پاک ٹی ہائوس کا کیا تاریخی پس منظر،فیض ،منیرنیازی سمیت کن کا گہرا تعلق؟ فوری جانیئے

لاہور:(رپورٹ/شہزاد فراموش)پاک ٹی ہاؤس، لاہورجو تقسیمِ ہند سے قبل ”انڈیا ٹی ہاؤس“ کے نام سے معروف تھا، یہ 1940ء کی دہائی کے اوائل میں بوٹا سنگھ کی نگرانی میں چلتا رہا، بعد ازاں اسے سراج الدین نے پٹے پر حاصل کر لیا۔ یہ ایک چائے خانہ نہیں، بلکہ دانش وروں کا مسکن، ادیبوں کا گلستان اور شاعروں کی ایک درخشاں کہکشاں ہے۔ جو بھی نامور اہلِ قلم سے ملاقات کا خواہاں ہو، اسے یہاں کی فضا میں ان گنت معتبر ادبی شخصیات کی جھلک محسوس ہو جاتی ہے۔

اس کی فضاؤں میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، ناصر کاظمی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منو بھائی، انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ، عبداللہ حسین، امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید، احمد بشیر، ناصر زیدی، یونس جاوید اور عطاء الحق قاسمی جیسے نابغہء روزگار ادیب و شعرا چائے کی چسکیوں کے ساتھ علم و آگہی کے دریا بہاتے رہے۔ یہاں ہونے والے تنقیدی اجلاس اور فکری مباحث نئی نسل کو فکر و نظر کے تازہ زاویے عطا کرتے رہے ہیں۔

پاک ٹی ہاؤس اور حلقہء اربابِ ذوق مدتوں سے یک جان دو قالب رہے ہیں۔یہ مقام طویل عرصے تک ادبی و فکری تحریکوں کی جنم بھومی اور آماجگاہ رہا۔ تاہم جب 2000ء میں سراج الدین کے صاحبزادے زاہد حسین نے کم آمدنی کو جواز بنا کر اسے فروخت کر دیا، تو اہلِ دانش کو یوں محسوس ہوا جیسے ان کے سروں سے سایہ اٹھ گیا ہو۔ اس سانحے نے انہیں سڑکوں پر لا کھڑا کیا اور اس تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے ایک مسلسل جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس دوران حلقہ ء اربابِ ذوق کے ہفتہ وار اجلاس ایوانِ اقبال کی بیسمنٹ میں تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتے رہے۔
مجھے یاد ہے غالباً 2006ء میں راقم الخروف اورسینئر صحافی میم سین بٹ نے آخری بار اس مقام کو حلقے کے انتخابات کے لیے کھلا دیکھا تھا۔

تقریب ختم ہوتے ہی پھر تالے پڑ گئے، مگر فضا میں ایک مانوس ادبی خوشبو باقی تھی، منیر نیازی اور روحی کنجاہی بھی ووٹ ڈالنے آئے ہوئے تھے۔ اسی موقع پرایک طویل وقفے کے بعد، حلقے کے معزز رکن ناصر علی سے ملاقات ہوگئی، ایک ایسی ملاقات جس نے دیرپا تعلق کی بنیاد رکھ دی۔

پاک ٹی ہاؤس کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے شاعر اور ادیب لاہور پہنچ کر سب سے پہلے اسی جگہ کا رخ کرتے ہیں اور حلقے کے اجلاس میں شرکت کو باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہ مقام کچھ ویسا ہی ہے جیسے لندن کا ویسٹ منسٹر ایبی، جہاں پوئٹس کارنر میں چوسر، شیکسپیئر، ملٹن، ڈکنز اور کیٹس کی یادگاریں اہلِ ذوق کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اسی طرح ویٹیکن کی اپاسٹولک لائبریری جہاں نامور لکھاریوں کے قدیم قلمی نسخے محفوظ ہیں جوعلمی ورثے کی علامت ہے۔ پاک ٹی ہاؤس بھی ہمارے ادبی سرمایہ کی ایسی ہی جیتی جاگتی علامت ہے، جہاں دیواروں پر آویزاں اہلِ قلم کی تصاویر اس کی دلکشی کو دوچند کر دیتی ہیں۔

جب ٹی ہاؤس بند ہوا تو اہلِ قلم یک زبان ہو گئے اور اِس کی بحالی کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔ بالآخر تیرہ برس بعد، 2013ء میں میاں نواز شریف کی سرپرستی میں اس کی تزئین و آرائش کے بعد اسے دوبارہ اہلِ ادب کے لیے کھول دیا گیا۔ اس موقع پر عطاء الحق قاسمی نے بجا طور پر کہا تھا کہ پاک ٹی ہاؤس کی بندش نے ہمیں ادبی، ثقافتی اور سماجی میل جول سے محروم کر دیا تھا اور اس کی بحالی نے اس روایت کو نئی زندگی عطا کی۔

آج جب کہ مریم نواز شریف پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ ہیں، اہلِ دانش ان سے یہ بجا توقع رکھتے ہیں کہ اس تاریخی ادارے کی توسیع کی جائے۔ اس وقت حلقہء اربابِ ذوق کے اجلاسوں میں جگہ کی تنگی کے باعث معزز ارکان کو کھڑے ہو کر شرکت کرنا پڑتی ہے۔ سیکرٹری آفتاب جاوید کے مطابق بعض اجلاسوں میں شرکاء کی تعداد سو سے تجاوز کر جاتی ہے، جب کہ نشستوں کی تعداد اس سے آدھی اور کمرہ بھی تنگ پڑ جاتاہے ،اس کے علاوہ ائیر کنڈیشنرز کا ذوق برودت بھی جواب دے چکا ہے۔

ادبی حلقوں کی متفقہ رائے ہے کہ اگر پاک ٹی ہاؤس کے ساتھ ملحقہ دوکان جو وائی ایم سی اے کا ہی حصہ ہے۔اس کو پاک ٹی ہاؤس میں شامل کر دیا جائے تو حلقے کے چار سو سے زائد ارکان اور دیگر اہلِ ذوق باوقار اور سہولت کے ساتھ ان علمی و ادبی نشستوں میں شریک ہو سکیں گے۔میاں نواز شریف جو لاہور اتھارٹی فار ہیرٹیج ریوائیول (لہر) کے سرپرست ہیں۔

لاہور کی ادبی برادری پہلے ہی نواز شریف اور وزیر اعلیٰ کی ممنون ہے۔ اگر اس تاریخی مرکز کو وسعت مل گئی تو نہ صرف یہ کہ ادب کو فروغ ملے گا بلکہ آنے والی نسلوں میں ذوقِ ادب کو بھی جِلا ملے گی۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا کارنامہ ہوگا جسے ادبی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس سے یہ پیغام بھی ادبی کمیونٹی کو جائے گا کہ دانشور، ادیب اور شعراء اُن کیلئے اور ن لیگ کیلئے پہلے اہم تھے اور آج اہم ترین ہیں۔




