پاکستانتازہ ترینکالم

مہنگائی کی شرح واقعی 9سال کی کم ترین سطح پر ؟

انعام علوی،سینئر صحافی،تجزیہ کار

کچھ دن پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے افراط زر میں مسلسل کمی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی معاشی ٹیم کی بدولت معاشی اشاریے ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ‘میکرو اکنامک معاشی بہتری کا فائدہ عوام تک پہنچنا شروع ہو گیا ‘قوی امید ہے کہ افراط زر میں مزید کمی ہو گی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کی بدولت مہنگائی 9 سال 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

وزیر اعظم نے حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر اپنی کارکردگی کے اعدادو شمار پیش کرتے ہو ئے کہا تھاکہ افراط زر فروری 2025 میں 1.5 فیصد پر آ گئی جو ستمبر 2015 کے بعد سب سے کم شرح افراط زر ہے‘ جولائی 2024 سے فروری 2025 تک افراط زر کی اوسط 5.9 فیصد تک رہی جبکہ پچھلے مالی سال میں اسی عرصہ میں یہ اوسط 28 فیصد تھی ، یہ ایک نمایاں کمی ہے‘معیشت کی بہتری، کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں‘عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
حکومت کی جانب سے گزشتہ چند ماہ سے مہنگائی میں کمی کے دعوے تو کیے جارہے لیکن پاکستانی شہریوں کو گلہ ہے کہ افراط زر کی شرح میں لگاتار کمی کے باوجود مہنگائی کیوں کم نہیں ہو پا رہی؟ یہ ہی ایک بڑا سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گھو م رہا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام آدمی کی قوت خرید پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ۔ عام آدمی اب چیزیں خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے اِن چیزوں کی طلب کم ہوئی اور اب وہ فروخت نہیں ہو پا رہیں اور یہ عمل ملکی معیشت کی مجموعی گروتھ کے لیے ایک منفی پہلو ہے۔

ادارہ شماریات کے گزشتہ ہفتے کے جاری اعداد وشمار کے مطابق جن اشیاء کی قیمتوںمیں اضافہ ہوا ہے ان میں تازہ پھلوں کی قیمت میں 14.99 فیصد، چینی 9.35 فیصد،مکھن 5.61 فیصد، مصالحہ جات 1.59 فیصد،بیکری 1.19 فیصد،مشروبات 1.16 فیصد، شہد1.12 فیصد، بناسپتی گھی 0.66 فیصد، گوشت 0.46 فیصد،چاول 0.39 فیصد، کوکنگ آئل 0.35 فیصد، تیارخوراک 0.33 فیصد، لوبیا 0.21 فیصد اورخشک دودھ کی قیمت میں 0.03 فیصد کااضافہ ہوا۔

رہائشی اخراجات میں ماہانہ بنیادوں پر5.07 فیصد، میکنیکل خدمات 0.89 فیصد، ڈاکٹرکلینک فیس 0.80 فیصد، موٹرفیول 0.75 فیصد، تعمیراتی شعبہ میں اجرت کے نرخ 0.74 فیصد پلاسٹک مصنوعات 0.63 فیصد اورڈینٹل خدمات کے اخراجات میں 0.51 فیصد کااضافہ ہوا۔

دوسری جانب عام عوام کی کھانے پینے کی روزمرہ کی اشیاء کے بھاؤ اتنے زیادہ ہیں کہ سفید پوش طبقہ مہنگائی میں پس چکا ہے ۔سبزیاں بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ۔سبزیاں لاہورسمیت کئی شہروں میں جس ریٹ پر فروخت ہو رہی ان میں آلودرجہ اول فی کلو60 روپے،پیازدرجہ اول فی کلو80 روپے،لہسن چائنہ فی کلو 300 روپے،لہسن دیسی فی کلو 385 روپے،کھیرا فارمی فی کلو 100 روپے،بھنڈی درجہ اول فی کلو90 روپے،لیموں دیسی فی کلو 690 روپے،کریلا درجہ اول فی کلو 160 روپے شامل ہے ۔ مٹن کی تو بات ہی نہ کریں مٹن کا گوشت فی کلو 2400 سے 2500 روپے،گائے / بیف گوشت فی کلو 1,300 روپے،مرغی برائلرزندہ فی کلو 411 روپے،مرغی برائلر گوشت فی کلو 695 روپے جبکہ انڈےفارمی فی درجن286 روپے فروخت ہو رہے ہیں ۔پھلو ں کےریٹ کم و بیش یہ ہیںسیب کالا کلو پہاڑی درجہ اول فی کلو سے203 سے 300 روپے،امروددرجہ اول فی کلو150 روپے،کیلادرجہ اول فی درجن125 روپے،گرمادرجہ اولفی کلو 155 روپے،آڑو درجہ دوئم فی کلو 170 روپے میں فروخت ہو رہا ۔
ماہرین کے مطابق افراط زر کی اصطلاح اگرچہ حکومت کے استعمال کے لیے ہے عام افراد کے لیے مہنگائی کا مطلب چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے جب کہ افراط زر اکنامک منیجمنٹ سے متعلق ایک اصطلاح ہے۔حکومت نے ا افراط زر کی شرح جانچنے کے لیےکنزیومر پرائس انڈیکس میں چند اشیا اور اُن کی قیمتوں کو رکھ کر جو پیمانہ ترتیب دیا ہے اور جن سے اشیا کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کی بنیاد پر افراط زر کی شرح کا تعین کیا جاتا ہے عوام کو اس سے کوئی سرکار نہیں ۔

عوام کو روز مرہ کی اشیا سستی چاہیے ۔سبزیوں سے لیکر گوشت پھل فروٹ ،اور لباس سمیت ہر وہ چیز جو ایک عام آدمی استعمال کرتا ہو اسے وہ اس قیمت پر چاہیے جس کی اسے اسکی جیب اجازت دیتی ہو ۔
عوام ان تمام معاملات میں بطور چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم کو ملکی سطح پر اور پنجاب کی سطح پر بطور خاص وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ افرط زر کی شرح چاہے دس سے پندہ فیصد کم ہو جائےلیکن انہیں تو کھانے پینے کی اشیاء سستی چاہیے ۔

انہیں آلو پیاز ،ٹماٹر ،گوشت، دالیں ،پھل فروٹ،بچوں کی سکول کی فیسں سستی چاہئے ۔تاکہ وہ ایک آسودہ حال زندگی گزار سکے ۔ حکومت اور حکومتی اداروں کا بھی یہ فرض ہے کہ انہیں یہ اشیاء انکی قوت خرید کے مطابق مہیا کریں یہ تب ہو گا جب مارکیٹ پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال ہونگی خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کو تنبیہ اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ۔

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button