
امریکی اور یوکرینی صدور کے درمیان وائٹ ہاؤس میں تکرار کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ ولادیمیر زیلنسکی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا ’راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ مارک روٹے کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر زیلنسکی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے جو یوکرین کے لیے ہے اس پر انھیں ’عزت دینی چاہیے۔ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں امریکہ نے یوکرین کو جیولن اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کی فروخت کی منظوری دی تھی جس کے سبب یوکرین کو روس کے خلاف لڑنے کا موقع ملاٹرمپ کو کریڈٹ دینا پڑے گا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کشیدگی پر برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا سمیت یورپی ممالک نے یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی سے اظہار یکجہتی کیا ہےبرطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے زیلنسکی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ۔کینیڈا نے یوکرین کی حمایت پر کا اعادہ کیا اور کہا وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔اطالوی وزیراعظم نے امریکا، یورپی ریاستوں اور اتحادیوں کے درمیان سربراہی اجلاس کی ضرورت پر زور دیا۔جرمن چانسلر نے جرمنی اور یورپ پر انحصار کرنے کی پیشکش کی۔یوکرین تنازع پر یورپی رہنماؤ کے اجلاس سے قبل ہی زیلنسکی لندن پہنچ چکے ہیں ۔
صدر ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں اختلافات کھل کر سامنے آئے ۔ملاقات کے دوران بار بار جھڑپیں اور سخت جملوں کا تبادلے نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو واضح کر دیا ۔ بزنس مین ٹرمپ نے یوکرین میں نایاب معدنی ذخائر سے متعلق کہا تھا کہ اگر یوکرین، روس کے خلاف امریکہ کی حمایت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ ذخائر امریکہ کو دے دے۔تجویز کے جواب میں یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ میں اپنا ملک نہیں بیچ سکتا۔
امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کے مطابق اس طرح کی گرما گرمی عام طور پر عالمی رہنماؤں کے درمیان بند دروازوں کے پیچھے ہوتی رہی ہے، مگر اس بار یہ بحث دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے ایک ہجوم سے بھرے کمرے میں ہوئی۔ جس میں یوکرینی صدر دیگر عالمی رہنماؤں کے برعکس خاموشی سے بےعزتی سہنے کے بجائے ٹرمپ کے سامنے ڈٹے نظر آئے۔جس نے دیگر قوتوں ایک خفیہ پیغام بھی دیا اور دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی تلخ گفتگو کے سامنے آجانے سے ایک واضح عالمی اصول کی حقیقت دنیا کے سامنے پھر آشکار ہوئی ہے کہ بڑی طاقت کے مفادات جب تبدیل ہوجائیں تو پھر کمزور ملک بڑی طاقت کے ہاتھوں سرد مہری، برے سلوک اور لاتعلقی کا شکار ہوجاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ بھی ایسے واقعات سے بھرپور ہے ۔افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ ،طالبان کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کی بلاروک ٹوک حمایت ، 1965پاکستان،بھارت جنگ اور دیگر واقعات ہمارے سامنے ہیں جو سابق اور موجودہ پاکستانی حکمرانوں کی اختیار کردہ پالیسیوں کے نتائج کی وجہ سے ہے ۔2001 سے لیکراب تک امریکی حمایت کے نتیجے میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی یلغار جو پاکستان میں آئی جس میںہمارے ہزاروں لوگوں اور فوجیوں نے قربانیاں دیں وہ بھی سب کو یاد ہے ۔
ٹرمپ کی زیلنسکی کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لینے کی بات اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی نشان دہی بلغاریہ کی نابینا خاتون باباوانگا کی پیش گوئیوں میں کیا گیا ہے جس کے مطابق جیسے ہی شام تباہ ہو گا مغرب اور مشرق کے درمیان ایک عظیم جنگ ہو گی۔بابا وانگا کے مطابق 2025ء میں یورپ میں تباہ کن جنگ ہو گی اور آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوگی، زوال اور تباہی کا عمل 2025 سے شروع ہو جائیگا۔
بابا وانگا نے یورپ میں ایک بڑے تنازع کی پیش گوئی کی تھی جو 2025ء تک براعظم کی آبادی کو تباہ کرے گی، یہ پیش گوئی جو خاص طور پر جاری یوکرین اور روس میں جیو پولیٹیکل تناؤ کی روشنی میں پریشان کن ہے۔شاید ٹرمپ اس تیسری عالمی جنگ کو روکنا چاہتے ہوں ۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ زیلنسکی کو پیوٹن سے کتنی نفرت ہے۔ میرے لیے ایسے شخص کے ساتھ امن معاہدہ کرنا مشکل ہوگا جس کے دل میں اتنی شدید نفرت ہو۔
لیکن اگر دیکھا جائے پیوٹن بھی زیلنسکی کے لیے زیادہ اچھے جذبات نہیں رکھتے۔یورپی ممالک کی زیلنسکی کی حمایت کے بعدیورپی ممالک روس کے خلاف عسکری امداد کے لیے امریکہ کی جانب دیکھ رہے ہیں تو دوسری جانب یہی ممالک ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان غیر معمولی مکالمے کے بعد زیلنسکی کا ساتھ دیتے دکھائی دے رہے ہیں تو کیا یورپی ممالک جانتے ہیں کہ یوکرین میں امریکہ کی عسکری موجود گی کے بغیر روس کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں؟
یوکرینی صدر کیاامریکی صدر ٹرمپ سے تلخی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے باقی مصروفیات منسوخ کر کے زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے چلتا کردیا اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی منسوخ کر دی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جانے کے بعد یوکرینی صدر نے ٹرمپ سے تلخ کلامی پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ٹرمپ اور زیلنسکی کی جھڑپ کے دوران یوکرین کی امریکہ میں سفیر اوکسانا مارکارووا طویل وقت تک سر پکڑ کر بیٹھی رہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صورتحال یوکرینی وفد کے لیے کتنی پریشان کن تھی۔ امریکہ اور یوکرین بحران نیٹو میں شامل یورپی مُمالک اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کو ظاہر کر رہے ہیں ۔
تلخی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کیا صدر ٹرمپ اپنے پیشرو ہیری ٹرومین کا 1949 میں کیا گیا وعدہ پورا کریں گے کہ نیٹو اتحادی پر حملے کو امریکہ پر حملہ سمجھا جائے۔زیلنسکی کی امریکہ سے سلامتی اورتحفظ کی ضمانت کیا روسی صدر ولادمیر پیو ٹن کو یوکرین کے خلاف جارحانہ عزائم سے روک سکے گی؟ ۔روسی صدر غالب امکان کے طور پر جنگ کو ختم کرنے کے وعدے کو توڑ سکتے ہیں جو یوکرین کی حکومت اور عوام کے لیے تباہ کن ہو گا ۔




Zabardast article