اوکاڑہ : کھڈا اکلوتا جوان بیٹا کھاگیا، والدین غم سے نڈھال،کیا مریم نواز نوٹس لیں گی؟
اوکاڑہ:(ویب ڈیسک) اوکاڑہ کے نواحی علاقے جبوکا میں انتظامیہ اور ٹھیکیدار کی مجرمانہ غفلت نے ایک ہنستے کھیلتے گھرانے کی خوشیاں سدا کے لیے اجاڑ دیں۔ ستگھرہ تا بنگلہ گوگیرہ زیرِ تعمیر روڈ پر بنے جان لیوا کھڈے نے ایک ہونہار طالب علم، حمزہ سعید، کی زندگی کا سفر ہمیشہ کے لیے تمام کر دیا۔کیاوزیراعلیٰ مریم نواز نوٹس لیں گی۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ گہری نیند سوئی ہوئی ہے۔ مقتول حمزہ کے گھر صفِ ماتم بچھی ہے، ماں باپ کا رو رو کر برا حال ہے، لیکن تاحال کوئی سرکاری افسر متاثرہ خاندان کے آنسو پونچھنے اور ان کی داد رسی کے لیے موقع پر نہیں پہنچا۔ قانون کے رکھوالوں کی اس بے حسی نے بستی کے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔

ثبوت مٹانے کی شرمناک کوشش
مقامی ذرائع کے مطابق، حادثے کے فوراً بعد ٹھیکیدار نے انسانیت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپنی گردن بچانے کی کوشش کی۔ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھیکیدار نے راتوں رات اس خونی کھڈے کو مٹی ڈال کر بند کیا اور جائے وقوعہ سے غائب ہو گیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کاش یہ مستعدی اور پھرتی حادثے سے پہلے دکھائی جاتی، کاش یہ کھڈا وقت پر بند کر دیا جاتا، تو آج ایک غریب اور بے بس ماں کا اکلوتا چراغ یوں بے وقت نہ بجھتا۔

انصاف کی دہائی
جبوکا کے عوام اور غمزدہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ اس دلخراش واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ قاتل سڑک بنانے والے ٹھیکیدار اور چشم پوشی کرنے والے محکمے کے افسران کے خلاف قتلِ عمد کا مقدمہ درج کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی اور حمزہ کسی کی لاپرواہی کی بھینٹ نہ چڑھے۔ کیا اوکاڑہ کی انتظامیہ جاگے گی یا یہ خون بھی ہمیشہ کی طرح رابطے کی سڑکوں تلے دفن ہو جائے گا؟



