انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبفن اور فنکار

سماج اور مکالمہ۔۔۔

حسنین جمیل

کسی بھی صحت مند سماج کے لئے مکالمہ بہت ضروری ہوتا ہے ۔مکالمہ سماجی ارتقا میں بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرتا ہے جب کسی ایسے موضوع جس کو شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہو اور اس پر مقدس پن کی چادریں ڈال کر اونچے طاق میں رکھ دیا جائے تو سماج رک جاتا ہےٹھہر جاتا ہے فکری اور ذہنی بانجھ پن کے مارے لوگ سماج کی بربادی کا باعث بن جاتے ہیں ۔

افسوس کہ ہم نے ایسے ہی سماج کی تشکیل کی ہے 78 سال سے یہی کچھ کرتے چلے آرہے ہیں ، سب سے پہلے ہم نے فنون لطیفہ کا گلا گھونٹ دیا فکشن اور شاعری پر سیاہ ہاشیے لگا دیئے کہ منٹو جیسے مہا گیانی کو نصابی کتب سے خارج کر دیا ، مصوری کو مذہبی لبادے میں ڈھانپ دیا جبکہ مجسمہ تراشی کو ہندو مت کی دشنام طرازی میں گھول دیا گیا ۔

ایسے سماج میں مکالمہ کیسے ہو سکتا تھا جو نصابی کتب پڑھ کے سند یافتہ ہوتے ہیں وہ صرف سرکاری اور عالمی ساہو کار کمپنیوں کے ملازم بننے
کے اہل ہوتے ہیں وہ اس فکری بانجھ سماج میں تبدیلئ برپا کرنے کا نہ سوچتے ہیں بلکہ اس قابل بھی نہیں ہوتے ، جہاں کتب خانے ویران اور ریستوران آباد ہوں وہاں قوم دماغ سے نہیں معدے سے سوچنے کی عادی ہو جاتی اس کے نزدیک 500 روپے کی کتاب سے زیادہ 2000 کی بسیار خوری کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔

سینما ہمارا ویسے ہی برباد ہے جبکہ تھیٹر کے احیا کی ویسے ہی کوشش نہیں کی گئی ٹی ڈرامہ ضرور کامیاب ہے مگر اس کا دائرہ دو سے تین موضوعات تک محدود ہے ، اشاعتی اور برقی ذرائع ابلاغ پر آزادی اظہار کی قدغن ہو تو کہاں کا مکالمہ رہ جاتا ہے ، سماجی رابطے کے ذرائع ابلاغ بھی مکالمہ پر نہیں صرف شتر بے مہار مناظرے پر چل ر ہے ہیں لیکن پڑوسی ملک بھارت اس معاملے میں ہم سے بہت بہتر دکھائی دیتا ہے وہاں مکالمہ چلتا ہے ان کے ہاں سماجی گھٹن نہیں وہاں کا فکشن شاعری فلم ڈرامہ فنون لطیفہ کی دیگر اصناف آزادی کی فضا میں سانس لیتی ہیں اخبارات ٹی وی آزادی اظہار کا حق رکھتے ہیں تب ہی ایک صحافی ساور ترودی ایک عالم مولانا شمائل ندوی اور ایک سکرپٹ رائٹر شاعر دانشور جاوید اختر کے درمیان بیٹھ کر مکالمہ کرواتا ہے کہ ، کیا خدا کا وجود ہے اور آخر میں جاوید اختر کا یہ جملہ اب ہم مکالمے کے بعد اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھائیں گے ، واقعی مکالمہ سماجی ارتقا کا باعث بن جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button