انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

عالمی امن، مسلم اتحاد اور طاقت کا عالمی تخمینہ

دنیا کی سیاست میں طاقت ہمیشہ مرکزی عنصر رہی ہے، مگر جدید دور میں طاقت صرف عسکری قوت تک محدود نہیں رہی۔ آج طاقت معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور داخلی اتحاد کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ جو قوم علم میں آگے ہے، تحقیق میں مضبوط ہے اور اتحاد میں پختہ ہے، وہی عالمی منظرنامے میں اپنا مقام مستحکم رکھتی ہے۔ مسلم دنیا وسائل، جغرافیہ اور آبادی کے اعتبار سے ایک بڑی قوت ہے، مگر باہمی اختلافات اس اجتماعی طاقت کو منتشر کر دیتے ہیں، اور یہی کمزوری عالمی سیاست کا سب سے بڑا خلا بن جاتی ہے۔
حالیہ علاقائی کشیدگی کو بعض مبصرین ایک بڑی اسٹریٹجک “کیلکولیشن” کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کے دوران بھارت کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کی گئی، جن میں Dassault Aviation کے تیار کردہ Dassault Rafale طیارے اور روسی ساختہ S-400 Triumf شامل ہیں۔ اس ماحول میں پاکستان کی عسکری صلاحیت، اس کی انٹیلی جنس اور دفاعی تیاری عملی طور پر آزمائش سے گزری۔ جب پاکستان نے مؤثر جواب دیا تو عالمی سطح پر اس کی پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف بھی سامنے آیا اور اس کی قیادت کو سفارتی اہمیت دی گئی۔

اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی گئی۔ Iran اور Israel کے درمیان تناؤ شدت اختیار کرتا گیا، جبکہ United States کے فوجی اڈے متعدد مسلم ممالک میں موجود رہے۔ اگر ایران کی جانب سے ردعمل سامنے آتا ہے تو جغرافیہ خود بخود اسلامی خطے کو میدانِ عمل بنا دیتا ہے، اور اس کا براہِ راست اثر بھی اسی خطے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا میں آیت اللہ Ali Khamenei کی شہادت سے متعلق نشر ہونے والے تجزیوں نے فضا کو مزید غیر یقینی اور سوگوار بنا دیا، جس سے واضح ہوا کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ قیادت اور ریاستی استحکام کے اعصاب پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں، چاہے وہ United States ہو، China یا Russia، جدید ترین ٹیکنالوجی کی مالک ہیں۔ انہوں نے خلا تک رسائی حاصل کی، جدید میزائل بنائے اور سائنسی برتری قائم کی، مگر ٹیکنالوجی توانائی کے بغیر بے جان ہے۔ تیل اور قدرتی وسائل اس عالمی نظام کی وہ “روح” ہیں جو صنعتی مشینری اور عسکری قوت کو حرکت دیتی ہیں۔ قدرت نے یہ وسائل بڑی حد تک اسلامی خطے کو عطا کیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ عالمی مفادات کا مرکز بنا رہتا ہے۔

تاریخ ایک تلخ تسلسل کی یاد دہانی کراتی ہے۔ جب Libya بحران کا شکار تھا تو خطہ منقسم رہا؛ جب Syria جل رہا تھا تو اجتماعی آواز کمزور تھی؛ جب Iraq عدم استحکام سے دوچار ہوا تو اتحاد نظر نہ آیا۔ آج اگر ایران دباؤ میں ہے اور پاکستان و افغانستان کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں تو سوال پھر وہی ہے کہ کیا مسلم دنیا نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے۔
اگر ہر ریاست صرف اپنے فوری مفاد اور اپنے محدود تحفظ تک سوچتی رہے گی تو اجتماعی طاقت کبھی مکمل صورت اختیار نہیں کرے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ کا میدان بھی یہی خطہ ہوگا، ذہنی دباؤ بھی یہیں مرتکز ہوگا اور وسائل بھی اسی کے خلاف استعمال ہوں گے۔ مسلم دنیا کو جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی: سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری، دفاعی صنعت میں خود کفالت، اقتصادی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی۔
طاقت کی اصل “کیلکولیشن” یہی ہے کہ جو منقسم ہو وہ دباؤ میں آتا ہے، اور جو متحد ہو وہ توازن قائم کرتا ہے۔ اتحاد کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے تحفظ، خود مختاری اور عالمی امن کے لیے ہونا چاہیے۔ اتحاد ہی بقا ہے، اور بقا ہی امن کی ضمانت۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button