کوئٹہ(ویب ڈیسک ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی بھی ترمیم سے قبل آئین پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں مزید تبدیلیاں کرنے کے بجائے موجودہ آئینی ڈھانچے کا احترام اور اس پر عمل ملک کے مفاد میں ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم ملک کے لیے ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ پہلے ہی آئینی نظام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام ادارے آئین اور اپنے حلف کے مطابق کام کریں تو پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو چلانے کے لیے عوام کو حق حکمرانی دینا ہوگا
محمود خان اچکزئی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکمران ملک کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو ان کا حقیقی حق حکمرانی دیا جائے اور جمہوری اصولوں کو مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے عام انتخابات شفاف نہیں تھے اور انتخابی عمل پر سنگین سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر انتخابات میں بھاری مالی وسائل ہی کامیابی کا معیار بن جائیں تو عام آدمی کے لیے سیاست میں حصہ لینا مشکل ہو جائے گا۔
معدنی وسائل پر مقامی آبادی کا حق تسلیم کیا جائے
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ ملک کے قدرتی وسائل اور معدنیات پر سب سے پہلا حق ان علاقوں کے عوام کا ہونا چاہیے جہاں سے یہ وسائل حاصل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی آبادی کو وسائل کے ثمرات اور ترقیاتی منصوبوں میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ
محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل اس معاملے پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندیاں عائد ہیں اور ان کے اہل خانہ کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ایران، افغانستان اور پاکستان کو مشترکہ تعاون بڑھانا ہوگا
خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قسم کی جنگ یا کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان اور افغانستان پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے پاکستان، افغانستان اور ایران کو باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ ممکنہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کی ترقی، قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کا راستہ آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی حقوق کے تحفظ سے ہو کر گزرتا ہے۔



