انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

فرسودہ نظام،عوام بے بس،سنجیدہ مکالمہ ضروری

شا ہد جاوید ڈسکوی/ دستک

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، کرپشن ، لوٹ مار ،سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوری اور بڑھتی ہوئی معاشی غلامی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایک مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے تو شام تک اس فکر میں جلتا رہتا ہے کہ بچوں کیلئے آٹا، چینی، دودھ اور دوائی کیسے خریدے گا۔ متوسط طبقہ مسلسل سکڑ رہا ہے جبکہ غریب طبقہ غربت کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔

ان تمام مسائل کے پیچھے اگر کسی بنیادی خرابی کو تلاش کیا جائے تو وہ یہی فرسودہ پارلیمانی جمہوری نظام ہے جس نے ملک کو حقیقی عوامی خدمت کے بجائے مفاداتی سیاست، کرپشن، اقرباء پروری اور اشرافیہ کی حکمرانی میں تبدیل کر دیا ہے۔ قوم نے جمہوریت سے یہ امید وابستہ کی تھی کہ عوام کے منتخب نمائندے ملک کو ترقی، انصاف اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے مگر بدقسمتی سے یہاں جمہوریت رفتہ رفتہ چند خاندانوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور طاقتور سیاسی گروہوں کی لونڈی بن گئی۔ انتخابات عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا کاروبار بن گئے۔ اربوں روپے خرچ کرکے اسمبلیوں میں پہنچنے والے افراد اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کرپشن اس نظام کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی نظر آتی ہے۔ملک میں ہر نئی حکومت عوام کو کفایت شعاری، قربانی اور صبر کی تلقین کرتی ہے مگر خود حکمران طبقہ شاہانہ طرزِ زندگی ترک کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ غریب آدمی بجلی کے بل، پٹرول کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب کر مر رہا ہے لیکن حکمرانوں کے پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں کے قافلے، غیر ملکی دورے اور سرکاری اخراجات کم نہیں ہوتے۔ عوام کو کہا جاتا ہے کہ مشکل وقت ہے، قوم قربانی دے، مگر اشرافیہ کے محلات، مراعات اور عیاشیاں جوں کی توں قائم رہتی ہیں۔

یہی احساسِ محرومی عوام کے اندر غصے اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔پاکستان میں سیاسی جماعتیں بھی نظریاتی ادارے کے بجائے خاندانی سلطنتوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ قیادت میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ وراثت کے اصول پر منتقل ہوتی ہے۔پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں حقیقی سیاسی قیادت پیدا نہیں ہو پا رہی۔ باصلاحیت اور مخلص لوگ اس نظام میں آگے آنے کے بجائے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ خوشامدی، سرمایہ دار اور بااثر افراد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔آج عوام جن معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ان میں عالمی حالات کا بھی بڑا کردار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی غیر یقینی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے اثرات پاکستان جیسے کمزور معاشی ممالک پر زیادہ شدت سے پڑتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہر عالمی بحران کا بوجھ صرف عوام ہی کیوں اٹھائیں؟

اگر پٹرول مہنگا ہو تو عوام متاثر، اگر بجلی مہنگی ہو تو عوام متاثر، اگر آئی ایم ایف کی شرائط آئیں تو عوام متاثر۔ دوسری طرف اشرافیہ کی مراعات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کے علاج یورپ میں ہوتے ہیں اور ان کے اثاثے محفوظ رہتے ہیں جبکہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کیلئے ترستا رہتا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ نظام نے اداروں کو بھی کمزور کیا ہے۔ ہر حکومت اپنے سیاسی مفادات کیلئے اداروں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ احتساب بھی اکثر سیاسی انتقام کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ اپوزیشن میں موجود افراد کرپٹ قرار دیئے جاتے ہیں اور اقتدار میں آتے ہی وہی لوگ "محب وطن” بن جاتے ہیں۔ اس دوہرے معیار نے عوام کا اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے۔ آج عام پاکستانی سیاستدانوں کے دعوؤں پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسئلہ صرف چہروں کا ہے یا پورا نظام ہی ناکام ہو چکا ہے؟ ۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر نظام ہی خرابیوں سے بھرا ہو تو صرف حکمران بدلنے سے کچھ نہیں بدلتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں مختلف جماعتیں اقتدار میں آتی رہیں مگر عوام کے حالات میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ ملک کو محض نئی حکومت نہیں بلکہ ایک نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام متعارف کرایا جائے جو حقیقی معنوں میں احتساب، میرٹ، سادگی اور عوامی خدمت پر مبنی ہو۔ حکمرانوں کیلئے بھی وہی قوانین ہوں جو عام شہریوں کیلئے ہیں۔ قومی وسائل پر پہلا حق عوام کا تسلیم کیا جائے۔ سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے۔ تعلیم، صحت اور روزگار کو ترجیح دی جائے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو لازمی بنایا جائے تاکہ قیادت موروثیت کے بجائے صلاحیت کی بنیاد پر سامنے آئے۔

اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنا بھی ناگزیر ہے۔ جب تک قانون سب کیلئے برابر نہیں ہوگا اور طاقتور افراد احتساب سے بالاتر رہیں گے، عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہیں، مالک نہیں۔پاکستان کے عوام اب شعور کی اس منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں محض نعروں اور وعدوں سے انہیں مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔

وہ دیکھ رہے ہیں کہ قربانی ہمیشہ انہی سے مانگی جاتی ہے جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اپنی مراعات چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نظام کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ملک میں سنجیدہ قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔ اگر ہم نے نظام کی خرابیوں کو تسلیم کرکے اصلاح کی کوشش نہ کی تو عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ انصاف، دیانتداری اور مساوات سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پاکستان کو بھی آگے بڑھنے کیلئے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو چند خاندانوں یا طبقوں کے بجائے واقعی عوام کی نمائندگی کرتا ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button