انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ: اسرائیلی حملے، 65فلسطینی شہید، 1500سے زائد گرفتار

دوحہ حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی ٹرمپ سے ملاقات، مارکو روبیو اسرائیل روانہ

غزہ، واشنگٹن، لندن ( ویب ڈیسک ) غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، 24گھنٹے کے دوران حملوں میں مزید65فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا ۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے14افراد شامل ہیں۔ صیہونی فوج نے غزہ میں 2مکان بھی تباہ کر دئیے جبکہ شاتی پناہ گزین کیمپ میں ایک سکول پر بھی حملہ کیا، سکول میں بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی قابض فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے اور 1500سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تلکریم میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حماس نے گرفتاریوں کو اجتماعی سزا اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی زیر سرپرستی غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے ادارے غزہ ہیومینیٹیریئن فائونڈیشن کے امدادی مراکز غزہ پر امریکی ٹھیکیداروں نے اسلام مخالف بائیکر گینگ کے ارکان کو سکیورٹی پر مامور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ادھر قطری وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ امریکہ پہنچے اور صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات کی، جس میں ممکنہ طور پر اسرائیل کے دوحہ پر حملے سمیت غزہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی کبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس میں ایک عشائیہ پر ہونے والی اس اہم ترین ملاقات میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔ تاحال اس اہم ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو سے متعلق کچھ بتایا گیا ہے۔
تاہم اس ملاقات کے بعد امریکی صدر نے اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو اسرائیل جانے کی ہدایت کی، جہاں وہ نیتن یاہو کو خصوصی پیغام پہنچائیں گے۔ ملاقات کے بعد قطری نائب مشن سربراہ حامہ المفتح نے ایکس پر بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ شاندار ڈنر ابھی اختتام پذیر ہوا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے بھی دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کر دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ کہا کہ حملہ قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسرائیلی کارروائی امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ مزید برآں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے قطر کے خلاف دئیے گئے جارحانہ بیانات کی شدید مذمت اور ان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے مسئلہ فلسطین پر نیویارک اعلامیے کی تاریخی منظوری کے بعد اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) نے کہا ہے کہ اب یہ تمام ریاستوں پر واجب ہے کہ وہ اس دستاویز میں شامل اقدامات پر عمل درآمد کریں۔ عرب میڈیا کے مطابق او آئی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وسیع پیمانے پر توثیق فلسطینی ریاست کے قیام، اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور خطے میں ایک منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لئے بین الاقوامی اتفاق رائے اور کام کرنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ بیان میں تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور ریاست فلسطین کو مکمل تسلیم کرنے اور اقوام متحدہ میں اس کی مکمل رکنیت کی حمایت سمیت اعلامیے میں شامل اقدامات پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر پیش قدمی کریں۔
بیان میں ممالک پر یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے خلاف قبضے، جارحیت، آبادکاری، نقل مکانی، تباہی اور بھوک سے مرنے کے جرائم کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالیں۔ او آئی سی نے کانفرنس کی مشترکہ صدارت میں اہم کردار ادا کرنے، حتمی دستاویز کو قبول کرنے اور مسودہ تیار کرنے کے لئے تعاون کو متحرک کرنے میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو حق خود ارادیت حاصل ہے اور پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اپنے ایک بیان میں عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق نیو یارک اعلامیہ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button