محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی، سیاسی جدوجہد اور شہادت
27 دسمبر بی بی شہید کی برسی پر خصوصی تحریرعقیل انجم اعوان
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس نے صرف ایک منتخب وزیر اعظم کی جان نہیں لی بلکہ اس کے ساتھ جمہوری تسلسل، عوامی اعتماد اور آئینی بالادستی کو بھی تختۂ دار پر لٹکا دیا۔ 4 اپریل 1979 کی وہ رات جب بھٹو کو خاموشی سے مٹی کے سپرد کیا گیا اسی لمحے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے مزاحمتی نظریے نے جنم لیا۔ یہ نظریہ بے نظیر بھٹو تھی ایک ایسی بیٹی جس نے باپ کی لاش سے سیاست کا بوجھ نہیں بلکہ ایک نظریہ اٹھایا اور عمر بھر اسے سینے سے لگائے رکھا۔

بے نظیر بھٹو اس سانحے کے وقت صرف ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہیں تھیں بلکہ وہ ایک بیٹی تھیں جس کے سامنے ریاستی طاقت نے اس کے باپ کو شکست دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ بھٹو کو پھانسی دی جا سکتی تھی اس کے نظریے کو نہیں۔ والد کی گرفتاری پھر طویل مقدمہ اور آخرکار پھانسی نے بے نظیر کے اندر ایک خاموش طوفان برپا کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ذاتی غم اجتماعی شعور میں ڈھلنے لگا۔
ضیاء الحق کے مارشل لا میں بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کو بدترین ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی گھر میں نظر بندی، کبھی جیل کی تاریک کوٹھڑیاں، کبھی ذہنی اذیت اور کبھی جسمانی بیماری سب کچھ اس لیے کہ بھٹو کا نام مٹایا جا سکے۔ مگر جبر کا یہ سلسلہ بے نظیر کو توڑنے کے بجائے ان کے سیاسی شعور کو اور نکھارتا چلا گیا۔ وہ آہستہ آہستہ سمجھ چکی تھیں کہ یہ لڑائی صرف ان کے خاندان کی نہیں بلکہ اس ملک کے ہر اس شہری کی ہے جس کا حق ووٹ، آئین اور آزادی ہے۔

بالآخر حالات اس نہج پر پہنچے کہ بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ یہ جلاوطنی صرف جغرافیائی فاصلے کا نام نہیں تھی بلکہ یہ ایک ذہنی اور جذباتی کرب تھا۔ لندن اور دبئی میں قیام کے دوران وہ اپنی مٹی سے دور ضرور تھیں مگر ان کا دل اور ذہن پاکستان کے ساتھ دھڑکتا رہا۔ جلاوطنی میں بھی انہوں نے آرام کی زندگی اختیار نہیں کی بلکہ آمریت کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کو اپنا مشن بنا لیا۔ وہ عالمی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو پاکستان میں جمہوریت کے قتل کی داستان سناتیں۔یہ وہ دور تھا جب بے نظیر بھٹو ایک مقامی رہنما سے ایک عالمی سیاسی آواز بن گئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف اقتدار کا نہیں بلکہ آئین کی پامالی اور عوامی حقِ حکمرانی کی نفی کا ہے۔ جلاوطنی نے ان کے وژن کو وسیع کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ جمہوریت کی جنگ کسی ایک جماعت یا خاندان تک محدود نہیں ہو سکتی۔1986 میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ لاہور کی سڑکیں، مینارِ پاکستان کے اطراف اور فضا میں گونجتے نعرے اس بات کی گواہی تھے کہ عوام نے انہیںصرف ایک سیاست دان کے طور پر نہیں بلکہ ایک امید کے استعارے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ یہ واپسی آمریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ مگر خطرات کم نہ ہوئے بلکہ ہر قدم کے ساتھ بڑھتے گئے۔1988 میں وہ اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم بنیں۔

یہ لمحہ جتنا تاریخی تھا اتنا ہی مشکل بھی۔ ایک کمزور جمہوری نظام، طاقتور غیر منتخب ادارے اور سیاسی مخالفین کی سازشیں ان کے راستے کی دیوار بن گئیں۔ ان کی حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا، الزامات لگائے گئے اور بالآخر اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ مگر بے نظیر بھٹو نے ہر برطرفی کو ذاتی شکست کے بجائے جمہوری جدوجہد کا ایک مرحلہ سمجھا۔اقتدار سے محرومی کے بعد ایک بار پھر جلاوطنی اور مقدمات ان کا مقدر بنے۔ مگر اسی دور میں بے نظیر بھٹو نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئی روایت قائم کی۔
2006 میں لندن میں نواز شریف کے ساتھ میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے انہوں نے ذاتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا۔ یہ معاہدہ دراصل ماضی کی غلطیوں کا اعتراف اور مستقبل کے لیے ایک وعدہ تھا۔میثاقِ جمہوریت کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غیر جمہوری قوتوں کا سہارا نہیں لیں گی، آئین کی بالادستی کو تسلیم کریں گی، عدلیہ کو آزاد رکھیں گی اور آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کریں گی۔ بے نظیر بھٹو جانتی تھیں کہ جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی بلوغت ضروری ہے اور یہی بلوغت اس میثاق کی روح تھی۔ یہ قدم اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اقتدار سے زیادہ نظام کی فکر رکھتی تھیں۔
2007 میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی ایک بار پھر عوامی جوش و جذبے کا مظہر بنی مگر اس بار فضا میں خطرے کی گھنٹیاں بھی بج رہی تھیں۔ کراچی میں ان کے استقبال کے موقع پر ہونے والا خوفناک خودکش حملہ واضح پیغام تھا کہ ان کی جان شدید خطرے میں ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ کہتی تھیں کہ اگر رہنما خوف سے پیچھے ہٹ جائیں تو قوموں کی تقدیر بدلنے والا کوئی نہیں رہتا۔27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو نے اپنی آخری تقریر کی۔
یہ تقریر محض انتخابی خطاب نہیں تھی بلکہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقِ حکمرانی کے عزم کا اعلان تھی۔ جلسے کے اختتام پر جب وہ گاڑی میں سوار ہوئیں تو چند لمحوں میں گولیاں اور دھماکہ ہوا اور یوں بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ان کی شہادت نے پاکستان کو ایک بار پھر اندھیروں میں دھکیل دیا۔ سڑکوں پر جلتے ٹائر، آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ آخر یہ ملک جمہوری قیادت کو کیوں قبول نہیں کرتا۔ مگر بے نظیر بھٹو کی موت بھی ان کے نظریے کو ختم نہ کر سکی۔
میثاقِ جمہوریت ان کی سیاسی وصیت بن کر سامنے آیا جس کی بنیاد پر بعد میں جمہوری عمل آگے بڑھا۔بے نظیر بھٹو کی زندگی بھٹو کی پھانسی کے صدمے سے شروع ہو کر میثاقِ جمہوریت کی دانش اور شہادت کی قربانی تک پھیلی ہوئی ہے۔ جلاوطنی نے انہیں عالمی سیاست کا شعور دیا، اقتدار نے انہیں نظام کی کمزوریوں سے روشناس کرایا اور شہادت نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔آج جب پاکستان میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے تو بے نظیر بھٹو کا نام صرف ایک سابق وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ایک جدوجہد، ایک قربانی اور ایک وعدے کے طور پر لیا جاتا ہے۔
سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا ہم نے میثاقِ جمہوریت کی روح کو اپنایا۔ کیا ہم نے اس خون کی لاج رکھی جو لیاقت باغ کی مٹی میں جذب ہوا اور کیا ہم نے اس بیٹی کی قربانی کا حق ادا کیا جس نے دار کی خاموشی سے لے کر شہادت کے لمحے تک صرف ایک ہی بات کہی کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔



