پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

سپریم کورٹ: جسٹس جہانگیری کو کام سے روکنے کا فیصلہ کالعدم

کسی جج کو عبوری حکم کے ذریعے جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا:سپریم کورٹ،میاں دائود کا بھی یو ٹرن ،سندھ ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری ڈگری کیس میں فریقین کو نوٹس

اسلام آباد،کراچی:(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کاعبوری فیصلہ کالعدم قرار دے دیااورجسٹس طارق محمود جہانگیری کی اپیل منظور کرلی۔

عدالت نے حکمنامے میں کہا اٹارنی جنرل اور فریقین کے دلائل کے مطابق جج کو عبوری حکم سے نہیں روکا جا سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کو کووارنٹو درخواست کی سماعت میں پہلے اعتراضات کا فیصلہ کرنا ہوگا، اسلام ہائیکورٹ میں درخواست گزارمیاں داؤد نے بھی یو ٹرن لیتے ہوئے کہامیں خود اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایسے آرڈر کا دفاع ممکن نہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے جسٹس جہانگیری کی اپیل منظور کرتے ہوئے واضح کیا کسی جج کو عبوری حکم کے ذریعے جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نےکہا جج کو عبوری آرڈر سے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا،جسٹس امین الدین خان نے میاں داؤد سے براہِ راست رائے پوچھی جس پر انہوں نے کہامیں بھی سمجھتا ہوں کہ جج کو عبوری حکم کے تحت معطل نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے ہم نے آرڈر میں صرف وہ لکھا ہے جو ملک اسد علی کیس کی لینگویج ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہم نے ایک فیصلے میں یہ ہولڈ کیا ہوا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے ہی ایک جج کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا ابھی تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا رٹ پر اعتراضات برقرار ہیں، ہم اس سوال کی طرف نہیں جائیں گے کہ جج کے خلاف رٹ ہو سکتی ہے یا نہیں، ہمارے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ عبوری حکم کے ذریعے جج کو کام سے روکا جا سکتا تھا یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کا ہائیکورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا جاتا اور ان کی اپیل منظور کی جاتی ہے۔

ادھرسندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا یہ کیس ہمارے بنچ میں کیوں لگا ہے؟ وکیل نے جواب دیا جامعات سے متعلق کیسز اسی بنچ کے سامنے مقرر ہوتے ہیں۔

جسٹس کلہوڑو نے مزید پوچھاکیا سپریم کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواست زیرِ سماعت ہے؟،مزیدسماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button