پاکستان، ترکیہ،آذربائیجان 3ملک، دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: شہباز شریف
وزیراعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے علاقائی، عالمی مسائل پر قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق
باکو، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی طرف سے آذربائیجان کے عوام اور حکومت کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان تین ملک ہیں، مگر دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور تینوں بردار ممالک نے متعدد بار اپنی دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔
وزیر اعظم نے معرکہ حق کی کامیابی کے جشن میں آذربائیجان کے دستے کی شرکت کو اہم قرار دیا اور تقریب میں علامہ اقبالؒ کا شعر پڑھ کر آزادی کے لیے جدوجہد، عزم اور حوصلے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی بہادر افواج نے بلند حوصلے سے کامیابی حاصل کی اور پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کے منصفانہ موقف کا بھرپور ساتھ دیا۔
وزیراعظم نی بھارتی جارحیت کے دوران پاکستان کی افواج کی بہادری اور دشمن کے سات جنگی طیارے مار گرانے کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی جنگی صلاحیتیں دیکھیں۔ انہوں نے مستقبل کے لیے مشترکہ تعاون اور علاقے میں امن کی اہمیت پر زور دیا اور ترکیہ اور قطر کے کردار کا بھی اعتراف کیا۔
وزیراعظم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے امن معاہدے میں صدر ٹرمپ اور غزہ امن معاہدے میں تمام ممالک کی ذمہ داری کو سراہا اور صدر ایردوان کی ترکی کو ترقی یافتہ ملک بنانے کی کاوشوں کو قابل ستائش قرار دیا۔ دوسری جانب وزیراعظم اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے آذربائیجان کے یوم فتح کی پریڈ کے موقع پر صدر ترکیہ رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے صدر اردوان اور ترکیہ کے برادر عوام کو ترکیہ کے یوم جمہوریہ کی مبارکباد دی اور پاکستان، ترکیہ دوستی کے ایک طویل پرجوش تقریبات کو سراہا جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیراعظم نے ترکیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کی سطح پر روابط پر مشتمل ایک وسیع شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔ اس حوالے سے یہ طے پایا کہ ترکیہ کا ایک وزارتی وفد جلد ہی پاکستان کا دورہ کرے گا۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور خطے اور وسیع تر مسلم دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اپنی مشترکہ خواہش کا اعادہ کیا۔



