ایرانی جدید ہتھیار محفوط،پرانے ذخائر استعمال ،طویل جنگ کا پلان؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب کھلی جنگ کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے اس تنازع کو ایک بالکل نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہےیہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک زلزلہ خیز لمحہ ہے۔

اس واقعے کو دو بنیادی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی نقطۂ نظر سے یہ ایک غیر معمولی اسٹریٹجک کامیابی ہے۔ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو نشانہ بنانا بظاہر انٹیلی جنس برتری اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی علامت سمجھا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جدید ٹریکنگ سسٹمز اور انٹیلجنس بیسڈ کارروائیوں پر فخر کا اظہار کر چکے ہیں، اور اسی تناظر میں اس کارروائی کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایرانی عوام کو اپیل کی گئی کہ وہ باہر نکلیں اور اقتدار سنبھال لیں، گویا ایک بڑی رکاوٹ ہٹا دی گئی ہو۔

لیکن کیا واقعی معاملات اتنے سادہ ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ اگر ایران اپنے سپریم لیڈر کو محفوظ مقام پر منتقل نہ کر سکا تو یہ یقیناً سیکیورٹی کی بڑی ناکامی ہوگی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے خود منظر سے ہٹنے کے بجائے خطرے کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر قوم کی اپنی نفسیات، تاریخ اور ثقافتی بنیادیں ہوتی ہیں۔ ایران کا ریاستی بیانیہ 1979 کے اسلامی انقلاب اور اس کے بعد کی مزاحمتی سیاست سے جڑا ہوا ہے، جس کے بانی روح اللہ خمینی تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای اسی تسلسل کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

ایرانی معاشرے میں شہادت کا تصور محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی بھی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا حوالہ ایرانی ریاستی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے بعید نہیں کہ اس شہادت کو کمزوری کے بجائے مزاحمت کی علامت بنا دیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی حملے اکثر داخلی اختلافات کو وقتی طور پر ختم کر دیتے ہیں۔ جن عوام کو معاشی مسائل پر احتجاج کے لیے متحرک کیا جا سکتا تھا، وہی عوام بیرونی حملے کی صورت میں ریاست کے پیچھے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ امریکہ اور اسرائیل پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان کا اصل مقصد ایران میں “رجیم چینج” ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف فضائی حملوں اور میزائل کارروائیوں کے ذریعے ایک نظریاتی ریاست کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ اب تک نہ تو امریکی زمینی افواج تعینات کی گئی ہیں اور نہ ہی ایران میں کوئی وسیع عوامی بغاوت نظر آ رہی ہے۔ ماضی میں ایران میں ہونے والے احتجاج زیادہ تر معاشی وجوہات، کرنسی کی گراوٹ اور ڈالر کی قلت سے جڑے تھے۔ موجودہ صورتحال میں بیرونی حملہ ایک مختلف ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔

علاقائی سطح پر سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد سے زائد خام تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے ایشیائی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتے ہیں، جبکہ یورپ بھی اس سپلائی چین سے جزوی طور پر وابستہ ہے۔ اگر آبنائے ہرمز متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ عالمی معیشت کو ہلا سکتا ہے۔

ایران کی حالیہ جوابی کارروائیوں، بشمول ڈرون اور میزائل حملوں، سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ تہران فوری طور پر پسپائی اختیار کرنے کے موڈ میں نہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران اس وقت اپنے پرانے اسلحہ ذخائر استعمال کر رہا ہے اور جدید ہتھیار محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایران طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے تاکہ مخالفین کو تھکا دیا جائے۔
خلیجی ریاستوں کے لیے صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ انہوں نے ابتدا میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی، مگر اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات نشانہ بنتی ہیں تو وہ کب تک خاموش رہ سکیں گی؟ کسی بھی عرب ملک کی براہِ راست شمولیت اس جنگ کو ایک وسیع علاقائی تنازع میں بدل سکتی ہے۔

ایران کی عسکری حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے اگر ہم 2003 میں امریکہ کی جانب سے عراق پر حملے کے بعد کے منظرنامے کو دیکھیں تو ایک گہرا پیغام سامنے آتا ہے: تہران نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی بھی مرحلے پر براہِ راست یا بالواسطہ محاذ کھل سکتا ہے۔ عراق پر امریکی مداخلت نے خطے کے طاقت کے توازن کو بدل دیا۔ صدام حسین کے خاتمے کے بعد عراق میں طاقت کا خلا پیدا ہوا جس سے ایران کو نہ صرف دفاعی تیاری کا موقع ملا بلکہ سیاسی و اسٹریٹجک گہرائی حاصل کرنے کا راستہ بھی کھلا۔

اسی دور میں ایران نے اپنی سیکیورٹی پالیسی کو بنیادی طور پر تبدیل کیا۔ اس نے روایتی جنگی تیاری کے بجائے غیر متوازن یا اسمیٹرک وارفیئر پر توجہ دی۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی اسے براہ راست بڑی طاقتوں کا سامنا کرنا پڑے تو وہ روایتی ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں میزائلوں، ڈرونز اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے جواب دے سکے۔
2003 کے بعد ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو تیز کیا۔ درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائل، جیسے شاہاب سیریز، ایران کے دفاعی نظریے کا مرکزی حصہ بن گئے۔ ایران جانتا تھا کہ وہ فضائی طاقت میں امریکہ یا اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے ایسے ہتھیاروں پر سرمایہ کاری کی جو فاصلے سے حملہ کر سکیں اور دشمن کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکیں۔

اسی دوران ایران نے اپنی پراکسی حکمت عملی کو بھی مضبوط کیا۔ عراق، لبنان، شام اور یمن میں اس نے ایسے نیٹ ورکس قائم یا مستحکم کیے جو کسی بھی ممکنہ جنگ میں براہ راست محاذ کھولنے کے بجائے متعدد محاذوں پر دباؤ ڈال سکیں۔ یہ ایک طرح سے دفاعی حصار تھا جو ایران کی سرحدوں سے باہر پھیلتا چلا گیا۔

حالیہ برسوں میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران مبینہ طور پر اپنے پرانے میزائل اور ڈرون اسٹاک کو زیادہ تعداد میں استعمال کر رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مقصد دشمن کے مہنگے دفاعی نظام کو تھکانا اور اس کے انٹرسیپٹر ذخائر کو کم کرنا ہے۔ جدید ترین میزائلوں کو محفوظ رکھنا ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہو سکتا ہے تاکہ طویل جنگ کی صورت میں آخری مرحلوں میں برتری حاصل کی جا سکے۔

یہ حکمت عملی دراصل War of attrition یا دشمن کو تھکانے کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ ایران کی سوچ یہ ہو سکتی ہے کہ اگر وہ بڑی طاقتوں کے دفاعی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھے تو وقت کے ساتھ ساتھ لاگت، وسائل اور سیاسی دباؤ مخالف فریق کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اس میں تعداد اور تسلسل کو تکنیکی برتری کے مقابل رکھا جاتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو ایران کی موجودہ پالیسی کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ 2003 کے بعد شروع ہونے والی ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ عراق پر امریکی حملے نے تہران کو یہ سبق دیا کہ اگلا ہدف کوئی بھی ہو سکتا ہے، اس لیے دفاع کو سرحدوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے خطے بھر میں پھیلانا ضروری ہے۔ آج اگر ایران پرانے ہتھیار استعمال کر رہا ہے تو یہ کمزوری کی علامت بھی ہو سکتی ہے اور ایک سوچی سمجھی حکمت عملی بھی — اصل سوال یہ ہے کہ اس کھیل کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون سا فریق ابتدائی مرحلے میں کامیاب رہا، بلکہ یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ کیا امریکہ بغیر زمینی افواج کے طویل جنگ جاری رکھ سکتا ہے؟ کیا ایران اپنی مزاحمتی حکمت عملی کو مزید وسعت دے گا؟ اور کیا عالمی طاقتیں اس آگ کو پھیلنے سے روک سکیں گی؟
میری رائے میں اس بحران کو محض عسکری کامیابی یا ناکامی کے پیمانے سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کو ایک علامتی شہادت میں بدل دیا گیا تو یہ اقدام اپنے فوری عسکری فوائد کے باوجود طویل المدتی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کا خلا اکثر مزید تصادم کو جنم دیتا ہے، امن کو نہیں۔ آنے والے دن نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔



