انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

بھارت کا جھوٹا بیانیہ کامیاب نہیں ہونے دیا، پانی روکنا جنگ کے مترادف: اسحاق ڈار

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر، ملائیشیا کے وزیراعظم، روسی، قازق ہم منصبوں سے ملاقاتیں، علاقائی تعاون پر زور

اسلام آباد، تیانجن (ویب دیسک) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت شکست تسلیم نہیں کر پا رہا، پاکستان نے پہلگام واقعے پر جھوٹا بیانیہ کامیاب نہیں ہونے دیا، اگر بھارت نے پانی روکا تو یہ جنگ کے مترادف ہوگا۔ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کوالالمپور میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عسکری سطح پر جنگ بندی برقرار ہے، مگر بھارت کی سیاسی قیادت کو شکست ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نہ پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ اس کا رخ موڑ سکتا ہے، اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو یہ جنگ کے مترادف ہوگا۔ وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ ہوا، واہگہ بارڈر کی بندش، بھارتیوں کے ویزے منسوخ اور فضائی حدود کی بندش جیسے اقدامات اسی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بار بھارت کا بیانیہ کامیاب نہیں ہونے دیا۔
بھارت نے ماضی میں بھی پلوامہ جیسے جھوٹے الزامات لگائے اور اب پہلگام واقعے پر بھی جھوٹ پھیلانے کی کوشش کی تاہم پاکستان نے عالمی سطح پر موثر سفارت کاری سے بھارتی بیانیے کو مسترد کرایا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے مشکل ترین حالات میں معاشی ٹیک آف کیا، مہنگائی اور پالیسی ریٹ میں واضح کمی آئی اور پاکستان کو جی۔20میں شامل کرنا ہمارا ہدف ہے۔ علاوہ ازیں کوالالمپور میں اسحاق ڈار کی ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے بھی اہم ملاقات ہوئی، وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں اور آسیان کے چیئر کے طور پر ملائیشیا کی قیادت کو سراہا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف عسکری سطح پر دشمن کے عزائم ناکام بنائے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی موثر حکمت عملی سے دنیا کو بھارت کی فاشسٹ پالیسیوں سے آگاہ کیا۔ علاقہ ازیں اسحاق ڈار نے قازقستان کے ہم منصب مورات نورتیو سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ چین کے صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے مثبت انداز پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، توانائی، زراعت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار نے روسی وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔مزید برآں اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا اور ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ مزید برآں اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ، یہ خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔
پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو سیاسی، سفارتی اور معاشی اہمیت کے حامل ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ، مجھے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اہم اجلاس میں شریک ہونے پر فخرہے۔ انھوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے حوالے سے پاکستان کیغ یرمتزلزل عہد کی تجدید کرتے ہوئے خطے کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے، علاقائی روابط، مشترکہ خوشحالی ، پائیدار ترقی اور دیرپا امن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی انسانیت کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے، ہمیں اس کے خلاف متحدہ ہو کر کام کرنا ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button