پاکستانتازہ ترینکالم

میو ہسپتال سانحہ،کیا وزیر صحت اور سیکرٹری صحت استعفی دینگے؟

انعام علوی ۔۔سینئر صحافی تجزیہ کار

میو ہسپتال لاہور کے چیسٹ وارڈ میں انجیکشن کے ری ایکشن سے دو انسان جان کی بازی ہار گئے جبکہ دیگر 14 مزید مریض بھی متاثر ہیں اور علاج کے لیے ہسپتال میں اپنے ٹھیک ہونے کی دعائیں کر رہے ہیں ۔ویکساسیفٹرائی ایگزون انجکشن سے اتوار کے روز 36 سالہ مریضہ نورین جاں بحق ہو ئی تھی جبکہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا جانیوالا26سالہ دولت خان بھی جاں بحق ہو گیا ۔ذرائع کے مطابق عملے کی جانب سے پاؤڈر میں ملانے کے لیے پانی کے بجائے غلط لیکوئیڈ کا استعمال ری ایکشن کی وجہ بنا۔کمپنی کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاؤڈر اینٹی بائیوٹک انجکشن کو مکس کرنے کے لیے پانی کا استعمال کیا جائے، رینگر لیکٹیٹ اور کیلشیم گلو کونیٹ میں مکس نہ کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق انجکشن کو مکس کرنے کے لیے پانی کے بجائے رینگرلیکٹیٹ اور کیلشیم گلوکو نیٹ استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ری ایکشن ہوا۔یہ انجیکشن پھیپھڑوں کے بیکٹرئیل انفیکشن کے علاج کے لیے ہے، انجیکشن لگانے کے پندرہ بیس منٹ بعد مریض کانپنے لگے، انہیں تیز بخار ہوا اور سانس پھولنا شروع ہوگئی
وزیر صحت پنجاب سلمان رفیق نے میو ہسپتال لاہور میں انجکشن کے مبینہ ری ایکشن کو انسانی غلطی قرار دے دیا۔ انجکشن پاؤڈر تھا اس کو محلول بنانے میں غلطی ہوئی۔انجکشن سیفٹرائی ایگزون کے استعمال کو فوری طور پر روک دیا گیا تاکہ مزید لوگوں کی اموات کو روکا جا سکے ۔میو ہسپتال لاہور پاکستان کے قدیم ترین اور بڑے ہسپتالوں میں سے ایک ہے۔ یہ کالج پاکستان کی مشہور ترین اور جنوبی ایشیا کی دوسری قدیم ترین شاہ(کنگ) ایڈورڈ یونیورسٹی برائے طب سے الحاق شدہ ہے۔ میو ہسپتال کی عمارت 1870ء میں مکمل ہوئی اور 1871ء میں اس میں کام کا آغاز ہوا۔ ہسپتال کو اس وقت کے برطانوی ہندوستانی وائسرائے رچرڈ برک، مایو کا چھٹے امیر کے نام سے موسوم کیا گیا جولارڈ مایو کے نام سے مشہور تھا۔ ہسپتال کا طرز تعمیر اطالوی ہے، پودن نے اس کا نقشہ بنایا اور رائے بہادر کنہیا لال نے تعمیر کروایا جو وقت کے مشہور ماہرین تعمیرات میں سے ایک تھے۔ تاہم تعمیراتی اثرات وسطی دور میں تعمیر شدہ مالدیپ کے ہسپتالوں سے ملتے ہیں۔ہسپتال میں بیرونی مریضوں کے علاج کے لیے
42 شعبہ جات ہیں جن میں ادویات، جراحی اور دیگر ذیلی شعبہ جات شامل ہیں۔2000 فی دن کی اوسط سے بیرونی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہےسالانہ دیکھے جانے والے مریضوں کی تعداد ہنگامی شعبہ میں 8,35,136 سے 2,25,653 اور شعبہ بیرونی مریضاں میں 6,09,483 ہے۔
میو ہسپتال کا اپنی قدیم تاریخ کی بنا پر لاہور کے ہسپتالوں میں ایک نام رکھتا تھا لیکن جب سے نوکر شاہی اور دیگر عوامل شامل ہوئے تو اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان پڑنا شروع ہو گیا ہے ۔عوام کو صحت کی سہولتیں پہلے ہی میسر نہیں اور غلط انجیکشن کی وجہ سے دو ہلاکتوں نے عوام میں خوف کی فضا قائم کر دی ہے ۔
وزیر اعلی پنجاب نے میو ہسپتال سانحہ کے لیے کمیٹی تو قائم کر دی لیکن چند دن پہلے ایک سینئر ڈاکٹر کو کیمروں کے سامنے بےعزت کر کے نکال کر دیگر ڈاکٹروں میں بے چینی پھیلا دی ہے ،ڈان میں شائع ہمارے دوست آصف چوہدری کی خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حال ہی میں میو ہسپتال لاہور کے دورے کے دوران مریضوں کی جانب سے ادویہ کی قلت کی شکایات پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود کے بارے میں متنازع بیان نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا، جب یہ بات سامنے آئی کہ ایم ایس پہلے ہی ادارے کے 3.5 ارب روپے کے بقایاجات کے باعث استعفیٰ دے چکے ہیں جبکہ وزیر صحت اور سیکریٹری مبینہ طور پر اس معاملے سے بخوبی واقف تھے۔ خبر کے مطابق مطابق طبی برادری نے وزیراعلیٰ کے طرز پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے اقدام کو پیشے کے تقدس کے لیے ایک دھچکا قرار دیا۔ اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے طبی برادری نے کہا کہ اس سے پنجاب کے وزیر صحت اور سیکریٹری کی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے جنہوں نے گزشتہ دو سال سے میو ہسپتال کو درپیش مالی بحران کے بارے میں حکومت اور عوام کو گمراہ کیا۔سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود بھی مبینہ طور پر وزیر صحت کے ہمراہ دو مرتبہ ہسپتال آئے اور فنڈز کی کمی کا معاملہ ان کے سامنے رکھا گیا۔

ایم ایس کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا کہ وینڈرز نے اربوں روپے کے بقایاجات کے باعث ادویات کی فراہمی بند کردی ہے اور ہر گزرتے مہینے کے ساتھ صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ہسپتال کے تقریباً پانچ دورے کیے اور ہر دورے میں ادارےکی انتظامیہ نے انہیں فنڈز کی شدید قلت اور مریضوں کی شکایات سے آگاہ کیا۔ لیکن ان کا مداوا نہیں کیا گیا اور مریضوں کی ہلاکت کا سانحہ پیش آگیا میو ہسپتال کے حوالے سے گذشتہ مہینوں کے دوران ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ یہاں مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادویات کی قلت کے علاوہ چند دن پہلے ہسپتال کی ایک لفٹ گِرنے کے باعث نرسنگ کے عملے کے 10 افراد زخمی ہوئے تھے۔

کیا ان تمام معاملات کے بعد وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود اخلاقی معیار کو بلند کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفی دینگے یا انہیں اب بھی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی کرسی عزیز ہے۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button