دریاؤں کے کنارے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں ، قانون کہاں ہے؟
عاطف عارف
پنجاب کے دریاؤں کے کنارے بننے والی غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں آج ہمارے سماجی، ماحولیاتی اور قانونی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ لاہور ڈویژن سمیت قصور، ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر رہائشی، کمرشل اور صنعتی تعمیرات ہو چکی ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ان میں سے اکثر سکیمیں بنیادی قانونی تقاضے پورے کیے بغیر بنائی گئیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ماحولیاتی تباہی کا پیش خیمہ ہے بلکہ سرکاری اداروں کی بدعنوانی، نااہلی اور کوآرڈینیشن کے فقدان کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
قانونی فریم ورک اور اداروں کی غفلت
محکمہ انہار نے 1983 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق کسی بھی ہاؤسنگ سکیم کی منظوری سے قبل محکمہ انہار سے این او سی لینا لازمی قرار دیا گیا تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ مجوزہ علاقہ فلڈ ایریا میں شامل نہیں۔ یہی شرط لوکل گورنمنٹ ایکٹ، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قوانین اور ماسٹر پلان میں بھی موجود ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے کسی بھی بلدیاتی ادارے، ڈویلپمنٹ اتھارٹی یا راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے ان قوانین پر عمل نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہاؤسنگ سکیمیں باضابطہ طور پر منظور ہوئیں وہ بھی قانونی طور پر مشکوک ہیں۔
روڈا کا قیام – حل یا نیا مسئلہ؟
روڈا کو دریائے راوی کے کنارے جدید شہر بسانے کے لیے قائم کیا گیا، لیکن اس کا قیام مسائل کے حل کے بجائے نئی پیچیدگیاں لے آیا۔ ادارہ بننے کے بعد غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی روک تھام تو ممکن نہ ہو سکی بلکہ کرپشن اور بے ضابطگیوں میں مزید اضافہ ہوا۔
روڈا نے محکمہ انہار کے 1983 کے نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے دریائے راوی کے کنارے آباد کاری اور تعمیرات کو آئیڈیل قرار دے دیا۔ اس فیصلے نے لینڈ مافیا کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا اور یوں دریاؤں کے کنارے قیمتی زمینیں کمرشل بنیادوں پر بیچی جانے لگیں۔
ماسٹر پلان ۔۔۔۔ ماضی کی قربانی
لاہور ڈویژن کا ماسٹر پلان کئی سال پہلے ختم ہو چکا ہے لیکن اس کی جگہ نیا ماسٹر پلان تاحال تیار نہیں ہوا۔ ایل ڈی اے نے اپنی حدود کو لاہور ڈویژن تک بڑھا لیا، مگر قصور، ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ میں دفاتر فعال نہیں کیے۔ نہ انفورسمنٹ کا کوئی نظام بنایا گیا اور نہ ہی زمینوں کے استعمال کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی۔
اس خلا نے لینڈ مافیا کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دریاؤں کے کنارے صرف رہائشی سکیمیں ہی نہیں بلکہ کمرشل اور صنعتی زونز بھی قائم ہو چکے ہیں۔ سرکاری ادارے نہ صرف ان کو کنکشنز فراہم کر رہے ہیں بلکہ ترقیاتی کاموں میں بھی شامل ہیں۔
عوامی نقصان اور ماحولیاتی خطرات
غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں نہ صرف زمینوں کی خرید و فروخت میں فراڈ کا باعث بن رہی ہیں بلکہ مستقبل میں شدید ماحولیاتی خطرات بھی پیدا کر رہی ہیں۔ دریاؤں کے فلڈ ایریاز میں تعمیرات سے سیلاب کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ کسی بھی ممکنہ فلڈ کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان اور ہزاروں جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عوامی نقصان بھی قابل ذکر ہے۔ کئی شہریوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان سکیموں میں لگا دی جو قانونی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔ ایل ڈی اے اور دیگر ادارے عوام کو اس حوالے سے آگاہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
ادارہ جاتی بدعنوانی اور کوآرڈینیشن کا فقدان
یہ معاملہ صرف لینڈ مافیا کی سرگرمیوں تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ ادارہ جاتی بدعنوانی اور کوآرڈینیشن کے فقدان کا ہے۔ ایل ڈی اے، بلدیہ عظمیٰ لاہور، روڈا، محکمہ انہار، محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ نے اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک صدی پہلے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن بھی بے معنی ہو گئے۔
نتیجہ اور سفارشات
اگر فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں پنجاب ایک بڑے ماحولیاتی اور سماجی بحران کا سامنا کرے گا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
1. ماسٹر پلان کی بحالی اور اپڈیٹ: لاہور ڈویژن سمیت تمام اضلاع کے لیے نیا ماسٹر پلان تیار کیا جائے۔
2. این او سی کا سخت نظام: محکمہ انہار کے این او سی کے بغیر کوئی ہاؤسنگ سکیم منظور نہ کی جائے۔
3. غیر قانونی سکیموں کے خلاف آپریشن: فوری طور پر غیر قانونی تعمیرات گرانے اور لینڈ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
4. عوامی آگاہی مہم: شہریوں کو خبردار کیا جائے کہ وہ سرمایہ کاری سے پہلے سکیموں کی قانونی حیثیت ضرور چیک کریں۔
5. ادارہ جاتی اصلاحات: روڈا، ایل ڈی اے اور دیگر اداروں کے اختیارات واضح کیے جائیں اور کوآرڈینیشن کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔
یہ معاملہ صرف زمینوں کی فروخت یا تعمیرات تک محدود نہیں، یہ آنے والے وقت میں انسانی جانوں کے تحفظ اور ماحولیاتی بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اب بھی خواب غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔



