200گرفتاریاں، صمود فلوٹیلا بدستور رواں دواں: پاکستانیوں کی رہائی کیلئے اقدامات
غزہ شہر کا مرکزی راستہ بند، مزید53شہید، اسرائیل کیخلاف دنیا بھر میں مظاہر ے، کولمبیا کا آزاد تجارتی معاہدہ ختم کرنیکا اعلان
غزہ، مقبوضہ بیت المقدس، واشنگٹن، انقرہ ( ویب ڈیسک ) اسرائیلی فوج نے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کرکے سویڈن کی ماحولیاتیکارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 200افراد کو گرفتار کرلیا، اسرائیلی کارروائیوں کیخلاف دنیا بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے، مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہر ے کئے گئے ہیں، کولمبیا کے صدر نے اسرائیلی سفارتی عملے کو ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ ’ آزاد تجارتی معاہدہ ختم‘ کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان گلوبل صمود فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا میں شامل 37ممالک کے 200سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں سپین کے 30، اٹلی کے 22، ترکی کے 21اور ملائیشیا کے 12افراد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کے باوجود گروپ کا مشن جاری ہے اور جہاز اب بھی بحیرہ روم کے راستے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لئے رواں دواں ہیں، ہمارے پاس تقریبا 30جہاز ہیں، جو اب بھی قابض افواج کے فوجی جہازوں سے بچتے ہوئے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قبل ازیں قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا کے ایک جہاز الما سے براہِ راست مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ فلوٹیلا کے اراکین مداخلت کے انتظار میں بیٹھے ہیں، الما پر انسانی حقوق کے کارکن لائف جیکٹس پہنے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حملے اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا نے فلسطین کے حامیوں کو احتجاج کی کال دیدی۔ گلوبل صمود فلوٹیلا نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ان کے قافلے پر اسرائیل کے حملے شروع ہوچکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو رد عمل دیا جائے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا نے مطالبہ کیا کہ سفارتخانوں، پارلیمان کے سامنے مظاہرے کئے جائیں تاکہ فلسطین کے حق میں عالمی دبائو بڑھایا جا سکے ۔
فلوٹیلا کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ان کمپنیوں کے سامنے بھی مظاہرے کیے جائیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کے ساتھ ملوث ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے کے گرفتار ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فراہم کردہ کھانا قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ غزہ کے لیے دوائیں اور کھانے کا سامان لے کر رواں دواں قافلے کی 13کشتوں کو اسرائیلی بحریہ نے بدھ و جمعرات کی کی شب گھیر کر نہ صرف ان میں سے چار کو قبضے میں لے لیا بلکہ ان کے کمیونیکیشن سسٹم کو جام کیا اور کیمروں کی لائیو فیڈ بند کر دی۔ انہی کشتیوں میں وہ کشتی بھی شامل تھی جس پر معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ موجود تھیں۔ کچھ مسافروں نے اپنے پاسپورٹ دکھاتے ہوئے ویڈیوز بنائیں اور کہا کہ انہیں زبردستی اسرائیل لے جایا جا رہا ہے۔
فلوٹیلا کے ارکان اور منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو سختی سے رد کیا اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی صریحا نفی قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مشن مکمل طور پر انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد غزہ کے محصور عوام تک براہِ راست امداد پہنچانا اور غیر قانونی ناکہ بندی کو توڑنا ہے۔ اس حوالے سے جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتی پر سوار کارکن ظلم کے خلاف بھوک ہڑتال کا اعلان کر رہی ہیں اور اس احتجاج کو ریکارڈ کروا رہے ہیں کہ ہم یہ کھانا نہیں کھائیں گے جو فلسطینیوں کو بھوکا رکھ رہے ہیں۔



