قبرستان جادوگروں کی آماجگاہ ، چلے کے نام پر لاشوں کی بیحرمتی(چوتھی قسط)
لاہور:(رپورٹ/محمد قیصرچوہان)ملک بھر میں خاندانی جھگڑوں، جائیداد اور کاروباری تنازعات میں اپنے مخالف کو نشانہ بنانے کیلئے کالا جادو کرانے کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں سفلی عاملوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب سفلی عملیات کے توڑ کیلئے مسلمان عاملین میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان روحانی عاملوں کی بیشتر تعداد مختلف مدارس کے علماءپر مشتمل ہیں۔ تاہم سفلی عاملوں کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔ کسی شخص کو بیمار کرنے، کاروباری، بندش یا گھریلو ناچاقی پیدا کرنے کیلئے سفلی جادوگر، دس ہزار سے پچاس ہزار روپے کی رقم لیتے ہیں۔ جبکہ جان لیوا عملیات کےلئے وہ گاہک سے بھاری رقم کے علاوہ بکرے کی فرمائش بھی کرتے ہیں۔ یہ بکرا، جادوگر اپنی زیر کنٹرول بد روحوں یا جنات کو بطور ”بھینٹ“ چڑھاتے ہیں۔
ملک کے بعض علاقوں میں افسوسناک طور پر بعض گمراہ مسلمانوں میں بھی سفلی علم سیکھنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ پہلے سفلی علم کرنے والوں میں غیر مسلموں کی شرح 90 فیصد اور مسلمانوں کی دس فیصد تھی۔ اب مسلمانوں کی شرح بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی ہے۔ تاہم سفلی جادوگر جیسے ہی اس مکروہ عمل کا آغاز کرتا ہے وہ اپنے مذہب سے خارج ہو جاتا ہے۔ غیر مسلموں میں ہندئوں کی کوہلی، بھیل اور میگھوار قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے زیادہ سفلی عملیات کرتے ہیں۔
قرآن مجید اور حدیث نبوی کی روشنی میں جادو کا ہونا ثابت ہے ۔جادو کی خواہ کتنی بھی قسمیں ہوں ان کا سیکھنا اورکسی پر کروانا ہر حال میں حرام ہے۔ہمارے معاشرے کے کچھ افراد زبان سے کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی عقیدے کے اتنے کچے ہوتے ہیں کہ وہ حسد،رقابت، جلن اور اپنی محرومیوں کا بدلہ ایک خوشحال اور ہنسے بستے گھرانے یا فرد سے اس طرح لیتے ہیں کہ وہ ذہنی اور مالی لحاظ سے تباہ حال اور کنگال ہو کے رہ جاتا ہے۔
ہندو سفلی عاملےن اس کیلئے یہ ”کالی کے منتر“ کو الٹا پڑھتے ہیں۔ جبکہ مسلمان (نام نہاد) اس مذموم عمل میں قرآنی آیات کو (نعوذ باللہ) الٹا پڑھتے ہیں۔ سفلی عمل کرنے والے قبرستان یا شمشان گھاٹ میں بیٹھ کر ”چلہ کشی“ کرتے ہیں۔ یہ ”چلہ“ چند ہفتوں کا بھی ہوتا ہے اور کئی ماہ کا بھی۔ اس دوران جادوگر مخصوص منتر پڑھتے رہتے ہیں۔ ”چلہ کشی“ کا وقت پورا ہونے کے بعد ان کو ”شکتی“ مل جاتی ہے۔ یہ شکتی دراصل بد روح ہوتی ہے جو چڑیل یا پھرکسی حیوان کی شکل میں جادوگر کے ساتھ رہتی ہے۔
جب اس شکتی سے کام لینا ہوتا ہے تو سفلی عامل کسی ویران جگہ جو گھر کے اندر ایک مخصوص کمرہ بھی ہو سکتا ہے میں بیٹھ کر مخصوص منتر پڑھتا ہے اور انگاروں پر لوبان یا کوئی اور سفوف ڈالتا رہتا ہے۔ اس دوران وہ ایک کاغذ تحریری یا زبانی طور پر بد روح کو حاضر ہونے کا حکم دیتا ہے۔ اس کی تعمیل میں اس کے زیر کنٹرول بد روح، سائے کی شکل میں حاضر ہوجاتی ہے۔
جادو گر اس بد روح کو مطلوبہ شکار کا نام، اس کی والدہ کا نام اور پتہ سمجھا دیتا ہے اور اسے مطلوبہ شخص کے جسم میں داخل ہونے کی ہدایت کر دیتا ہے۔ بدروح انسان کے جسم میں دھویں کی شکل میں داخل ہو جاتی ہے اور دماغ، دل اور دیگر جسمانی اعضاءکو متاثر کرنے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سفلی عمل کا شکار ہونے والے شخص کی دماغی حالت بگڑنے لگتی ہے اور مختلف جسمانی امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔
بد روح کسی کو فوری طور پر ہلاک تو نہیں کر سکتی لیکن اس کے قبضے میں آنے والا ذہنی و جسمانی طور پر کمزور ہونے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اگر اس سفلی عمل کا توڑ نہ ہو سکے تو متاثرہ شخص چند ماہ کے اندر ہلاک ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو فوری طور پر مارنے والا سفلی عمل صرف ہندو خاکروب یا کوہلی طبقے کے جادوگر کرتے ہیں، جس میں مخصوص جادوئی ہانڈی بھجوائی جاتی ہے یا سوئیاں لگے پتلے کو قبر کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں موجود قبرستان سفلی جادوگروں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ جہاں کالے جادو کے ماہر نہ صرف مکروہ عملیات کی ”چلہ کشی“ کرتے ہیں بلکہ ان قبرستانوں میں خواتین کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرنے کی گئی گھناﺅنی وارداتیں بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ سفلی عاملین رات کو ان ویران قبرستانوں میں بیٹھ کر بد روحوں کو اپنے قبضے میں لینے کا عمل کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ سفلی عامل چھوٹے بچوں کی تازہ لاشوں کو قبروں سے نکال کر یا ہندوﺅں کے شمشان گھاٹ میں بچوں کی چتاکی راکھ سے مخصوص عمل کے ذریعے ”کلوہ“ کی طاقت حاصل کرتے ہیں جس کا شمار سفلی علوم کی خطرناک ترین جادوئی قوتوں میں ہوتا ہے۔ ”کلوہ“ کی رفتار اور طاقت جنات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
یہی وجہ سے کہ سفلی کے جان لیوا عمل کیلئے ”جادوئی ہانڈی“ بھی کلوہ سے بھجوائی جاتی ہے۔ جادوگروں کے قرےبی ذرائع مطابق کلوہ کی رفتار انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہدف سے پہلے اگر غلطی سے کوئی اور شخص درمیان آجائے تو جادوئی ہانڈی ٹکرانے سے اس کی جان جا سکتی ہے۔ بعض کالے جادوگر ”کلوہ“ کو ”کالی ماتا“ کی فوج بھی قرار دیتے ہیں۔ ہندو دھرم کے عالموں کے مطابق ”کلوہ“ نوزائیدہ بچے کی ”آتما“ (روح) ہوتی ہے جو مرنے کے بعد تین دن تک لاش کے قریب بھٹکتی رہتی ہے۔ اسے سفلی عامل مخصوص عمل کے ذریعے اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں اور پھر ان سے گھناﺅنے کام کراتے ہیں۔
دوسری جانب مسلمان روحانی عامل ”کلوہ“ کو انسان کا ”ہمزاد“ قرار دیتے ہیں۔ یہ سفلی عامل مختلف آبادیوں میں گھومتے رہتے ہیں اور جیسے ہی اسے کسی بچے کے انتقال کی خبر ملتی ہے اس کے گھر کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ بعدازاں بچے کے جنازے کے پیچھے پیچھے سفلی منتر پڑھتے ہوئے قبرستان تک پہنچتا ہے اور جب تدفین کے بعدلوگ قبرستان سے رخصت ہو جاتے ہیں تو وہ بچے کی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ ”میں رات کو آﺅں گا، تیار رہنا“ آدھی رات کو سفلی جادو گر دوبارہ قبرستان لوٹتا ہے اور مطلوبہ قبر کے پاس ”منڈل“ (حفاظتی حصار) بنا کر بیٹھ جاتا ہے اور مخصوص سفلی منتروں کا جاپ شروع کر دیتا ہے،عمل مکمل ہونے پر قبر سے بچے کی لاش باہر نکل آتی ہے۔ دوسری جانب بیشتر سفلی جادوگروں کا موقف ہے کہ قبر سے بچے کی لاش نہیں نکلتی، بلکہ اس کا کلوہ(ہمزاد) باہر آتا ہے۔
سفلی جادوگروں سے رابطے میں رہنے والے ایک ذرائع کے مطابق مردہ بچے کے کلوے (ہمزاد) سے مخاطب ہو کر سفلی جادوگر اسے روزانہ ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر موتی چور کے لڈو یا دیگر غذائیں فراہم کرنے کے وعدے پر اسے ”نوکری“ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ کلوے سے سفلی عامل، جان لیوا جادوئی ہانڈیاں شکار تک بھجواتا ہے چوریاں کراتا ہے، لوگوں کو تنگ کرتا ہے، دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور دیگر کئی گھناﺅنے کاموں میں استعمال کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کلوہ حاصل کرنے کا رجحان سندھ اور پنجاب کے دیہی علاقوں کے سفلی عاملین میں کافی زیادہ ہے۔ سفلی جادوگر اپنی شیطانی قوت بڑھانے کےلئے یہ مکروہ کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ جادو گر یہ قو ت حاصل کرنے کیلئے بچوں کے قتل سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جادوگروں کے مطابق خطرناک ترین سفلی عمل چتاکی راکھ سے کئی جاتے ہیں۔ جادوگر چتاکی راکھ سے سفلی طاقتیں حاصل کرنے کیلئے چاند کی پہلی سے 8 تاریخ کے درمیان، شمشان گھاٹ میں بیٹھ کر چلہ کشی کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران انسانی کھوپڑی میں چاول اُبالے جاتے ہیں۔
جادو گر اپنے گردمنڈل (گول دائرہ) بنا کر بیٹھتا ہے کیونکہ یہ حصار سے حملہ آور ہونے والی بلاﺅں سے محفوظ رکھتا ہے۔ مذکورہ تاریخوں کی سیاہ راتوں میں سفلی عامل ، چتاکی راکھ (جلائے گئے ہندو مردے کی ہڈیوں کی راکھ) سے خطرناک سفلی عملیات سرانجام دیتا ہے۔چتاکے جلنے کے بعد مرنے والے کے عزیز و اقارب اس کی راکھ کو سفلی عملیات میں استعمال ہونے سے بچانے کیلئے اس کی کھوپڑی اور دیگر سالم رہ جانے والی ہڈیوں کو توڑ دیتے ہیں۔ تاہم سفلی عملیات کرنے والے جادوگر اور سفلی عملیات کرانے کے خواہشمند، چتاکی راکھ ٹھنڈی ہونے کے بعد اسے حاصل کرنے کیلئے شمشان گھاٹ کے چکر کاٹنا شروع کر دیتے ہیں۔
دریں اثنا کالے جادو کے حوالے سے پہلی قسط19اگست2025 بروزبدھ جبکہ دوسری قسط 20اگست 2025،تیسری قسط 22اگست کوناظرین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہیں جن کوwww.cnnurdu.comپروزٹ کیا جاسکتا ہے آج 24اگست 2025بروز اتوار اس سلسلے کی چوتھی قسط پیش کی جارہی ہے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



