انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

اسلام آباد کی میز سے اٹھتی امید اور ٹوٹتی خاموشی

عاصم رضا خیالوی

دنیا کی سفارتی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو صرف مذاکرات نہیں ہوتے بلکہ آنے والے وقت کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ حال ہی میں Islamabad میں ہونے والے اہم مذاکرات اسی نوعیت کے تھے، جہاں United States اور Iran کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز ہوا تھا اور Pakistan اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا تھا۔

اب یہ مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سفارتی مرحلے کا خاتمہ ہے، مگر اس کے اثرات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہے۔ خطے کی سیاست، عالمی میڈیا اور خاص طور پر India کے میڈیا میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض بھارتی میڈیا حلقوں میں اس بات پر حیرت انگیز خوشی دیکھنے میں آئی کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ ختم ہو گیا۔ ایسے بیانات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا واقعی جنگ، دہشت گردی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو کسی خطے میں سیاسی فائدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے؟
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ United States اور Iran کے تعلقات دہائیوں سے شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ خصوصاً 1979 کے بعد آنے والی Iranian Revolution نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا تقریباً ختم کر دی تھی۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد میں ہونے والی یہ سفارتی کوشش ایک امید کی کرن سمجھی جا رہی تھی۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ Israel اور Hezbollah کے درمیان جھڑپیں، خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت اور عالمی طاقتوں کی سیاسی صف بندی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ تیل کی عالمی منڈیوں سے لے کر سمندری تجارتی راستوں تک، ہر جگہ اس کشیدگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اسی پس منظر میں ایک ایسا پلیٹ فارم بھی سامنے آیا جسے بعض حلقوں میں “بورڈ آف پیس” کہا گیا۔ اس پلیٹ فارم میں United States، Israel اور Pakistan سمیت چند دیگر ممالک کو شامل کیا گیا۔ بظاہر اس کا مقصد دنیا میں امن کو فروغ دینا اور بڑھتی ہوئی جنگی فضا کو کم کرنا تھا۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس پلیٹ فارم کے بارے میں سوالات بھی اٹھنے لگے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اگر کسی ادارے کا نام امن ہو مگر اس کے سائے میں جنگی حکمت عملیوں کی بازگشت سنائی دے تو پھر اس کے اصل مقصد پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہ وہ مرحلہ تھا جب Pakistan کا کردار نمایاں ہوا۔ پاکستان نے یہ واضح کیا کہ اگر کسی سفارتی فورم کا مقصد واقعی امن ہے تو اسے حقیقی امن کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی دباؤ یا عسکری مفادات کے لیے۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران Iran نے بھی اپنے تحفظات واضح انداز میں پیش کیے۔ ایران کے نمائندوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے چند بنیادی اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام
اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت
خطے میں فوجی دباؤ اور دھمکیوں کا خاتمہ
سفارتی مذاکرات کو باہمی احترام اور مساوات کی بنیاد پر آگے بڑھانا
دوسری جانب United States کی جانب سے بھی خطے میں سکیورٹی خدشات اور فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یوں اسلام آباد کی میز پر ہونے والی گفتگو صرف دو ممالک کے اختلافات تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے جڑ گئی۔
اسی دوران امریکی صدر Donald Trump کے سخت بیانات بھی عالمی میڈیا میں زیر بحث رہے۔ تاہم سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ میدانِ سیاست کے بیانات اور مذاکرات کی میز پر ہونے والی گفتگو اکثر مختلف راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
آج جب اسلام آباد کے یہ مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں تو ایک اہم سوال دنیا کے سامنے کھڑا ہے:
کیا دنیا جنگ کی طرف بڑھے گی یا مذاکرات کے دروازے دوبارہ کھلیں گے؟
تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی آئی ہے کہ توپوں اور میزائلوں کی آواز وقتی طاقت کا احساس تو دلا سکتی ہے، مگر پائیدار امن ہمیشہ مکالمے اور سمجھوتے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اس حقیقت کو سمجھ لیں تو شاید آنے والے برسوں میں یہ لکھا جائے کہ ایک خطرناک عالمی تصادم کے سائے میں بھی امن کی امید کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی — اور اس امید کی ایک جھلک Islamabad کی سفارتی میز پر ضرور دیکھی گئی تھی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button