
جنوبی افریقہ نے بھارت کو 408 رنز کے بھاری مارجن سے گوہاٹی میں ہرا کر ٹیسٹ سیرہز 2 ۔0 سے جیت لی ، اس سال آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو ہراہا ،پھر پاکستان سے ایک ایک سے ٹیسٹ سیریز برابر کی اب بھارت 2 ۔0 سے تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔
پہلے کولکتہ اب گوہاٹی ، بھارت کو پچھلے سال نیوزی لینڈ میں بھی 3 ۔0 سے ٹیسٹ سیریز میں ہراہا تھا یہ بھارت کی ہوم گرائونڈ میں مسلسل پانچویں شکست ہے سارا ملبہ کوچ گوتم گھمبیر پر گر رہا ہے جن کے بارے تاثر پختہ ہو گیا ہے کہ وہ ریڈ بال کرکٹ کے اچھے کوچ نہیں ہیں ، انکی کوچنگ میں بھارت آسٹریلیا سے 3 ۔1 سے ہارا آسٹریلیا میں انگلینڈ سے انکے گھر میں 2 ۔2 سے برابر رہے ۔
ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش جیسی کمزوڑ ٹیموں سے چاروں ٹیسٹ میچز جیت لیے ، مگر نیوزی لینڈ نے بھارت میں 3 ۔0 اور سائوتھ افریقہ نے 2 ۔0 سے کامیابی حاصل کی ، گوتم کی کوچنگ میں بھارت نے ون ڈے چیمپئنز ٹرافی کی فاتح رہی اور ٹی ٹونٹی ایشیا کپ کی ونر رہی ، عین مکمن ہے گوتم گھمبیر کی کوچنگ وائٹ بال کرکٹ تک محدود کر دی جائے ان پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ سپیشلسٹ بیٹرز کو موقع نہیں دیتے۔
آل رائونڈرز پر انحصار کرتے ہیں ، اجناکا رانیے اور سرفراز خان جیسے ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین بیٹرز ٹیم سے باہر روی چندران ایشیون دل برداشہ ہو کر کرکٹ چھوڑ گئے اب محمد شامی بھی چیف سلیکٹر اجیت اگرکار اور کوچ گوتم گھمبیر کی گڈ بکس میں نہیں ہیں ، جنوبی افریقہ کے کپتان لاوڈ باووما ہنسی کرونئے اور گراہم سمتھ کے بعد سائوتھ افریقہ کے بہترین کپتان بن چکے ہیں انکی کپتانی میں سائوتھ افریقہ نے 13 میں سے 12 ٹیسٹ جیتے اور ایک ڈرا کیا ہے ، اس ٹیسٹ سیریز کے دیگر ہیروز ، متشامی ، مارکو جنسن اور ساہمن ہارمر ہیں۔



