
زندگی میں کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو صرف راستے طے نہیں کرواتے بلکہ انسان کے اندر چھپی ہوئی ایک نئی دنیا بھی آشکار کر دیتے ہیں۔ بعض سفر جسم کو تھکا دیتے ہیں مگر روح کو سکون دے جاتے ہیں، اور بعض سفر انسان کو دنیا سے کاٹ کر اُس کے رب کے قریب لے آتے ہیں۔ حج بھی ایسا ہی ایک مقدس سفر ہے۔ یہ صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے آپ کو پہچاننے، اپنی کمزوریوں کو سمجھنے اور اپنے رب کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔ مجھے زندگی میں دو مرتبہ حج کی سعادت حاصل ہوئی، پہلی بار 2018 میں اور دوسری بار 2024 میں۔ دونوں حج میرے لیے یادگار تھے، دونوں میں جذبات بھی تھے اور روحانی کیفیت بھی، مگر ان دونوں تجربات میں ایک واضح فرق تھا۔ ایک حج دوستوں کے ساتھ تھا اور دوسرا تنہائی کے ساتھ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے اصل سکون اُس حج میں ملا جس میں بظاہر میں اکیلا تھا۔
2018 میں جب میں پہلی مرتبہ حج کے لیے روانہ ہوا تو میرے ساتھ دوستوں کا ایک خوبصورت قافلہ موجود تھا۔ ہر طرف خوشی، جوش اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا جذبہ تھا۔ سفر کے دوران قہقہے بھی تھے، یادگار تصویریں بھی تھیں، اکٹھے کھانا کھانے کا لطف بھی تھا اور عبادات میں ایک دوسرے کا سہارا بھی۔ ہم نے اکٹھے طواف کیے، اکٹھے سعی کی، میدانِ عرفات میں ایک ساتھ دعائیں مانگیں اور مزدلفہ کی رات بھی اکٹھے گزاری۔ بظاہر یہ سب کچھ انتہائی خوبصورت تھا اور واقعی تھا بھی۔ انسان جب دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے تو راستے آسان محسوس ہوتے ہیں، تھکن کم لگتی ہے اور تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یہ احساس ہوا کہ اُس حج میں میرا دل مکمل طور پر خاموش نہیں ہو سکا تھا۔ انسان جب لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو اُس کی توجہ بٹتی رہتی ہے۔ کبھی کسی دوست کی فکر، کبھی کسی کی بات، کبھی ہجوم میں ایک دوسرے کو تلاش کرنے کی کوشش۔ عبادت ضرور ہوتی ہے مگر دل مکمل یکسوئی حاصل نہیں کر پاتا۔
پھر 2024 آیا، اور مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس بار حالات مختلف تھے۔ میں زیادہ تر اکیلا تھا۔ ابتدا میں مجھے لگا شاید یہ سفر مشکل ہوگا، شاید تنہائی محسوس ہوگی، شاید دوستوں کے بغیر وہ لطف نہ آئے جو پہلے آیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے، مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس بار میرا حج صرف ظاہری سفر نہیں بلکہ روح کا سفر بنتا جا رہا ہے۔جب میں پہلی بارمسجدالحرم میں داخل ہوا اور خانہ کعبہ پر نظر پڑی تو میرے اردگرد ہزاروں لوگ موجود تھے، مگر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس لمحے دنیا میں صرف میں اور میرا رب موجود ہیں۔ نہ کوئی گفتگو، نہ کوئی دنیاوی مصروفیت، نہ کسی کے ساتھ قدم ملانے کی فکر۔ صرف خاموشی تھی، دل کی دھڑکن تھی اور آنکھوں میں آنسو تھے۔
تنہائی انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ یہی وہ لمحے تھے جب میں نے اپنی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر غور کیا۔ میں نے اپنی غلطیوں کو یاد کیا، اپنی کمزوریوں کو محسوس کیا اور اپنے رب سے وہ باتیں کیں جو شاید میں لوگوں کے درمیان رہ کر کبھی نہ کر پاتا۔ میں نے محسوس کیا کہ عبادت صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ دل کے ٹوٹنے اور جھک جانے کا نام ہے۔مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میں اکیلا طواف کر رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ کبھی دعا کرتا، کبھی خاموش ہو جاتا، کبھی خانہ کعبہ کو دیکھتا اور کبھی اپنی زندگی کے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتا۔ اُس وقت مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید انسان پوری زندگی لوگوں کے درمیان رہتے رہتے خود سے ملاقات کرنا بھول جاتا ہے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ خوشی صرف ہجوم میں ملتی ہے، دوستوں کے ساتھ ملتی ہے، محفلوں میں ملتی ہے۔ یقیناً دوست زندگی کی خوبصورتی ہوتے ہیں، لیکن کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان کو صرف اپنے رب کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں نہ دنیا کی آواز اہم رہتی ہے اور نہ لوگوں کی موجودگی۔ وہاں صرف دل بولتا ہے اور روح سنتی ہے۔میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر میں نے دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کو دیکھا۔ ہر رنگ، ہر زبان، ہر ملک کے لوگ ایک ہی لباس میں ملبوس تھے۔ کوئی امیر نہیں تھا، کوئی غریب نہیں تھا، کوئی بڑا نہیں تھا، کوئی چھوٹا نہیں تھا۔ سب ایک ہی رب کے سامنے جھکے ہوئے تھے۔ یہی حج کا اصل پیغام ہے کہ انسان اپنی انا، اپنی حیثیت، اپنی دولت اور اپنے عہدے کو چھوڑ کر صرف اللہ کا بندہ بن جائے۔
میرے دوسرے حج نے مجھے یہ سبق دیا کہ تنہائی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی تنہائی انسان کو اُس کے رب کے سب سے قریب لے جاتی ہے۔ یہی خاموشی انسان کے دل کے شور کو ختم کرتی ہے۔ یہی تنہائی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت اللہ کی رحمت ہے۔آج جب میں اپنے دونوں حجوں کو یاد کرتا ہوں تو میرے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ پہلا حج دوستیوں کی خوبصورتی کا عکس تھا، جبکہ دوسرا حج روحانی سکون کی تصویر بن گیا۔ ایک حج میں میں لوگوں کے ساتھ تھا، دوسرے میں اپنے رب کے ساتھ۔ ایک حج نے مجھے محفلوں کی خوشی دکھائی اور دوسرے حج نے خاموشی کی طاقت سکھائی۔
شاید اسی لیے آج میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ انسان کی روح کا آئینہ ہے۔ وہاں انسان وہی محسوس کرتا ہے جو اُس کے دل میں ہوتا ہے۔ اگر دل دنیا سے بھرا ہو تو انسان ہجوم میں رہتا ہے، اور اگر دل اللہ کی محبت سے بھر جائے تو تنہائی بھی عبادت بن جاتی ہے۔میرے لیے یہ دو الگ الگ حج نہیں تھے بلکہ ایک ہی سفر کے دو مختلف رنگ تھے۔ ایک رنگ دنیا کا تھا اور دوسرا روح کا۔ اور سچ یہی ہے کہ روح کا رنگ ہمیشہ زیادہ گہرا، زیادہ خوبصورت اور ہمیشہ رہنے والا ہوتا ہے۔



