فرشتوں کو کیسے معلوم ہوا،انسان قتل وغارت،خونریزی کرے گا۔۔۔ ؟ ستر سال سے کروڑوں مسلمانوں کی دعا قبول کیوں نہیں ہورہی۔۔۔؟ کرپٹو کرنسی،منی لانڈرنگ،کینال ایشو۔۔۔آنکھ جو دیکھتی ہے،لب پہ آسکتا نہیں۔۔۔۔ کیا اقبال کے دورمیں بھی پیکا ایکٹ تھا ۔۔۔ ؟ اورپھروہ ’’ کافرمصنوعات‘‘ بائیکاٹ کا اعلان کرکے ہاتھ میں ایپل کا موبائل اٹھائے،بی ایم ڈبلیو پربیٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔

میدان بدر ہے،صفیں ترتیب دے دی گئیں،نبی مہربان ﷺ سجدے میں گرجاتے ہیں،اللہ تعالیٰ سے فتح کی دعا مانگتے ہیں،ہر غزوہ پرایسا ہی ہوا،غزوہ خندق پرتو آقا دوجہاں ﷺ خود خندق کھودتے رہے۔۔۔۔ اوردنیا بھر کے کروڑوں مسلمان نصف صدی سے حج کے موقع پر فلسطین اور کشمیر کی آزادی کیلئے دعا مانگ رہے ہیں لیکن یہ آزادی نہیں مل رہی۔۔۔۔کیوں؟ دعائیں قبول کیوں نہیں ہورہیں۔۔۔؟
ہم ٹیکنیکل طورپر درست دعا نہیں مانگ رہے،وہ کیسے۔۔۔ ؟ مثال،ایک بندہ کوئی دس ،بارہ برس بے شک ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دعا مانگتا رہے،کہ ’’ یااللہ مجھے بیٹا عطا فرما ‘‘ ۔۔۔۔ دعا قبول نہیں ہوگی کیونکہ،دعا سے پہلے وہ شادی کرے،بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرے پھر بیٹے کیلئے دعا مانگے،پرائزبانڈ خریدا نہ ہو اور انعام نکلنے کی دعا کرنا۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے اصول ہیں،یہ دنیا ان اصولوں کے مطابق چل رہی،ان میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آسکتی،یہ آئین معطل ہوسکتا ہے نہ تبدیل۔۔۔رب چاہیے تو بغیر بادل کے بارش برسا سکتا ہے لیکن کبھی آپ نے بادل کے بغیر بارش کو برستے دیکھا۔۔۔؟
یہی اصول ہے،یہی آئین ہے جو بدل نہیں سکتا۔اڑھائی ارب مسلمانوں کی تعداد،کروڑوں کی فوج،معدنیات سے مالا مال،ایٹم بم سے لیکر جدید ترین اسلحے کے مالک،دنیا کا کوئی بحری جہاز مسلم ممالک کی بندرگاہوں کے بغیر کہیں جا نہیں سکتا،ادھر دیکھیں،اسرائیل کی آبادی صرف 95لاکھ ۔۔۔جب اڑھائی ارب افراد فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی تباہی کی دعا مانگتے ہونگے،یقیناً اللہ تعالیٰ مسکراتا ہوگا،سانحہ کربلا صرف سنا اور پڑھا ہے،کوفیوں کوگالیاں دیتے ہیں، دل پر ہاتھ رکھ کرسوچو،کیا ہم بھی کوفی نہیں ۔۔۔ ؟
مولانا حضرات جہاد کے فتوے جاری کررہے ہیں،اسرائیل،امریکا اوردیگرغیرمسلم ممالک کی اشیا کابائیکاٹ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔۔۔۔مولانا صاحبان !! چلو،اپنے بچوں کو ساتھ لیکر،ہم بھی چلتے ہیں جہاد کرنے۔۔۔ بائیکاٹ سے پہلے اپنے پاس اور اپنے گھر پر بھی نظر دوڑا لیتے،ادویات سے لیکر موبائل تک،گاڑی سے لیکراے سی تک سب غیر مسلم ممالک کی مصنوعات ہیں،مولانا صاحب !! آپکے ہاتھ میں تسبیح،سر پر ٹوپی اور جائے نمازبھی غیر مسلم ملک سے آتی ہے۔
ہم ریلیاں نکال کر،احتجاج کرکے،ہڑتالیں کرکے اسرائیل کو تباہ اور فلسطین کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔۔۔ ۔وال سٹریٹ جنرل سمیت متعدد امریکی اخبارات نے رپورٹس شائع کی تھیں،جب امریکی وزیرخارجہ نے سینیٹ ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا پاکستان میں ڈرون حملے انکی حکومت کی رضا مندی سے کررہے ہیں،صدر زرداری نے اجازت دی ہوئی، اور کہا تھا ’’ ہم احتجاج کرتے رہیں گے اور آپ ڈرون حملے کرتے رہیں‘‘۔۔۔۔
یہی مسٹر زرداری نے کینالز منصوبے پرکہا ہوا ہے آپ نہریں تعمیرکرلیں،ہم احتجاج کرتے رہیں گے،زرداری صاحب کا کیا۔۔۔۔؟ انہوں نے تو ایک بار یہ بھی کہہ دیا تھا ’’ وعدے کوئی قرآن وحدیث نہیں ہوتے ‘‘ ۔۔۔۔کینالزمنصوبے کی منظوری دیکر سندھ پھر میں احتجاج کروا رہے،خود بیمار ہوگئے،بیٹے کو دبئی بھیج دیا۔۔۔جئیے بھٹو،ایک زرداری،سب پر بھاری۔۔۔ایک اور اہم بات،حکومت کرپٹو کرنسی کو قانونی کرنے جارہی ہے پیپر ورک ہورہا۔۔۔
سنا ہے،کرپٹو کرنسی سے منی لانڈرنگ کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے،شہبازرانا نے ’’ سنا ہے ‘‘ کی تقریبا ً تصدیق کردی،بتایا،جس بندے کو حکومت نے کرپٹو کرنسی کا ایڈوائزرمقررکیا ہے وہ ایک ملک میں منی لانڈرنگ کیس میں سزا یافتہ ہیں۔۔۔ اور اس ایڈوائزر نے نوازشریف،شہباز شریف،مریم نواز،اسحاق ڈاراورانکے بیٹے سے ملاقات کی ہے۔۔۔
دوسری خبر کو اس خبر کے ساتھ پڑھا جائے تو کچھ تھوڑی بہت سمجھ آتی ہے،بیلاروس میں آسانی سے منی لانڈرنگ کی جاسکتی،کالا دھن
بھی وہاں چھپایا جاسکتا،پناہ بھی لی جاسکتی ہے ۔۔۔بیلاروس کے صدر’’ زبردست‘‘ بندے ہیں،انہیں 2021 میں کرپشن پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے نے ’’ پرسنیلٹی آف دی ائیر‘‘ قرار دیا تھا۔۔۔۔چلو چھوڑو، جلنے والی باتیں۔۔۔۔
مریم نواز سب سے اچھی وزیراعلیٰ ثابت ہوئی ہیں،نواز شریف کے اس بیان پر لطیفہ یاد آگیا۔۔۔ ایک خاتون چپل خریدنے گئیں، دوکان میں 35 جوتیاں چیک کرنے کے بعد آخر کار چھتسویں جوتی انھیں متاثر کن لگی تو پوچھا، اس کی قیمت کیا ہے؟ سیلز مین نے کہا، جی یہ مفت ہے،خاتون نے حیرت سے کہا مفت؟وہ کیوں؟ سیلز مین جی یہ جوتی آپکی ہی ہے،جو آپ پہن کر آئی تھیں۔۔۔آنکھ جو دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں۔۔۔۔کیا اقبال کے دور میں بھی پیکا ایکٹ تھا۔۔۔؟
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



