سرحدوں کے جاگتے چراغ
چائے کے ایک ہوٹل پر بیٹھے چند دوستوں کی ہنسی، ان کی باتوں میں چھپی زندگی کی رونق، شاید کسی بڑے قومی جذبے کی علامت تھی۔ کوئی فلم دیکھنے کی بات کر رہا تھا، کوئی اسٹیج ڈرامے کا شوقین تھا، اور کوئی قوالی سننے کی ضد کر رہا تھا۔وہ معمول کی شام تھی، مگر اسی دوران ایک بزرگ وہاں آئے، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے، اور نرمی سے بولے:”بیٹو! تمہیں پتہ ہے تمہارا وطن اس وقت حالت جنگ میں ہے؟”ہم سب چونک گئے۔ "جنگ؟ کون سی جنگ؟”

وہ مسکرا کر بولے”وہی جنگ جس میں تمہیں ہنسنے، جینے اور محفوظ رہنے کا موقع دینے کے لیے تمہارے سپاہی بارڈروں پر دن رات کھڑے ہیں۔ تمہارا امن، ان کے پسینے اور خون کی قیمت پر قائم ہے۔”یہ جملے دل میں اتر گئے۔واقعی، وطن کا دفاع کوئی نعرہ نہیں ایک مستقل جدوجہد ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی بقا کے لیے مشکل فیصلے کیے۔ افغانستان کے حالات ہوں یا خطے میں طاقتوں کی کشمکش، پاکستان نے ہر بار ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

کبھی مجاہدین کا دور، کبھی طالبان کا عروج، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ یہ سب وہ ابواب ہیں جنہوں نے ہماری ریاستی پالیسیوں کو تشکیل دیا۔اب حالیہ دنوں میں جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جھڑپوں کی خبریں سامنے آئیں، تو ایک بار پھر یہ احساس تازہ ہوا کہ خطے کا امن کتنا نازک ہے۔
سرحد کے دونوں طرف جانیں ضائع ہوئیں، مگر پاکستانی افواج نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا کہ دفاعِ وطن میں کوئی کمزوری برداشت نہیں۔
دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جواب دینا، اور ساتھ ہی امن کی کوشش جاری رکھنا یہی پاکستان کی اصل پالیسی ہے۔یہ نہ بھولیں کہ ہماری سلامتی صرف محاذِ جنگ تک محدود نہیں۔

ہمارے افواج کے بہادر جوان سرحدوں پر کھڑے ہیں، اور ہمارے انٹیلی جنس ادارے گمنامی میں وہ کام کرتے ہیں جو عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ان کی شب و روز محنت، قربانیاں اور تحمل ہماری روزمرہ زندگی کی مسکراہٹ کا حقیقی نذرانہ ہیں۔

ہم جب بازاروں میں بے خوف گھومتے، بچوں کو سکول بھیجتے، یا چائے کے کپ کے ساتھ مسکراتے ہیں ،تو کہیں نہ کہیں ایک سپاہی یا انٹیلی جنس اہلکار اپنی نیند قربان کر کے وہ سکون ہمیں دے رہا ہوتا ہے۔
پاکستان آرمی کے آپریشنز جیسے ضربِ عضب اور ردالفساد نے دہشت گردی کی کمر توڑی،مگر جنگیں صرف بندوقوں سے نہیں جیتی جاتیں،امن کے لیے مضبوط معیشت، تعلیم، اور سیاسی استحکام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔یہی وہ اگلا محاذ ہے جس پر اب ہمیں اپنی توانائی مرکوز کرنی ہے۔مستقبل کی پاکستان پالیسی کا انحصار صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ عوامی شعور پر ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف سپاہی کا نہیں، شہری کا بھی فرض ہے۔دشمن کی کمزوری ہماری یکجہتی میں چھپی ہے۔ہمیں اپنے اختلافات کو قومی مفاد سے بڑا نہیں ہونے دینا چاہیے۔
پاکستان کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ فیس بک یا انسٹاگرام کی بحثوں کے بجائے اپنی فکری سرحدیں مضبوط کریں ،علم، شعور، تحقیق اور حب الوطنی کے ذریعے۔کیونکہ جو قوم اپنی فکری سرحدیں مضبوط رکھتی ہے، اسے کوئی بیرونی طاقت کمزور نہیں کر سکتی۔
یہ ملک امن چاہتا ہے، جنگ نہیں مگر امن ہمیشہ مضبوط دفاع کے سائے میں قائم رہتا ہےلہٰذا، ہمیں نہ صرف اپنے فوجی جوانوں پر فخر ہونا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم بھی تازہ رکھنا چاہیے۔اور اُن اداروں کا بھی دل سے شکریہ ادا کرنا چاہیے جو خاموشی سے ہماری حفاظت کرتے ہیں۔

جب ہم چائے کی پیالی کے ساتھ مسکراتے ہیں،بچوں کو سکول چھوڑتے ہیں،یا بازاروں میں بے خوف گھومتے ہیں تو یاد رکھیں، کہیں نہ کہیں ایک سپاہی،ایک انٹیلی جنس اہلکار،ہماری مسکراہٹ کی قیمت اپنی نیند، اپنے سکون،اور کبھی کبھار اپنی جان سے چکا رہا ہوتا ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
پاک آرمی زندہ باد۔



