انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

اچکزئی،ناصرعباس کاتقرر،عمران سے ملاقاتوں میں متوقع ریلیف،اعتماد سازی یا کچھ اور؟

حکومت نے فضل الرحمان کولفٹ نہ کرائی، تحریک انصاف کا براستہ ’’بھٹنڈہ ‘‘آنے کا فیصلہ ، سختیاں کم کرنے کی ضرورت ، اللہ نے جو پاکستان کیلئے دنیا کے راستے کھولے ان سے فائدہ اٹھاناچاہیئے

لاہور:(تجزیہ/میا ں حبیب)بڑی مشکلوں کے بعد بالاآخر محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی جبکہ راجہ ناصر عباس کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈرمقررکر کےنوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈروں کو مختلف کیسوں میں سزا کے بعد ان کی نااہلی کے باعث یہ عہدے خالی ہوئے تھے۔

Mian Habib

حکومت اس معاملے میں اپوزیشن کو الجھا کر رکھے ہوئے تھی مسلسل کوششوں کے باوجود قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن نہیں کیا جا رہا تھا حالانکہ تحریک انصاف نے خود کو دستبردار کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو نامزد کیا تھا وہ اپنی جماعت کے واحد رکن قومی اسمبلی ہیں لیکن وہ پوری اپوزیشن کی نمائندگی کریں گے ۔

اسی طرح راجہ ناصر عباس اکیلے ہی سینٹر ہیں لیکن وہ تحریک انصاف کے پرانے آزمودہ اتحادی ہیں جو ہمیشہ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے نظر آئے لیکن محمود خان اچکزئی تو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والوں میں شامل تھے لیکن وقت نے انھیں تحریک انصاف کی راہنمائی کے لیے چن لیا ہے۔

MOLANA FAZAL UL REHMAN
فائل فوٹو

مولانا فضل الرحمن بھی عدم اعتماد میں پیش پیش تھے لیکن موجودہ حکومت نے انھیں بھی لفٹ نہ کروائی وہ اپنے طور پر اپوزیشن کر رہے ہیں اگر انھیں متفقہ اپوزیشن لیڈر بنایا جاتا تو وہ زیادہ کارگر ثابت ہوتے لیکن ایک تو خیبر پختون خواہ میں مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کے مدمقابل ان کے روایتی حریف ہیں دوسرا تحریک انصاف ان پر اعتماد نہیں کرتی ان کا خیال ہے کہ وہ کسی بھی وقت کہیں بھی تحریک انصاف کو بیچ جائیں گے وہ درپردہ تحریک انصاف کی سیاست کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسی لیے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ راہ ورسم بڑھانے کے باوجود ان پر تحریک انصاف نے اعتماد نہ کیا اب دیکھنا یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی مولانا فضل الرحمن کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اپوزیشن کی ساری جماعتوں کو اکھٹا کرکے پرفارم کرتے ہیں یا تحریک انصاف لائیک مائینڈڈ جماعتوں کی ہی راہنمائی کرتے ہیں محمود خان اچکزئی کی مولانا فضل الرحمن اور میاں نواز شریف سے گہری یاری ہے سوال یہ ہے کہ کیا وہ میاں نواز شریف سے تحریک انصاف کے لیے کوئی سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

فائل فوٹو

تحریک انصاف نے اپنے طور پر ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا ہے ان کی دال نہیں گلی لہذا انھوں نے براستہ بھٹنڈہ آنے کا فیصلہ کیا ہے آثار بتا رہے ہیں کہ انھوں نے پارلیمانی معاملات کے لیے محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو آگے کیا ہے جبکہ احتجاجی سیاست کے لیے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل خان آفریدی کو تیار کیا جا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے مقبولیت کے باوجود قبولیت نہیں ہو رہی اب معقولیت کا راستہ اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ کسی طرح محمود خان اچکزئی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کے لیے سہولتیں حاصل کی جائیں اگر ہم ماضی کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ کام نوابزادہ نصر اللہ خان بڑے احسن طریقے سے انجام دیا کرتے تھے وہ کبھی میاں نواز شریف کو قابل قبول بنانے کے لیے اور کبھی بےنظیر بھٹو کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے حکومت کے خلاف جمہوری قوتوں کو اکھٹا کر کے راستہ نکال لیا کرتے تھے اسی طرح اگر ہم دیکھیں تو میاں نواز کی جلاوطنی ختم کروانے میں بےنظیر بھٹو نے راستہ ہموار کیا تھا اور میاں نواز شریف بھی بےنظیر کے پیچھے پیچھے وطن واپس آگئے تھے ۔

nawab-zada-nasar
فائل فوٹو

موجودہ حالات ماضی سے کافی منفرد ہیں لیکن تحریک انصاف نے فارمولا پرانے والا ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت بھی سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے کم سے کم سہولتیں دے کر اپوزیشن کو انگیج رکھنا چاہتی ہے حکومت کی خواہش ہے کہ اپوزیشن موجودہ حالات پر سمجھوتہ کرلے موجودہ سیٹ اپ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے اسے چلنے دے معاملات کو آگے بڑھنے دینے سے ہی کوئی راستہ نکل سکتا ہے لیکن حکومت کسی صورت بھی تحریک انصاف کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے فری ہینڈ نہیں دینا چاہ رہی ۔

حکومت کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں حکومت کرتی رہے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بطور اپوزیشن اپنا پارلیمانی کردار ادا کرے حکومت کو تنگ نہ کرے بلکہ تعاون سے آگے بڑھا جائے تحریک انصاف کی ساری سیاست جارحانہ موڈ کی ہے اگر تحریک انصاف موجودہ سیٹ اپ کو قبول کر کے آگے بڑھنے کی پالیسی پر عمل کرتی ہے تو اس کی عوامی سیاست ڈیمیج ہونے کا اندیشہ ہے لہذا تحریک انصاف اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی درمیانی تیسرا راستہ نکالا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن اپنے دائو پر ہے اور حکومت اپنے دائو پر ہے کچھ مڈل مین ہی بیچ بچائو کروا سکتے ہیں حکومت نے تو قومی اسمبلی میں بھی جو اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی ہے وہ بھی مشروط ہے کہ اپوزیشن ایوان میں ریاست اوراداروں کے خلاف بات نہیں کرے گی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن کے رویہ کے بعد عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر پابندی بھی اگلے ماہ اٹھا لی جائے گی حکومت نے اپنے طور تحریک انصاف کو مذاکرات کی بھی پیشکش کی ہوئی ہے جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

اپوزیشن کے تقرر کو مذاکرات کے لیے اعتماد سازی گردانا جا رہا ہے لیکن اعتماد سازی کے لیے حکومت کے اپنے معیار ہیں جبکہ اپوزیشن کی اپنی خواہشات ہیں فوری طور پر تو یہ بیل منڈے چڑھتی ہوئی نظر نہیں آتی لیکن موجودہ ماحول لمبے عرصے کے لیے برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں آخر کار کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا سختیاں کم کرکے ماحول میں بہتری لائے بغیر معاملات آگے بڑھ نہیں پائیں گے قدرت نے پاکستان کو ایک اور سنہری موقع دیا ہے آج پاکستان پوری دنیا کو قابل قبول ہے لیکن بدقسمتی سے داخلی معاملات کافی خراب ہیں ہمیں موقع ضائع کرنے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کرکے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ اللہ نے جو پاکستان کے لیے دنیا کے راستے کھولے ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button