پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ یہ بحران صرف مہنگائی یا کرنسی کی گراوٹ تک محدود نہیں بلکہ اس نے ملکی صنعت، زراعت، خدمات اور سرمایہ کاری کے ہر پہلو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے اندر اندر درجنوں مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں اپنا کاروبار بند کر کے پاکستان سے جا چکی ہیں۔ کئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کبھی پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کی علامت سمجھی جاتی تھیں، آج ان کا نام بھی صرف خبروں میں سنائی دیتا ہے، وہ بھی بندش یا نقصان کی صورت میں۔
یہ صورتحال کسی ایک عنصر کا نتیجہ نہیں بلکہ معاشی بدانتظامی، پالیسیوں میں تسلسل کی کمی، سیاسی عدم استحکام، قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان، اور بالآخر ایک ایسے ویژن کی پیداوار ہے جس نے ملک کو ترقی کی بجائے تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
مائیکروسافٹ، کریم اور گل احمد: جدید اور روایتی دونوں شعبے متاثر
2025 کے وسط میں تین بڑی خبریں بیک وقت منظرِ عام پر آئیں۔
مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنے آپریشن بند کر دیے۔ یہ محض ایک سافٹ ویئر کمپنی کا جانا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انقلاب کے خواب کا ٹوٹ جانا ہے۔ مائیکروسافٹ جیسی کمپنی کی واپسی پاکستان کے لیے ایک بڑے نقصان کے مترادف ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر یہ تاثر گیا کہ پاکستان آئی ٹی کے شعبے میں پائیدار سرمایہ کاری کے قابل نہیں رہا۔
کار سروس کریم نے جولائی 2025 میں اپنے آپریشن بند کیے۔ یہ خبر پاکستان کی سروس انڈسٹری کے لیے ایک دھچکا تھی کیونکہ کریم نے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دیا، ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے اور شہری معیشت میں ایک نئی لہر پیدا کی تھی۔
گل احمد ٹیکسٹائل جو پاکستانی برآمدات کی ایک بڑی شناخت تھی نے اپنے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یونٹس بند کر دیے۔ یہ صرف ایک کمپنی کا نقصان نہیں بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں مزدوروں کا روزگار، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کی آمدنی کا ختم ہونا شامل ہے۔
یہ تین مثالیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی سے لے کر ٹیکسٹائل تک کوئی شعبہ محفوظ نہیں رہا۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پسپائی
پاکستان کی مارکیٹ کبھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش ہدف ہوا کرتی تھی۔ مگر اب صورتحال الٹ ہے۔
پراکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے 2024 میں صابن پروڈکشن ختم کی اور اب اعلان کیا ہے کہ اگلے سال پورا بزنس ٹھپ کر دیا جائے گا۔
سیمنز ٹیکنالوجیز، جو پاکستان میں انرجی اور انفراسٹرکچر کے کئی منصوبوں میں سرگرم تھی، نے 2023 میں کاروبار بند کر دیا۔
بئیر جیسی عالمی فارما کمپنی نے بھی جون 2023 میں پاکستان سے رخصتی اختیار کر لی۔
سانوفی اور فائزر جیسی بڑی دوائیں بنانے والی کمپنیاں اپنی پروڈکشن بند کر چکی ہیں۔
ان کمپنیوں کی بندش سے نہ صرف ہزاروں ملازمتیں ختم ہوئیں بلکہ صحت، توانائی اور کنزیومر مارکیٹ میں بھی شدید خلا پیدا ہوا۔
آئل اور ٹیلی کام سیکٹر: سرمایہ کاروں کا بھاگ جانا
پاکستان میں توانائی اور ٹیلی کام وہ شعبے تھے جو ہمیشہ منافع بخش سمجھے جاتے تھے، لیکن اب وہ بھی زوال کا شکار ہیں۔
شیل پاکستان نے جون 2023 میں اپنے 77 فیصد حصص فروخت کیے، یعنی وہ عملاً مارکیٹ سے باہر ہو گیا۔
ٹوٹل پارکو نے بھی 2023 میں اپنا کاروبار ختم کیا۔
ٹیلی نار نے دسمبر 2023 میں پاکستان کا بزنس فروخت کر دیا۔
یہ سب وہ کمپنیاں ہیں جو پاکستان کی معیشت کے اہم ستون ہوا کرتی تھیں۔ ان کی واپسی یہ پیغام دیتی ہے کہ سرمایہ کار یہاں مزید سرمایہ لگانے کے بجائے اپنی رقم نکالنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔
مقامی انڈسٹری: بار بار بند ہوتی پروڈکشن
پاکستانی انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہے۔
ہنڈا، سوزوکی، ملت ٹریکٹرز اور نشاط چونیاں نے بار بار اپنی پروڈکشن بند کی۔
انڈس موٹرز، امریلی اسٹیل اور جی ایس کے کو بھی بار بار پیداوار روکنی پڑی۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پروڈکشن پچاس فیصد کم ہو چکی ہے۔
یہ اعدادوشمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ کا ماحول اب قابلِ برداشت نہیں رہا۔ مہنگی توانائی، ڈالر کی کمی، درآمدی خام مال پر پابندیاں اور حکومتی پالیسیوں میں غیر یقینی نے اس سیکٹر کو مفلوج کر دیا ہے۔
زراعت کا بحران
پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے مگر کسان بھی حکومتی پالیسیوں کی نذر ہو گئے۔ دو سال سے گندم کے کسان کو امدادی قیمت نہیں ملی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسان کو اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملا جبکہ کھاد، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ زراعت کے بحران نے براہِ راست فوڈ سکیورٹی پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
امن و امان اور سفارتی دباؤ
معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام، داخلی بدامنی اور سفارتی تنہائی نے بھی صورتحال کو بدتر بنا دیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف پالیسی کے اعتبار سے غیر یقینی ہے بلکہ داخلی امن کے لحاظ سے بھی غیر محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری سمیٹ کر زیادہ مستحکم مارکیٹوں کا رخ کر رہی ہیں۔
طاقت ورحلقوں کا ویژن اور معیشت کی بربادی
تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کے معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ طاقتور حلقوں کی پالیسیاں اور ان کا ویژن ہے۔ بجائے اس کے کہ معیشت کو آزادانہ اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلنے دیا جائے، ریاستی ادارے اپنی سیاسی اور اسٹریٹجک ترجیحات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو گیا، صنعت تباہ ہو گئی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔
یہ وہی ویژن ہے جس نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
نتیجہ
پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں سے نکلنے کے لیے صرف معاشی اصلاحات کافی نہیں۔ اس کے لیے سیاسی استحکام، قانون کی بالادستی، شفاف پالیسی سازی اور سب سے بڑھ کر اداروں کی اصل ذمہ داریوں کی طرف واپسی ضروری ہے۔ جب تک طاقتور حلقے اپنے ویژن کو معاشی ترقی اور عوامی فلاح کی بنیاد پر نہیں ڈھالیں گے، تب تک پاکستان کے لیے سرمایہ کاروں کو روکنا یا نئی کمپنیاں لانا تقریباً ناممکن رہے گا۔
آج جو کمپنیاں جا رہی ہیں، وہ صرف کاروبار نہیں بند کر رہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل سے اپنا اعتماد بھی واپس لے رہی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو آنے والے برسوں میں معیشت کی بحالی ایک خواب ہی رہ جائے گی۔



