دنیا میں بہت سے اسکینڈل سامنے آتے ہیں مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ جیفری اپسٹین کا معاملہ ایسا ہی ایک تاریک باب ہے جس میں طاقت و بلیک میلنگ اور جرم کی ایک عجیب اور خوف ناک کہانی موجود ہے۔ اپسٹین بظاہر ایک کامیاب امریکی ارب پتی لگتا تھا مگر اس کی اصل طاقت اس کے آس پاس موجود وہ لوگ تھے جو دنیا کی سیاست و معیشت اور میڈیا پر اثر رکھتے تھے۔
اپسٹین کا اصل کھیل پیسے سے نہیں بلکہ تعلقات سے چلتا تھا اور اس نے انہی تعلقات کو استعمال کر کے ایک ایسا نیٹ ورک بنا لیا جو کئی سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا۔ اس نیٹ ورک کے کام کرنے کا آغاز اس وقت ہوا جب اپسٹین نے نیویارک اور فلوریڈا میں بڑی بڑی شخصیات کے ساتھ تعلقات بنانا شروع کیے۔ وہ خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتا تھا جو سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں میں مشورہ دیتا ہے مگر اصل میں وہ کہیں بھی کوئی ایسا کاروبار نہیں چلا رہا تھا جس سے اربوں کی آمدنی ہوتی۔
لوگ حیران تھے کہ بغیر کسی بڑی کمپنی یا کھلے کاروبار کے یہ شخص دولت کہاں سے لا رہا ہے۔ بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ اس کی اصل کمائی ان تعلقات سے تھی جو وہ طاقتور لوگوں کے درمیان بناتا تھا اور پھر انہی تعلقات کے بدلے وہ فائدے حاصل کرتا تھا۔ اپسٹین کے نیٹ ورک کا بنیادی حصہ اس کے گھر اور اس کے نجی جزیرے سے چلتا تھا۔
نیویارک کے اس کے مینشن میں سیکڑوں کیمروں کا سسٹم لگا ہوا تھا۔ مختلف کمروں میں خفیہ کیمرے تھے جن کے بارے میں متاثرہ لڑکیوں اور ملازمین نے عدالت میں گواہی دی کہ وہ کیمرے مہمانوں کی ویڈیوز بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہی وہ ویڈیوز تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپسٹین انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا تھا۔ کوئی طاقتور شخص اس کے گھر میں آتا اپسٹین اسے نوجوان لڑکیوں سے ملواتا اور خفیہ ریکارڈنگ ہو جاتی۔ یہی ریکارڈنگ اس کے پاس ’’ طاقت‘‘ بن کر رہتی تھی۔
اس نیٹ ورک میں لڑکیوں کو لانے کا کام صرف اپسٹین نہیں کرتا تھا۔ گیسلین میکسویل اس کی سب سے اہم ساتھی تھی۔ وہ ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھتی تھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی اور سماجی تقریبات میں بڑے لوگوں سے تعلقات رکھتی تھی۔ عدالت میں گواہوں نے بیان دیا کہ میکسویل نوجوان لڑکیوں کو نوکری یا ماڈلنگ کے جھوٹے وعدوں سے لاتی تھی۔ لڑکیوں کو شروع میں مالش و اسسٹنٹ کے کام یا ماڈلنگ کے تربیتی پروگرام کا لالچ دیا جاتا۔ پھر انہیں اپسٹین کے گھروں میں لے جایا جاتا اور دھیرے دھیرے انہیں ایسے ماحول میں ڈال دیا جاتا جہاں سے نکلنا مشکل ہو جاتا تھا۔
کئی لڑکیوں نے عدالت میں بتایا کہ جب وہ پہلی بار اپسٹین کے گھر گئیں تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ کچھ نابالغ لڑکیاں تھیں کچھ مالی مشکلات کا شکار تھیں کچھ ایسی تھی جن کے ماں باپ کی علیحد گی ہوچکی تھیں۔ اپسٹین اور میکسویل ان لڑکیوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ لڑکیوں سے کہا جاتا کہ اگر وہ مزید لڑکیاں لائیں گی تو انہیں اضافی پیسے ملیں گے۔
اس طرح یہ نیٹ ورک آہستہ آہستہ ایک ایسے ’’ بھرتی نظام‘‘ میں بدل گیا جو مسلسل نیا شکار تلاش کرتا رہتا تھا۔ اپسٹین کا نجی جزیرہ جسے Little St. Jamesکہا جاتا تھا اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مرکز تھا۔ وہاں وہ ایسی محفلیں رکھتا جہاں دنیا کی مشہور شخصیات آتی تھیں۔ پروازوں کے ریکارڈ میں اس کے نجی طیارے پر کئی نام سامنے آئے۔ ان ریکارڈز کے بارے میں بحث آج بھی جاری ہے کہ کون محض سفر کے لیے گیا اور کون واقعی ان سرگرمیوں میں شامل تھا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اپسٹین کا یہ جزیرہ کسی عام تفریحی مقام کی طرح نہیں تھا۔ متاثرہ خواتین نے گواہی دی کہ وہاں باقاعدہ ایک منظم طریقہ کار کے تحت لڑکیوں کو رکھا جاتا انہیں کام کے بدلے سہولتیں دی جاتیں اور پھر انہیں طاقتور لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔
یہ نیٹ ورک کئی سال کامیابی سے اس لیے چلتا رہا کہ اپسٹین کے رابطے بہت مضبوط تھے۔ وہ سیاستدانوں، ارب پتی کاروباری شخصیات، معروف سائنسدانوں، فنکاروں اور شاہی خاندانوں کے افراد تک رسائی رکھتا تھا۔ ان تعلقات کا فائدہ اسے یہ ملا کہ اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرتے ہوئے ادارے ہچکچاتے تھے۔ جب اسے پہلی بار گرفتار کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر اسے انتہائی نرم سزا دی گئی۔ اسے صرف چند ماہ جیل جانا پڑا اور وہ بھی ایسی جیل جہاں سے وہ روزانہ بارہ گھنٹے باہر جا سکتا تھا۔
یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اپسٹین کے پاس ایسے راز تھے جن تک کوئی ادارہ ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ تفتیش کی دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اپسٹین اپنے گھروں میں آنے والے مہمانوں کے بارے میں باقاعدہ نوٹس لکھتا تھا۔ کون کیا بات کر رہا ہے کون کس کے ساتھ آیا کس نے کیا خواہش ظاہر کی کون کس کمزوری کا شکار ہے، کون کس مالی مسئلے میں ہے یہ سب باتیں اس کے نوٹس میں شامل ہوتی تھیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپسٹین ایک قسم کا ’’ کنٹرولڈ انفارمیشن سینٹر‘‘ چلاتا تھا۔ یعنی وہ معلومات اکٹھی کرتا اور پھر اس کے ذریعے فائدے اٹھاتا۔
اس کے ملازمین نے عدالت میں بتایا کہ اپسٹین اکثر مہمانوں کی فہرستیں خود ترتیب دیتا تھا۔ وہ کسی نئی لڑکی کو دیکھ کر طے کرتا تھا کہ اسے کس مہمان سے ملانا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ اپسٹین کے گھر آنے والے مہمانوں کو اکثر یہ معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ کیمرے کہاں کہاں لگے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تو وہاں سے ہزاروں ویڈیوز، تصاویر اور دستاویزات ملیں جن میں لوگوں کی شناخت تک چھپی ہوئی تھی۔ یہ نیٹ ورک صرف جسمانی استحصال تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں بلیک میلنگ کا عنصر سب سے زیادہ اہم تھا۔
اگر کوئی طاقتور شخص اپسٹین کے دام میں آ جاتا تو اپسٹین اس سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ کبھی کاروباری فائدے کبھی سیاسی رابطے کبھی مالی تعاون۔ یہ نیٹ ورک اپنے فائدوں کے لیے ہر شخص کو استعمال کرتا تھا۔ اس کا مقصد لوگوں کو برباد کرنا نہیں بلکہ ان پر کنٹرول قائم رکھنا تھا۔ جب اپسٹین کی دوسری بار گرفتاری ہوئی تو صورتحال بدل گئی۔ اس بار تحقیقات زیادہ سخت تھیں عدالتیں زیادہ سنجیدہ تھیں اور میڈیا بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ لیکن حیران کن طور پر اپسٹین جیل میں مشکوک حالات میں مردہ پایا گیا۔
سرکاری طور پر اسے خودکشی قرار دیا گیا مگر بہت سے لوگوں نے اسے قتل کہا۔ وجہ واضح تھی اگر اپسٹین زندہ رہتا تو شاید وہ بہت سے طاقتور لوگوں کے نام اور راز سامنے لے آتا۔ اس کے مرنے سے وہ تمام راز ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے یا کم از کم بہت حد تک چھپ گئے۔ اس واقعے کے بعد جب اپسٹین فائلز اور اپسٹین لیکس سامنے آئیں تو دنیا میں ہلچل مچ گئی۔
لوگوں نے پہلی بار سمجھا کہ اپسٹین کا نیٹ ورک صرف چند لڑکیوں کی استحصال کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسا سسٹم تھا جس میں دنیا کی طاقت ور ترین شخصیات شامل تھیں۔ یہ ایک ایسا گٹھ جوڑ تھا جو پیسے، طاقت، جرم اور بلیک میلنگ پر چلتا رہا۔ اور حیرت کی بات یہ کہ کئی سال کوئی اسے روک نہ سکا۔ پاکستان میں جب یہ لیکس سامنے آئیں تو لوگوں نے سوال کیا کہ کیا اس میں پاکستان کی کسی شخصیت کا نام بھی ہے۔ اب تک جتنی بھی مستند رپورٹیں سامنے آئی ہیں ان میں نہ عمران خان کا نام ہے اور نہ کسی پاکستانی وزیر اعظم کا۔ مگر یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان جب کرکٹ کھیلتا تھا تو اس وقت ان کی کئی ملاقاتیں جیفری اپسٹین سے ہوئیں وہ ان کے جزیرے پر بھی گئے لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کے عمران خان اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
دوسری طرف اپسٹین نے یہ بات ثابت کی کہ دنیا میں طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ معلومات سے بھی آتی ہے۔ جو شخص دوسروں کی کمزوریوں کا ریکارڈ رکھتا ہے وہ کئی لوگوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اپسٹین نے یہی کیا اس نے دولت، تعلقات اور جرم کو ملا کر ایک ایسا جال بنا لیا جس سے نکلنا بہت مشکل تھا۔ مگر ہر غلط کام کا انجام ہوتا ہے اور آخرکار اس نیٹ ورک کی حقیقت سامنے آ گئی۔ یہ پورا معاملہ اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں گندگی چھپانا ممکن ہے مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب سچ سامنے آ جاتا ہے چاہے کتنے ہی طاقتور لوگ اسے دبانے کی کوشش کریں۔
اپسٹین تو زندہ نہ رہا مگر اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے نیٹ ورک سے جڑے کئی لوگوں کی اصل صورت دنیا کے سامنے آ گئی۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ طاقت کے پردے کے پیچھے کیسی دنیا چھپی ہوئی تھی۔



