بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبعلاقائی خبریں

ماضی کے کراچی کی شاید کوئی گلی یا محلہ ایسا ہو جہاں لائبریری نہ ہو

ہمارا ہاں کتاب پڑھنے کا رجحان قریباً ختم ہو چکا ہے،مصنف اقبال اے رحمٰن مانڈویا سے خصوصی گفتگو

کراچی:(تحریر و تصاویر/رانا محمد طاہر )کراچی کے سنہرے دنوں کی داستان اس شہر میں اک دشت تھا اور میرے زمانے کی کِراچی اس کے علاوہ ایک سفر نامہ جنت ارضی استنبول نامی کتابوں کے مصنف اقبال اے رحمٰن مانڈویا ان کی کراچی کی تاریخ پر مبنی کتابیں پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ انہیں شہر کراچی سے عشق ہے اور بقول ان کے کراچی ان کی محبوبہ ہے ،ان کے والد محقق اور ادیب تھے یوں ادبی رجحان ورثے میں پایا لہٰذا وہ لکھنے لکھانے کی جانب راغب ہوئے موصوف کراچی کے گلی محلوں اور گم گشتہ دم توڑتے تاریخی ورثے کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا ہیں ان کی تحریرو تقریر سے وہ خزانہ محفوظ ہو رہا ہے جو آنے والے برسوں میں بطور حوالہ پیش کیا جائے گا ۔

اقبال اے رحمٰن مانڈویانے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ میمن برادری سے تعلق ہے پرانے کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن میں پیدا ہوئے باغ ہالار اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں منتقل ہو گئے ،گورنمنٹ کالج آف اکنامکس سے گریجوایشن کی ۔میرے چچایوسف مانڈویا گجراتی کے صاحب طرز ادیب تھے اور والد محقق تھے انہوں نے میمن قوم کی تاریخ ”اساسِ میمن قوم“ کے نام سے کتاب لکھی وہ ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے ۔

چھٹی جماعت سے میں نے اخبارات میں لکھنا شروع کر دیا تھا اخبار جہاں میگزین اور روز نامہ جنگ میں میری تحریریں شائع ہونا شروع ہوگئی تھیں ان میں نئے لکھنے والوں کے لئے ایک صفحہ مخصوص تھا ۔میرے بڑے بھائیوں نے میرے لکھنے کی حوصلہ شکنی کی کہ اس فیلڈ میں مفلسی کی زندگی ہے کارو بار میں دلچسپی پیدا کرو میں اردو میں ماسٹر کرنا چاہتا تھا میرے بھائیوں نے کہا ماسٹر کر کے پھر کیا کرو گے میں نے کہا کہ میں لیکچرار بن جائوں گا پھر پرو فیسر اور پھر پرنسپل انہوں نے مجھے ایک مثال دی کہ کلاس میں پڑھائی میں تیز طلباءبھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی تیز طلباءتو تمہاری طرح استاد بن جاتے ہیں اور کمزورطلباءکارو بار میں چلے جاتے ہیں جہاں تم جیسے پڑھے لکھے لوگ پڑھاتے ہیں وہ اس ادرے کو چندہ دیتے ہیں ۔

لہٰذا میں تیل فروخت کرنے کے کاروبار میں لگ گیا کیونکہ یہ ہمارا خاندانی کاروبار تھا اور پھر میں کاروبار تک محدود ہو کر رہ گیا ۔فیس بک کا بھلا ہو کہ کیونکہ میرے اندر ایک لکھاری تھا لہٰذا میں نے فیس بک پر لکھنا شروع کر دیا میری تحریروں کا موضوع کراچی تھاجو بڑا پسند کیا گیا اور میں لکھتا چلا گیا ، اسی دوران ترکیہ استنبول جانا ہوا تو اس کا سفر نامہ لکھا جو کتاب کی صورت میں جنت ارضی استنبول کے نام سے شائع ہوئی 200صفحات پر مشتمل یہ میری پہلی کتاب تھی اور اسطرح میں صاحب کتاب لوگوں کی صف میں شامل ہوگیا ۔اس کتاب کے دو ایڈیشن شائع ہوئے یہ تقربیا دس برس پہلے کی بات ہے ۔

استنبول کے دورے کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ یہ بلکل ہمارے پرانے کراچی جیسا ہے جو اب برباد ہو چکا ہے مگر یہاں کے لوگوں نے اسے اپنی اصل حالت میں ہی سنبھال کر رکھا ہوا ہے اس سفر نامے میں استنبول کے تذکرے کے ساتھ ہی ضمناً کرا چی کا ذکر بھی خوب ہوا اس پر احباب نے مشورہ دیا کہ اب آپ کراچی پر کتاب لکھیں لہٰذا اس دشت میں ایک شہر تھا نامی 900 صفحات پر مشتمل کتاب لکھی یہ میری دوسری کتاب ہے جس میں کراچی کے سنہرے دنوں کی داستان رقم ہے ۔

میرے پانچ بڑے بھائی تھے انہوں نے بتایا کہ شہر میں جہاں بھی جائو وہاں کے سائن بورڈ ضرور پڑھا کرو میں نے اس بات کو پلے باندھ لیا اس طرح مجھے کراچی کے مختلف علاقوں کی پہچان ہو گئی اس دوران ہمارے دوست رمضان بلوچ نے مجھے کراچی کی تاریخ پر مبنی دو کتابیں دیں جس میں ایک عثمان دموہی کی لکھی ہوئی اور دوسری عبدالغفور کھتری کی تحریر کردہ تھی انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ پہلے یہ دو کتابیں پڑھو پھر کراچی پر کتاب لکھنا یہ کتابیں پڑھنے کے بعدکراچی کے پرانے علاقوں کے ماحول رہن سہن کا تفصیلی جائزہ لیا اس کام میں دوسال لگ گئے ویسے تو کراچی کے قدیم علاقے میں پیدا ہونے اور وہیں بڑے ہونے کے دوران کراچی کے قریباً علاقوں سے واقفیت تھی ۔

ان دوسالوں میں مجھے ان علاقوں کے حوالے سے جیسے جیسے معلومات حاصل ہوتی گئیں میں انہیں تحریر بھی کرتا رہا کمپیوٹر سے لکھنے کا عمل آسان ہو گیا تھا اس کتاب کے لئے ہم نے عثمان دموہی اور عبدالغفور کھتری کی کتابوں کے علاوہ دیگر انگلش اور گجراتی کی کراچی کے بارے میںکتابوں سے استفادہ کیا اس طرح اس دشت میں اک شہر تھا نامی کتاب اشاعت تک پہنچی اس کی تقریب رونمائی اسلامیہ کالج کے قریب میمن کامپلیکس آڈو ٹوریم میں منعقد ہوئی اس کتاب کے بھی دو ایڈیشن شائع ہوئے پہلا 2019ءمیں اور دوسرا ایڈیشن 2021ءمیں۔ اس کتاب میں پرانے کراچی کے حوالے سے مکمل تفصیل لکھی ہے یہ وہ کراچی تھا جو کیماڑی سے سینٹر جیل تک محیط تھا ۔اس کے بعد کراچی میں جو نئی بستیاں آباد ہوئیں ان کے حوالے سے میرے زمانے کی کِراچی نامی کتاب تحریر کی جو 350 صفحات پر مشتمل ہے اس میں تقسیم کے بعد جو کراچی کے علاقے آباد ہوئے جس میں فیڈرل بی ایریا ،ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد ،لیاقت آباد ،گلشن اقبال کے علاوہ دیگر علاقے شامل ہیں ۔

اس کتاب کو تحریر کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا ، اس طرح اس سے پہلی کتاب اس دشت میں اک شہر تھا پرانے کراچی پر تحریر ہے اور دوسری تقسیم کے بعد آباد ہونے والے علاقوں کے بارے میں ہے ، ان تینوں کتابوں کی اشاعت میں دوستوں کا تعاون شامل رہا ،پہلی کتاب کی اشاعت خود کرائی دوسری زیڈ بکس کے تعاون سے شائع ہوئی اور تیسری کتاب میں فضلی سنزوالوں کا تعاون شامل رہا ،گو کہ کتاب پڑھنے کا رجحان ہمارے ہاں قریباً ختم ہو چکا ہے لوگ کتاب لے جاتے ہیں مگر پڑھتے نہیں صرف شیلف کی زینت بنا دیتے ہیں اس کے باوجود اب بھی کتب بینی کا شوق رکھنے والوں کی محدود تعداد موجود ہے جو کتب بینی کی اہمیت جانتے ہیں ۔

ماضی میں کراچی کی شاید ہی کوئی گلی یا محلہ ایسا ہو گا جہاں لائبریری نہ ہو ان میں مطالعہ کرنے والوں کا رش لگا رہتا تھا ان میں ہر موضوع پر کتابیں پڑھنے کے لئے دستیاب ہوتی تھیں ،اس کے مقابلے میں اب صرف چند بڑی لائبریریاں باقی رہ گئی ہیں اس کے علاوہ چند قلیل تعداد میں لائبریریاں ہیں جن میں صرف ایک آدھ لائبریری ہی ایسی ہے جن سے صرف طلباءہی استفادہ کرتے ہیں اس کے علاوہ عام شہریوں میں مطالعے کا شوق نہ ہونے کے برابر ہے ۔جتنی بھی بچی کچی لائبریریاں رہ گئی ہیں ان میں میری تمام کتابیں پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں جو میں نے ان لائبریریوں کو عطیہ کی ہیں تاکہ پڑھنے والوں کو یہ علم ہو سکے کہ ماضی کا کراچی کیسا تھا اور اب کیسا ہے ۔

میری کتاب اس دشت میں اک شہر تھا ملک کے نامور روزنامے میں ہر ہفتے قسط وار شائع کی جارہی ہے ایک سال میں اس کی 48،اقساط شائع ہو چکی ہیں ،بی بی سی میں کراچی سے متعلق کوئی ذکر ہوتا ہے اس میں میری کتابوں سے حوالہ دیا جا تا ہے ۔قارئین کی دلچسپی کے لئے ان کی کتاب سے اقتباس اقبال اے رحمٰن مانڈویا معروف علاقے لیاقت آباد (پرانا نام لالو کھیت )کے بارے میں لکھتے ہیں لیاری ندی کے دامن میں یہ زمین بہت زرخیز ہے اس وقت لیاری ندی کا پانی سفید و شفاف ہوا کرتا تھا یہ صوتحال 70کی دہائی تک رہی ،مہاجر آبادی نے لالوکھیت کو مسکن بنایا تو ہر آنگن شجر سایہ دار تلے آیا آنگن میں پھل دار درخت لگے تو ہر گھر کے باہر نیم اور پیپل ،یہ قطعہ زمین سر سبز سر زمین شہری علاقہ قرار پانے سے قبل ہرے بھرے دیہاتوں پر مشتمل تھا ۔مو صوف نے لالو کھیت کانام لیاقت آباد کیسے پڑا تفصیلاً تحریر کیا ہے مگر مختصر طور پر 1951ءمیں جب لالو کھیت میں مہاجر آبادی کی

ابتدا ہو رہی تھی جھونپڑیاں آباد ہونے لگیں تو علاقے میں پولیس آگئی اور ان جھگی نشینوں کو بے عزت کر کے نکالنے لگی باپردہ خواتین کے ہوتے ہوئے گھروں میں گھس آئی معاملے کی خبر وزیر اعظم لیاقت علی خاں تک پہنچائی گئی تو وہ مسلم لیگ کے مرکزی دفتر آئے مہاجرین کی اس خفت کا تذکرہ سنا تو لیاقت علی خاں آبدیدہ ہو گئے اسی وقت انہوں گاڑی کی چھت پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ جو جہاں بیٹھا ہے وہ جگہ اسی کی ہے اور کسی کو اپنی جھونپڑی چھوڑنے کی ضرورت نہیں اس پر تمام لوگ خوشی کے مارے لیاقت علی زندہ باد (لالو کھیت لیاقت آباد )کے نعرے لگاتے منتشر ہو گئے اسی روز سے لالو کھیت کا نام لیاقت آباد پڑا بعد ازاں یہ سرکاری دستاویزات کا حصہ بن گیا۔

اقبال اے رحمٰن مانڈویا کتابوں کو پڑھ کر ماضی کے کراچی کے بارے میں تفصیلاً پتہ چلتا ہے موجودہ کراچی جو اب کنکریٹ کا جنگل ہے کے وسیع علاقے میں بستیوں کے ساتھ ساتھ شاہ بلوط کے درختوں کے جنگلات تھے اور پورا شہر ہرا بھرا تھا سب برباد ہو چکا ہے ماضی کے کراچی کی تاریخ کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے لئے اقبال اے رحمٰن مانڈویا نےکتابوں کی شکل میں محفوظ کر دیا ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button