عالمی اور داخلی سطح پر یہ تاثر تیزی سے ابھر رہا ہے کہ پاکستان کی گورننس کی صلاحیت کمزور پڑ چکی ہے، اور ملک ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے جہاں اسے "غیرقابلِ انتظام ریاست” (Unadministrable State) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس تاثر کو تقویت دینے میں حالیہ حکومتی پالیسیوں، داخلی انتشار اور خارجی دباؤ کا بڑا کردار ہے۔
پہلے بھارت کے ساتھ فضائی محاذ آرائی ہوئی، پھر اسرائیل اور ایران کی کشیدگی میں پاکستان کے کردار پر سوال اٹھائے گئے، اور اب بھارت کی جانب سے افغان طالبان کو اپروچ کر کے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیںگزشتہ دنوں افغانستان کی طرف سے بلااشتعال حملوں کے جواب میں پاکستانی افواج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے تقریباً دو سو سے زائد حملہ آوروں کو ہلاک کیا، تاہم اس دوران پاک فوج کے 23 جوان شہید اور 29 زخمی بھی ہوئے۔
یہ کشمکش اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جب کہ دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی سابقہ شکست کا بدلہ لینے کے لیے مسلسل سرحدی تخریب کاریوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں بھارت مبینہ طور پر اسرائیلی ڈرونز سے لیس افغان پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کروا رہا ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
طالبان کے اندر بھارت سے تعلقات کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور یہی اندرونی تقسیم تحریک طالبان پاکستان کے حملوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر داغے گئے البرس میزائلوں کے فیول کی فراہمی کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں ان میں فیول کہاں سے آیا تھا ؟مبصرین کے مطابق یہ صورتحال خطے کے طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کر رہی ہے طالبان کے مختلف دھڑوں میں ایک دوسرے پر بیرونی طاقتوں سے روابط کے الزامات نے مزید انتشار پیدا کر دیا ہے۔
بھارت کے ساتھ پس پردہ تعلقات نے افغان امن عمل کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں دوسری جانب بھارت کی جارحانہ پالیسیوں نے خطے میں سفارتی تعلقات کو مزید کمزور کر دیا ہے بہار الیکشن میں ناکامی کے بعد نریندر مودی کی حکومت نے اپنی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بیرونی تنازعات کو ہوا دی ہے نتیجتاً جنوبی ایشیا کا امن ایک بار پھر شدید خطرات کی زد میں آ گیا ہے پاکستان کو نہ صرف اپنی علاقائی سالمیت بلکہ داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے بھی سخت آزمائشوں کا سامنا ہے ۔
یہ وہی افغان طالبان ہیں جن کو کبھی پاکستان نے ناصرف اخلاقی بلکہ ہر قسم کی سپورٹ بھی کی آج یہی طالبان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کے دشمن بنے ہوئے ہیں سن 2001 میں افغان طالبان نے صرف پینتیس دنوں میں امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، اور یوں افغانستان وہ پہلا ملک بن گیا جو بغیر کسی زمینی جنگ کے فتح کر لیا گیا۔
آج جب افغان طالبان پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیں، تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی کے لیے پاکستان نے کس قدر قربانیاں دی تھیں۔طالبان قیادت کے متعدد اہم رہنما بیس برس تک پاکستان میں محفوظ رہے پاکستان نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود انہیں پناہ دی، ان کے سینکڑوں کمانڈروں، وزیروں اور گورنروں کو تحفظ فراہم کیا، ہزاروں زخمی افغانوں کا علاج کیا، اور چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی کفالت بھی کی۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کا اصل سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے اگر پاکستان ان برسوں میں افغانوں کی مدد نہ کرتا، تو شاید آج بھی افغانستان کسی غیر ملکی طاقت کے قبضے میں ہوتا شاید آپ کو یاد ہو کہ سی آئی اے کی ایک تجزیہ کار جن کا نام سارہ ایڈمز ہے نے 10جون2024 کو یہ انکشاف کیا تھا کہ بھارت طالبان نیٹ ورک کو استعمال کر کے پاکستان میں کشمیری اور خالصتانی رہنمائوں کے قتل کروارہا ہے سارہ نے یہ دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کرائے کے قاتل ہیں جنہیں کو ئی بھی پیسہ دے کر کسی کے خلاف استعمال کر سکتا ہے اور بہت عرصہ سے پاکستان کے خلاف بھارت یہ کھیل کھیل رہا ہے ۔
یہ دعویٰ براہ راست انہوں ایک پوڈ کاسٹ میں کیا ہے جس کا ثبوت یوٹیوب پر موجود ہےسارہ ایڈمز علاقائی معاملات کو بے نقاب کرنے والی کوئی نئی ایجنٹ نہیں بلکہ ان کے کئے انکشافات ماضی میں بھی دیکھے اور سنے جا چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بھارت، پاکستان میں اُن عسکریت پسندوں کو ہدف بنا کر قتل کروانے کے لیے جو کشمیری اور خالصتانی تحریکوں سے وابستہ تھے، طالبان کو بھارت کی وزارتِ دفاع (MoD) کے ذریعے 10 ملین ڈالر بھیجا جاتا تھااور یہ چونکا دینے والا انکشاف ایک ایسے خفیہ مالی اور عملی تعلقات کے جال کی مانند تھا جو مشترکہ فوجی قوتوں اور مقامی تجارتی ایجنٹوں کے درمیان موجود تھا، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا تھا، جبکہ وہ اس عمل کو اسٹریٹجک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے پردے میں انجام دے رہے تھے۔
اس سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ اڑی اور پہلگام جیسے خود ساختہ واقعات بنا ئے گئے جس کا الزام پاکستان پر لگا کر بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی اور ذلیل وخوار ہوا سارہ ایڈمز کے ان انکشافات کے بعد پھر بھارتی تجزیہ کار سارہ ایڈمز پر چڑھ دوڑے میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایران میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جاسوسی کر کے ایرانی سائنسدانوں کا قتل عام بھارت نے کروایا جبکہ ناصرف اب ایران بلکہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک میں بھی بھارت جاسوسی کرتے پکڑا گیا ہے اور یہ جاسوسی وہ صرف اسرائیل کے لئے کرتا تھا چونکہ انڈین ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی راد دونوں مل کر پاکستان کی سرحدوں پر دہشتگردی کا مرتکب ہوتے ہیں اس لئے اب امریکہ بھارت کی طرف کوئی زیادہ توجہ نہیں دے رہا جبکہ دوسری طرف پاکستان اور بھارت کےد رمیان ہونے والی گزشتہ فضائی جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت کا جھوٹ سب کے سامنے آگیا ہے جس کی وجہ سے بھارت کو یورپی میڈیا میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ وکاش یادیو کو FBI نے اشتہاری قرار دیدیا ہے اس پر امریکیوں کی قتل کی سازش کا الزا م ہےRAW ہی کے ایک دوسرے ایجنٹ نکھل گپتا پر بھی قتل کا مقدمہ ہوا ہے حالیہ علاقائی واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی پالیسیوں کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے پاکستان کے لیے یہ صورتحال محض چیلنج نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک موقع بھی ہے، کیونکہ علاقائی سطح پر بھارت کا کردار واضح تضاد کا شکار نظر آتا ہےبھارت جو کبھی افغان طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر پاکستان پر الزام تراشتا تھا۔
آج بالواسطہ طور پر انہی قوتوں کے ساتھ سفارتی روابط استوار کرنے اورکالعدم ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو سہولت فراہم کر کے پاکستان میں انارکی پھیلانا چاہتا ہے یہ تبدیلی نہ صرف بھارتی پالیسی کے تضادات کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک نیا سفارتی بیانیہ تشکیل دینے کا موقع بھی فراہم کرتی ہےپالیسی کے تناظر میں، پاکستان کو چاہیے کہ وہ خطے میں استحکام، بارڈر سکیورٹی، اور دہشت گردی کے تدارک کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی سفارتی حکمت عملی کو ازسرِ نو متوازن کرےاگر یہ پالیسی شفافیت، تسلسل اور علاقائی تعاون پر مبنی ہو تو پاکستان نہ صرف اپنے تاثر کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ ایک فعال اور فیصلہ کن خطے کی حیثیت بھی دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔



