انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

امریکہ کا الیکٹورل سسٹم شفاف: جوبائیڈن نے عوام کا فیصلہ قبول کر لیا، پرامن انتقال اقتدار کا اعلان

الیکشن میں شکست کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہار مان لیں گے، کملا ہیرس نے بہترین انتخابی مہم چلائی، مضبوط معیشت چھوڑ کر جارہے ہیں، نومنتخب صدر ٹرمپ کو فون، ملاقات کی دعوت

واشنگٹن، ریاض، بیجنگ(ویب ڈیسک )امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کا الیکٹورل سسٹم شفاف ہے، عوام کا فیصلہ قبول کرتے ہیں۔ جوبائیڈن نے صدارتی انتخابات کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کے جو انتخاب کیا ہے ہم اس کو قبول کرتے ہیں، 20جنوری کو پرامن انتقال اقتدار ہوگا۔ جوبائیڈن نے کہا کہ انتخابات میں شکست کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہار مان لیں گے، کملا ہیرس نے بہترین انتخابی مہم چلائی، ہم نے تاریخی صدارت کی اور امریکہ کی مضبوط معیشت چھوڑ کر جارہے ہیں۔ مزید برآں جوبائیڈن نے دوسری بار صدر منتخب ہونے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دی ہے۔ وائٹ ہائوس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جوبائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنانے کا عہد کیا اور نو منتخب صدر کو وائٹ ہائوس آنے کی دعوت دی۔ بیان میں کہا گیا کہ جو بائیڈن نے ڈیموکریٹ امیدوار و نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کی اور ملک کو اکٹھا کرنے کے لئے کام کرنے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے 4سال قبل وائٹ ہائوس سے نکالے جانے والے شخص کو اوول آفس میں ملاقات کیلئے بلایا ہے تاکہ انہیں آفس کی چابیاں دوبارہ دینے کی تیاری کی جا سکے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جوبائیڈن کے اقدام کو سراہا ہے اور وہ جلد ہونے والی اس ملاقات کے منتظر ہیں۔

چینی صدر اور سعودی ولی عہد کے ٹرمپ کو فون، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی طرف سے بھی مبارکباد: ایوان نمائندگان میں صورتحال پیچیدہ، حتمی نتائج میں ممکنہ طور پر ایک ہفتہ لگے گا

وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بائیڈن کے چیف آف سٹاف نے صدارتی منتقلی کو منظم طریقے سے شروع کرنے کے لیے ٹرمپ کی ٹیم پر ضروری وفاقی معاہدوں پر دستخط کرنے پر زور دیا۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کے درمیان تعلقات، بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہیں۔ انتونیو نے امریکہ کے منتخب صدر کو مبارکباد دینے کے لیے ایک تحریری بیان جاری کیا۔ گوتریس نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ امریکہ کی نئی منتخب حکومت کے ساتھ دنیا کے درپیش بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعمیری انداز میں کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ مزید برآں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ولی عہد نے ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے مملکت اور امریکہ کے مابین تاریخی اور سٹرٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور ان کی قیادت میں امریکی عوام کی خوشحالی و ترقی کی خواہش ظاہر کی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ولی عہد کی جانب سے پیش کی جانے والی مبارک باد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی عوام کے حوالے سے ان کے جذبات و احساسات کی تعریف کی۔
مزید برآں چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا اور انہیں دوسری بار امریکہ کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ خوشگوار تعلقات دونوں ملکوں اور دنیا کے مفاد میں ہیں ۔ امید ہے دونوں ممالک باہمی احترام کے اصولوں کو برقرار رکھیں گے۔ چینی صدر نے نومنتخب امریکی ہم منصب سے کہا کہ اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اور ساتھ چلنے کا نیا راستہ تلاش کریں تاکہ اس کا فائدہ پوری دنیا کو ہو۔ دوسری طرف امریکی ایوان میں فی الحال ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس میں سے کسی کو اکثریت حاصل نہیں ہو سکی اور توازن کسی بھی طرف جا سکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایوان کی موجودہ صورتحال کے باعث متحد گورننس کے نئے دور کا آغاز ہو گا یا پھر ڈیموکریٹس کے حق میں پلڑا جھک گیا تو وہ صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں گے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے حتمی نتائج میں ابھی ممکنہ طور پر ایک ہفتہ لگے گا جبکہ چند انفرادی نشستیں حتیٰ کہ ایک بھی نشست کا نتیجہ توازن کو بدل سکتا ہے۔ ریاست مغربی ورجینیا، اوہائیو اور مونٹانا میں نشستیں جیت کر ریپبلیکنز سینیٹ میں اکثریت میں آ گئے ہیں جس کے بعد ہائوس کے سپیکر مائیک جانسن نے پیشگوئی کی ہے کہ اب ان کے چیمبر کی باری ہے۔ مائیک جانسن نے کہا کہ ریپبلیکنز وائٹ ہاس، سینیٹ اور ہائوس میں متحد حکومت کے لیے تیار ہیں۔ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے ڈیموکریٹک نائب صدر کملا ہیرس کے خلاف مقبول ووٹ حاصل کیا، اپنی تحریک کے ارد گرد بڑھتی ہوئی طاقت کو مستحکم کر لیا ہے اور اب وائٹ ہائوس میں اپنی واپسی کی تیاری کے دوران نئے شامل ہونے والوں کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔ ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ کانگریس میں ریپبلیکن پارٹی کے نمائندے ٹرمپ کے ساتھ جوش و خروش سے پہلے 100 دن کا ایجنڈا تیار کر رہے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی حکومت کے ایجنڈے کے بارے میں واضح اعلان کر چکے ہیں جس میں ٹیکسوں میں کٹوتی، جنوبی سرحد کو غیرقانونی پناہ گزینوں کے لیے بند کرنا شامل ہے۔ ٹرمپ متعدد بار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد کو واپس بھیجیں گے۔ مائیک جانسن نے کہا کہ ریپبلیکنز واشنگٹن سے وفاقی ایجنسیوں کو نکالنا چاہتے ہیں اور باہر کے تھنک ٹینکس کی مدد سے حکومتی ورک فورس لانا چاہتے ہیں تاکہ مرکزی حکومت کو درست کیا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button