بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

چیمپئنز ٹرافی ،بھارت سے شکست ، پاکستان کا سیمی فائنل تک رسائی کا سفر مشکل

انعام علوی

چیمپئنز ٹرافی کے اہم ترین میچ سے قبل اپنے پہلے کالم میں پاکستان کی بھارت کیخلاف کارکردگی کی پیش گوئی کر دی تھی اور ساتھ میں دعا کی تھی کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے لیکن نہ دعا کام آئی نہ دوا۔۔اور بھارت نے ویرات کوہلی کی سنچری کی بدولت پاکستان کو چیمپئینز ٹرافی میں 6 وکٹوں سے شکست دے دی ۔242 رنز کا ہدف بھارت نے 43 اوور میں 4 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا اور پاکستان کے لیے اگلے مرحلے یعنی سیمی فائنل میں رسائی مشکل اور ناممکن بنا دی ،پاکستان تقریبا ٹورنامنٹ سے آؤٹ ہو چکا ہے لیکن یہ کرکٹ ہے اور کرکٹ میں ناممکنات کی توقع ایک ایسی ٹیم سے کی جاسکتی ہے جو اپنی کارکردگی میں پوری دنیا کی کر کٹ ٹیموں کے لیے ناممکن کارکردگی دکھاتی ہو۔دبئی کے ٹاکرے میں بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں پاکستانی ٹیم کو آؤٹ کلاس کیا جب کہ قومی بیٹرز مواقع ملنے کے باوجود اننگز کو لمبی نہ کرسکے اور غلط شارٹ کھیل کر اپنی وکٹیں گنواتے رہے قومی ٹیم کی باؤلنگ اور فیلڈنگ میں انتہائی ناقص رہی۔اور بہت سے اہم کیچ گنوانے کے بعد باؤلنگ میں بھی وہ دم خم نظر نہ آیا جو بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کر سکتی ۔پاکستانی بیٹرز نے رنز تو بنائے لیکن بھارتی ٹیم کے خلاف ڈاٹ بال کا ریکارڈ ضرور بنایاپاکستان کے ٹاپ آرڈرز بیٹرز نے ابتدائی 161 گیندوں میں 100 ڈاٹ بولز کیں اور بھارتی بولرز کے سامنے ڈاٹ بولز کی سنچری بنا ڈالی۔رپورٹ کے مطابق ٹیم پاکستان نے 50 اوورز یعنی 300 گیندوں کی اننگز کے دوران مجموعی طور پر 147 بولز ڈاٹ کیں۔ اننگز کے دوران صرف 3 چھکے اور 14 چوکے لگائے گئےبڑے کھلاڑیوں نے ٹُک ٹُک کر کے وقت گزاراپاکستانی بیٹرز نے پاور پلے کے دوران بھی جی بھر کر ڈاٹ بالز کیں پوری اننگز میں صرف ایک ففٹی بنی۔اننگز کا پہلا چھکا بھی چالیس اوورز کے بعد لگا ۔پاکستان کے ٹاپ بیٹسمین بابر اعظم نے صرف 23 رنز کی اننگز کھیلی ۔امام الحق اپنے چچا انضام الحق کی طرح ایک غلط رنز لیتے ہو ئے رنز آؤٹ ہو گئے سعود شکیل نے 76 گیندوں پر سب سے زیادہ 62 رنز بنائے۔سعود شکیل اور کپتان محمد رضوان نے تیسری وکٹ پر 144 گیندوں پر 104 رنز کی پارٹنرشپ بنائی لیکن یہ شراکت بھی بڑا مجموعہ کھڑا کرنے کی کوشش میں کام نہ آئی۔کپتان محمد رضوان 46 رنز بنا کر پٹیل کی بال پر چھکا لگانے کی کوشش میں وکٹ بھی گنوا بیٹھے اور نصف سنچری سے بھی محروم رہے ،انہوں نے مجموعی طور پر 77 گیندوں کا سامنا کیا اور 3 چوکے لگائے۔طیب طاہر بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے ،خوشدل شاہ نے 39 گیندوں پر 38 رنز کی اننگز کھیلی۔سلمان آغا 19 ،حارث رؤف نے 8 رنز بنائے۔ شاہین شاہ آفریدی صفر پر آؤٹ تو ہوئے لیکن ان کے ریویو لینے پر کرکٹ شائقین حیران ضرور رہ گئے کہ صاف ایل بی ڈبلیو پر ریویو لینے کی کیا ضرورت تھی ۔میچ میں درست طور پر بھارتی باؤلرز نے پاکستانی بیٹرز کو باندھ کے رکھا اور انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا ۔بھارت کے کنگ بیٹسمین ویرات کوہلی کی کارکردگی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے انہوں نے 111 گیندوں پر ناقابل شکست سنچری سکور کی اور ٹیم کے فتح سے ہمکنار کرایا بلکہ سیمی فائنل کی راہ دکھا دی ہے ،پاکستان کی سیمی فائنل مین رسائی اگرمگر کا شکار ہو گئی ،پاکستان کی ایونٹ کے 2 میچز میں شکست کے بعد سیمی فائنل میںرسائی بظاہر مشکل ہوگئی مگر امکان اب بھی باقی ہے۔پاکستان کا چیمپئنز ٹرافی میں سفر برقرار رکھنے کےلیے نیوزی لینڈ کا دونوں میچز بھاری مارجن سے ہارنا لازمی ہوگیا ہے۔پاکستان کو راولپنڈی میں 27 فروری کو بنگلادیش کے خلاف اپنا میچ بھی بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا۔نیوزی لینڈ اور بنگلادیش کی ٹیمیں 24 فروری کو راولپنڈی میں مقابلہ کریں گی۔ اگر نیوزی لینڈ نے میچ جیت لیا یا میچ واش آؤٹ یعنی بارش ہو گئی تو پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے گا۔چیمپئنز ٹرافی کے گروپ اے میں بھارت اور نیوزی لینڈ کا میچ 2 مارچ کو شیڈول ہے ۔

Show More

Related Articles

2 Comments

جواب دیں

Back to top button