاکستان کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کرے گا جس کے لیے دشمن نے افغانستان کے ذریعے پاکستان میں کارروائیوں کا آغاز کیا افواج پاکستان اس کے سدباب کے لیے ایک بھرپور مہم چلا رہی ہے لیکن دشمن بڑا مکار ہے وہ براہ راست مقابلے کی سکت نہیں رکھتا اس لیے وہ ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر متنازعہ امور کو ہوا دیتا رہتا ہے وہ پاکستان کے مختلف معاملات میں اختلافات پیدا کروانے کی کوششوں میں ہے۔

اس کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کیا جائے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں محرومیاں بھی ہیں مسائل بھی ہیں اور بعض جگہوں پر زیادتیاں بھی ہو رہی ہیں اور ان پہلووں کو ہوا دے کر دشمن پاکستان پر ایک نئی قسم کی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ ہمیں اندرونی معاملات میں الجھانا چاہ رہا ہے کیونکہ معرکہ حق اور عالمی سطح پر پاکستان کا کردار اسے ہضم نہیں ہو رہا ہمیں اپنے اختلافات باہمی گفت وشنید سے حل کرنا ہوں گے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں لے جانے چاہیں لیکن بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں نہ چاہتے ہوئے بھی عوام اور انتظامیہ ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔

قبل ازیں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیدہ چیدہ مطالبات حل ہو چکے تھے جن میں کشمیر کے لوگوں کے لیے سستی بجلی اور سستے آٹے کا معاملہ حل ہو گیا تھا لیکن اس بار آزاد کشمیر اسمبلی کی ان 12 نشستوں کا معاملہ ہے جو کشمیری مہاجر پاکستان سے منتخب کرکے بجھواتے ہیں عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ ان نشستوں پر پاکستان کا عمل دخل ہوتا ہے اور وہ ان نشستوں پر اپنی مرضی کے لوگ منتخب کروا کر آزاد کشمیر کی حکومت سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں لہذا یہ نشستیں ختم کی جائیں جبکہ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ معاملہ آئینی ترمیم سے وابستہ ہے کسی حکم کے ذریعے ان نشستوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا اس حوالے سے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا فیصلہ بھی آچکا ہے کہ ان نشستوں کو صرف پارلیمنٹ ختم کر سکتی ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے اس بارے میں 9جون کو احتجاج کی کال دے رکھی تھی لیکن اس سے قبل ہی کام خراب ہو گیا حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے انتظامات شروع کر دیے تو ایکشن کمیٹی نے بھی سیاحوں کو کشمیر سے نکل جانے کا الرٹ جاری کر دیا حکومت نے اسلام آباد پولیس پنجاب پولیس اور رینجرز کی 15 ہزار سے زائد نفری آزاد کشمیر بجھوا دی اور ساتھ ہی ساتھ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے کر پابندی لگا دی ۔

حکومت نے اس بار عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے لیے گرفتاریوں کا عمل شروع ہو چکا ہے مظاہرین راولا کوٹ ہسپتال کے باہر احتجاج کے دوران جاں بحق شاہ زیب کی نعش رکھ احتجاج کر رہے ہیں اور ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا حکم واپس لینے تک شاہ زیب کو نہ دفنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں دوسری جانب جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

معاملات گفتگو سے نکل کر سڑکوں پر آ چکے ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی سیاسی جماعتوں سے بڑھ کر عوامی قوت بن چکی ہے ان کے ساتھ طاقت کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے کمیٹی کے خلاف کارروائی میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اس سے قبل جو کچھ بھی کیا گیا جس طریقے سے سختی کی گئی وہ طریقہ اختیار کرنا درست نہ ہو گا بلکہ اس میں سپیڈبریکر کا ہونا ضروری ہے اور اس حد تک نہ جائیں کہ اپنے غیر کے ہاتھوں میں جائیں یا غیر کا ہاتھ سرگرم ہو جائے اگلے ماہ کشمیر میں انتخابات کا بھی اعلان کیا گیا ہے ایسے میں حالات کو نارمل رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ بروقت انتخابات کے انعقاد میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button