پاکستانتازہ ترینکالم

ڈاکٹرمبشر حسن ایک عہد ساز شخصیت

مارچ 2020 کے دن تھے کرونا وبا نے عالمی دنیا کو لپیٹ میں لینا شروع کیا تھا ابھی ہوائی سفر پر پابندی نہیں لگی تھی ائیرپورٹ رواں تھے لاک ڈائون کی صورتحال نہیں تھی میں شریک حیات گونیلا اور لخت جگر سورج کو برطانیہ جانے کے لئے پی آئی اے کی پرواز پر بیٹھا ہی تھا کہ برادم عدنان عادل کی موبائل پر کال موصول ہوئی کہ ڈاکٹر مبشر حسن کا انتقال ہو گیا ہے۔

ایک لمحے تک میرے منہ سے کوئی لفظ ہی نہیں نکل پایا، یادوں کی کتاب کھلتی چلی گئی جانے کتنے اوراق تھے جو پلٹتا چلا گیا کب کہاں اور کیسے ڈاکٹر مبشر صاحب سے ملاقات ہوئی،میں بہت چھوٹا تھا والد صاحب خواجہ جمیل اور والدہ فریدہ جمیل کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے گلبرگ والے گھر جانا شروع کیا تھا ۔

والد اور والدہ دونوں پیپلز پارٹی کے کارکن تھے اور 1970 کے الیکشن میں ڈاکٹر مبشر حسن کے پولنگ ایجنٹ بنے تھے تب سے ہی ان کا ڈاکٹر صاحب سے دیرینہ تعلق قائم ہو گیا تھا پھر جب ڈاکٹر صاحب وزیر خزانہ بنے تو والد خواجہ جمیل کو نیشنل بنک میں نوکری بھی دلائی تھی، زمانہ طالب علمی ختم ہوا تو پھر داکٹر صاحب سے ملاقاتیں شروع ہو چکی تھیں وہ بھانپ چکے تھے کہ میں نے کوئی روایتی نوکری نہیں کرنی مجھے لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا صحافی اور ادیب بینے کا جنون تھا خیر ایک دن کہنے لگے تم صحافت بھی کرتے رہو میرے ساتھ بطور ریسرچر بھی کام کرتے رہو تم کو تحقیقی کام کرنا ہو گا دونوں مل کر کتابیں لکھیں گے اس طرح تمہارا شوق اور معاش بھی چلتا رہے گا ، اندھے کو کیا چاہیئے دو آنکھیں میں فورا تیار ہو گیا ، چند دن بعد میں نے کہا سر وہ چھوٹا بھائی خواجہ حنین نے ایم بی اے کر لیا ہے مگر وہ تو روایتی نوکری کرے گا اس کی نوکری کا کچھ کر دیں تھوڑی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے کسی کو فون کیا چند دن بعد چھوٹے بھائی کی پہلی باقاعدہ نوکری شروع ہوگئی۔

ڈاکٹر مبشر حسن ایک باکمال شخصیت تھے ایک تہذہبی ورثے کے امین تھے پانی پت کی تہذیب تمدن ثفافت انکے ساتھ ساتھ رہتی تھی کبھی بھی نہیں لگا کہ 1947 کی تقسیم نے پانی پت ان سے چھین لیا ہے یوں لگتا تھا کہ پانی پت بھارت سے نکل کر انکے ٹیمپل روڈ یا گلبرگ والے گھر میں آچکا ہے ، ٹیمپل روڈ والا گھر ان کو ہجرت کے بعد ملا تھا جہاں پاک انڈیا پپلز فورم کا دفتر بھی تھا ادھر بھی کامران اسلام کے ساتھ یاد گار وقت گزرا ہے ٹیمپل روڈ والے گھر کے باہر مہتہ ہائوس کی تختی ڈاکٹر صاحب نے کبھی نہیں اتاری ، گلبرگ والا گھر ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی شبر حسن کا تھا جس کا اگلا رہائشی حصہ مبشر حسن کےپاس تھا اور باغ والی رہائش شبر حسن کی تھی ، اس تاریخ ساز گھر جہاں پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا کیا وقت ہے جو میرا وہاں گزرا ہے دو ادوار تھے ایک وہ جو میں انکے ساتھ بطور تحقیق کار کام کرتا رہا اور ایک وقت تھا جب میں ان کا سوشل میڈیا اکائونٹ چلاتا تھا جس کی ذمہ درای مجھے عدنان عادل نے دی تھی ، ڈاکٹر صاحب پاکستان کے روایتی سیاستدان نہیں تھے صرف ایک الیکشن لڑا جیت کر وزیر بنے چار سال بعد مستعفی ہو گئے کیونکہ وہ بھانپ چکے تھے کہ وطن عزیز میں طاقت کے اصل مراکز کہاں ہیں یہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ ایوان بالا اور ایوان زیریں سب ناٹک ہے کٹھ پتلیاں ہیں ، طاقت تو اسٹیبلشمنٹ اور سول بیورو کریسی کے پاس ہے پھر اس کے بعد کبھی ایوان اقتدار کا رخ نہیں کیا کتابیں لکھتے رہے اور ہم سب کو رمز زندگی سمجھاتے رہےیہ انکی کتاب کا نام بھی ہے ڈاکٹر صاحب کی ایک اور کتاب شاہراہ انقلاب جلد اول اور جلد دوم بھی قابل مطالعہ ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اردو کلاسیکی شاعری کے بڑے مداح تھے انہوں نے میر تقی میر کے اشعار منتخب کرکے ایک کتاب بھی مرتب کی تھی ، میر اور غالب کے تو حافظ تھے ، ڈاکٹر صاحب کے گھر کیا کیا محفلیں جمتی تھیں ، عدنان عادل ،حسین نقی ، آئی اے رحمان۔ خالد محبوب لڈو،کامران اسلام ،جاوید اقبال معظم ، ایک صاحب تھے صوفی جن کا پرنٹگ پریس تھا اور ڈاکٹر صاحب کے بھانجے علی رضا بھتیجے عباس بھی کبھی کبھی شریک محفل ہوتے تھے ، مگر خالد مجبوب عدنان عادل اور علی رضا تو روز شام کی محفل آباد کرتے تھے مجھے یاد ہے غنویٰ بھٹو ڈاکٹر صاحب کے گھر پر ٹھہری تھیں تو شریک حیات گونیلا نے روزنامہ دنیا کے لئے ان کا انٹرویو کیا تھا مارچ 2025 میں ڈاکٹر مبشر کے انتقال کو 5 برس ہو چکے مگر انکی یادیں آج بھی تروتازہ ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button