انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی اور یورپ میں بے چینی

ایازخان

ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب عالمی سیاست میں زبردست تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ یوکرین جنگ، چین اور روس کی بڑھتی ہوئی قربت، یورپ میں صنعتی زوال اور امریکہ کی عالمی ساکھ میں کمی جیسے عوامل نے 2017 کے مقابلے میں دنیا کو کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی واپسی اور حکمت عملی بین الاقوامی تعلقات کے منظرنامے کو مزید غیر متوقع بنا رہی ہے۔

ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے اقتدار سنبھالتے ہی یوکرین کے لیے امریکی امداد بند کر دی اور یو ایس ایڈ کی فنڈنگ روک دی، جس کے نتیجے میں یوکرینین میڈیا کا 90 فیصد مالی تعاون ختم ہو گیا۔ اس فیصلے سے واضح ہو گیا کہ واشنگٹن اب یوکرین جنگ میں مزید سرمایہ اور وسائل جھونکنے کے بجائے پیچھے ہٹنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ” ڈکٹیٹر” قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل چکے ہیں جو جیتی نہیں جا سکتی۔ ٹرمپ کے مطابق، جو بائیڈن کی ناکام پالیسیوں نے امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، مگر وہ اس ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے اقتدار میں واپس آئے ہیں۔

یوکرین کے مسئلے پر امریکی پسپائی نے یورپ میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یورپی یونین، جو پہلے ہی قیادت کے بحران، اندرونی عدم استحکام اور معاشی زوال کا شکار ہے، اب اپنی سلامتی کے حوالے سے ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔ جرمنی میں صنعتی زوال جاری ہے، نیٹو میں دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں، اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک اب امریکہ پر کم انحصار کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، مارکو روبیو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ "ریاستیں ہمیشہ اپنے مفادات کی پیروی کرتی ہیں، اور جہاں مفادات میں ٹکراؤ ہو، وہاں سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔” یہ بیان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اب حقیقت پسندی (Realism) کے اصولوں کو اپنا رہی ہے، جس میں طاقتور ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور غیر ضروری جنگوں سے گریز کرتے ہیں۔

امریکی خارجہ پالیسی میں اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ گریٹ پاورز کو اپنے اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں توازن برقرار رکھنے دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن روس کے خلاف غیر ضروری تنازعے میں الجھنے کے بجائے امریکی مفادات پر فوکس کر رہی ہے۔
اب تک امریکہ نے لبرل انٹرنیشنل ازم (Liberal Internationalism) کی پالیسیوں کے تحت ہمیشہ نیٹو اور بین الاقوامی اتحادوں پر انحصار کیا اور عالمی تنازعات میں شامل ہونا ضروری سمجھا۔ مگر حقیقت پسندی (Realism) کی پالیسی کے تحت طاقتور ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی طاقت کی حدود کو سمجھتے ہوئے پالیسی مرتب کرتے ہیں۔

ٹرمپ کی پالیسی کا ایک اور نمایاں پہلو مغربی نصف کرہ (Western Hemisphere ) میں امریکی بالادستی کو دوبارہ مستحکم کرنا ہے۔ اسی لیے انہوں نے گرین لینڈ کو خریدنے یا اسے ضم کرنے کی خواہش ظاہر کی، پاناما کینال کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی دھمکی دی تاکہ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کا راستہ روکا جا سکے۔

کینیڈا کو ٹرمپ نے امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا عندیہ دیا اور میکسیکو سمیت دیگر ممالک پر تجارتی دباؤ بڑھانے کے لیے نئے ٹیرف لگانے کی تجویز دی۔ یہ اقدامات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اپنی توانائیاں یورپ اور مشرق وسطیٰ کے بجائے اب مغربی نصف کرہ (Western Hemisphere) میں امریکی غلبہ بحال کرنے پر مرکوز کر رہی ہے۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر قبضے سے متعلق اپنے پہلے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ پر قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے اپنے منصوبے کو مسلط کرنے کے بجائے صرف اس کی "سفارش” کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی رہنماؤں اور عرب ممالک کی جانب سے اس منصوبے کی مسلسل مخالفت جاری ہے۔

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو دیکھا جائے تو صرف عسکری اور سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ وہ یورپی یونین پر معاشی دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔

یورپ کی معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے۔ امریکہ اور چین نے یورپ معاشی ترقی اور خاص طور ہائی ٹیک انڈسٹری کے حوالے سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ناقدین اس کی وجہ فرسودہ پالیسیاں، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی کمی اور داخلی بحرانوں کو قرار دیتے ہیں جس سے یورپ کی عالمی حیثیت کمزور ہو چکی ہے۔

یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکہ-چین تجارتی تنازعے نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دوبارہ اقتدار سے یورپی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر 10 فیصد ٹیرف کی تجویز اس کی کمزور معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یورپی کارسازی صنعت، خاص طور پر ووکس ویگن، برقی گاڑیوں کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہے، جبکہ فرانس قرضوں اور بجٹ خسارے میں دھنستا جا رہا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک یورپ کا عالمی معیشت میں حصہ 10 فیصد سے بھی کم ہو سکتا ہے۔

دفاعی اخراجات میں اضافے کے باوجود، یورو کی گرتی ہوئی قدر اور جدید ٹیکنالوجی میں کمزوری یورپ کو جمود کی طرف لے جا رہی ہے۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو داخلی بحران، سیاسی انتشار اور عالمی اثر و رسوخ کی مزید کمی یورپ کو طویل مدتی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگر امریکہ یورپ پر دبائو ڈالتا رہا تو کمزور ہوتا ہوا یورپ جو ہمیشہ امریکہ پر انحصار کرتا آیا ہے، اب چین یا دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے سی این این کے معروف تجزیہ کار فرید زکریا نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کے صدر کے خلاف بیانات اور ممکنہ اقدامات کو امریکی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جو اب تک لبرل ڈیموکریٹک بنیادوں پر تھی۔
فرید زکریا کے مطابق اگر امریکہ یوکرین سے دستبردار ہو گیا تو یورپ اپنی سلامتی کے لیے دیگر طاقتوں، خاص طور پر چین کے ساتھ قریبی تعلقات بنانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ زکریا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی قیادت کی عدم موجودگی یورپ میں ایک خلا پیدا کرے گی، جس کا فائدہ ماسکو اور بیجنگ اٹھا سکتے ہیں۔

اب اگر ٹرمپ کی پالیسیوں کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ ایک نئے ملٹی پولر عالمی نظام کی طرف اشارہ کر رہی ہیں، جہاں امریکہ مغربی نصف کرہ (Western Hemisphere) میں اپنی گرفت مضبوط کرے گا، روس کو مشرقی یورپ میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھنے کا موقع میسر ہوگا اور چین کے خلاف معاشی اور تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرے گی۔
یہ منظرنامہ عالمی سیاست میں ایک نئی سرد جنگ کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے اپنے علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھانے پر توجہ دیں گی بجائے اس کے کہ وہ عالمی سطح پر مداخلت کریں۔

لیکن امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کی قیمت یورپ کو زیادہ چکانا پڑے گی جس کا امریکہ پر بڑا سکیورڑی اور معاشرتی اور انحصار ہے۔

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button