
یہ وطن صرف نقشے پر کھینچی گئی چند سرحدی لکیروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ان قربانیوں کا امین ہے جو روزانہ کسی نہ کسی محاذ پر دی جا رہی ہوتی ہیں۔ انہی قربانیوں میں ایک عظیم اور خاموش قربانی اُس سپاہی کی ہے جو کھلے آسمان تلے، موت کے سائے میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے۔ وہ سپاہی جس کے وجود سے ہماری سلامتی جڑی ہے، مگر جس کی زندگی اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
جب ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو رہے ہوتے ہیں، جب ہمارے شہر روشنیوں سے جگمگا رہے ہوتے ہیں، جب ہم اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہنسی خوشی کے لمحات گزار رہے ہوتے ہیں، اُس وقت یہی سپاہی کسی ویران چوکی پر، کسی سنسان سرحد پر، یا کسی خطرناک مورچے میں کھڑا اپنی جان ہتھیلی پر رکھے دشمن کی ہر ممکن یلغار کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔ اس کے پاس نہ تو آرام دہ بستر ہوتا ہے، نہ موسم کی سختیوں سے بچاؤ کا کوئی مکمل انتظام، مگر اس کے حوصلے فولاد سے بھی زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
یہ سپاہی گرمی کی جھلسا دینے والی تپش میں بھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا، سردی کی یخ بستہ راتوں میں بھی اُس کے قدم نہیں ڈگمگاتے، اور بارشوں کی طوفانی یلغار بھی اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایک لمحے کیلئے بھی غافل ہوا تو اس کی قیمت صرف اس کی جان نہیں بلکہ پورے وطن کی سلامتی ہو سکتی ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اکثر اپنے اس ہیرو کو صرف مخصوص دنوں اور تقریبات تک محدود کر دیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر چند نعرے لگا کر، چند تصویریں شیئر کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ اس سپاہی کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ اس کے خواب کیا ہوتے ہیں؟ اس کے دل میں اپنے بچوں، اپنے والدین، اپنی بیوی کیلئے کتنی محبت چھپی ہوتی ہے جسے وہ وطن کی خاطر قربان کر دیتا ہے؟
یہ سپاہی صرف گولیوں کا سامنا نہیں کرتا بلکہ وہ تنہائی، محرومی اور مسلسل خطرے کے احساس سے بھی نبرد آزما رہتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے کسی پیارے کی آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہو پاتا، کیونکہ اُس کی ڈیوٹی اُس کے ذاتی جذبات سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کر کے، اپنے دکھ کو سینے میں دفن کر کے، وطن کی حفاظت کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر شہید کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے جو زندگی بھر اس قربانی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ ایک ماں جو اپنے بیٹے کی راہ دیکھتے دیکھتے بوڑھی ہو جاتی ہے، ایک بیوی جو اپنے سہاگ کی یاد میں زندگی گزار دیتی ہے، اور وہ بچے جو اپنے باپ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو کر بڑے ہوتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود وہ فخر کرتے ہیں کہ اُن کا عزیز اس مٹی کی حفاظت کیلئے قربان ہوا۔
یہ کالم صرف جذباتی الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی ہے کہ ہم اپنے محافظوں کی قدر کرنے میں اکثر کوتاہی برتتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اس سپاہی کی قربانیوں کو محض الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس کے خاندان کا خیال رکھیں، اس کی عزت کریں، اور اپنے اندر وہ حب الوطنی پیدا کریں جو اُس کے سینے میں موجزن ہے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ سپاہی کھلے آسمان تلے، موت کے سائے میں کھڑا نہ ہو تو ہمارے گھروں کی چھتیں بھی محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ اگر اُس کی آنکھیں جاگتی نہ رہیں تو ہماری نیندیں بھی چھن سکتی ہیں۔
لہٰذا آج یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے سپاہی کو صرف ایک وردی پہنے فرد نہیں بلکہ ایک زندہ جذبہ، ایک متحرک قربانی اور ایک ناقابلِ فراموش حقیقت کے طور پر تسلیم کریں گے۔ کیونکہ یہی سپاہی ہے جو اپنی جان دے کر بھی ہمیں جینے کا حق دیتا ہے، اور یہی وہ خاموش محافظ ہے جس کی بدولت یہ وطن قائم و دائم ہے۔



