
اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اور عوام غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر حکومت اور عوام کی جانب سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش بھی کرتا ہے، روایات کے مطابق ریاستوں کے سربراہان کو ہدف نہیں بنایا جاسکتا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم سید علی خامنہ ای کی روح کے لیے دعا گو ہیں، اللہ پاک ایرانی عوام کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کے زیرِ صدارت ملکی سکیورٹی پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بدلتی عالمی سکیورٹی اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جس میں پاکستان کی مغربی سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے جاری جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا جائزہ لیا۔ شرکاء نے پاک افواج اور فضائیہ کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرکوبی کے لیے موثر، جامع کارروائیوں کی تعریف کی، شرکاء کا پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور وقار کی ہر قیمت پر حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اور مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ہونے والے حملوں کے بعد کی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ علاوہ ازیں عالمی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں جامع و متفقہ قومی خارجہ و داخلہ پالیسی کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا۔ ادھر وزیراعظم نے اردن کے فرماں رواں شاہ عبداللہ اور بحرین کے فرماں روا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلیفونک رابطے کئے اور ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے اردن کے فرماں روا عبداللہ دوم ابن الحسین سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
جس میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ دونوں رہنمائوں نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی جو ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور اس کے نتیجے میں اردن اور دیگر علاقائی ممالک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وزیرِاعظم نے صورت حال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے فوری طور پر تحمل، کشیدگی میں کمی اور بامقصد مکالمے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے اس مشکل گھڑی میں مملکت اردن سمیت خطے کے دیگر برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کی جانب سے مکمل یک جہتی کا اعادہ کیا اور خطے میں امن کی بحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی۔
دونوں رہنمائوں نے علاقائی پیش رفت پر قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ بعد ازاں وزیراعظم نے بحرین کے فرماں روا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے کئی خلیجی ممالک بشمول مملکت بحرین پر جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کی بلا اشتعال جارحیت سے صورت حال مزید خراب ہوتی ہے اور پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے بحرین کی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان بحرین اور دیگر برادر خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور اس مشکل وقت میں تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان امن کی کوششوں کی حمایت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے گا اور تمام فریقین پر زور دے گا کہ وہ سفارت کاری سے بحران کا مذاکراتی حل تلاش کریں۔



