انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

آبنائے ہرمز کا بحران 

عاصم رضا خیالوی

عالمی طاقتیں میدان میںمشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ اور Iran کے درمیان جاری تنازع اگرچہ بظاہر جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر تھم گیا تھا، لیکن حالیہ بیانات اور عسکری تیاریوں نے واضح کر دیا ہے کہ صورتحال ابھی بھی انتہائی نازک ہے۔امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی “انتہائی نازک حالت” میں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے Oval Office میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی اس مریض کی طرح ہے جس کی زندگی صرف مشینوں کے سہارے قائم ہو۔ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کو 14 نکاتی تجویز بھی پیش کی ہے جس میں فوری جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، مستقبل میں ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ شامل ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا۔اس بحران کا اصل مرکز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz ہے۔ یہی وہ آبی راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس راستے پر کنٹرول اور اس کی ممکنہ بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔اسی تناظر میں United Kingdom نے بھی خطے میں عسکری سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع John Healey نے وزرائے دفاع کے ایک ورچوئل اجلاس میں اعلان کیا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ بین الاقوامی مشن میں حصہ لے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس مشن کے تحت برطانیہ ڈرونز، بغیر پائلٹ کشتیوں، بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے والے خودکار نظام اور فضائی نگرانی کے لیے Eurofighter Typhoon لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

برطانیہ کا فضائی دفاعی تباہ کن جنگی جہاز HMS Dragon بھی مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کیا جا چکا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔برطانوی وزارت دفاع کے مطابق اس مشن میں چالیس سے زیادہ ممالک شامل ہوں گے اور اس کا مقصد مکمل طور پر دفاعی ہے تاکہ عالمی تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ادھر Israel بھی اس تنازع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیے بغیر اس جنگ کو ختم سمجھنا ممکن نہیں۔امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے جس کے بعد گزشتہ ماہ جنگ بندی نافذ العمل ہوئی، لیکن خطے میں چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران صرف ایران اور امریکہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی معیشت اور توانائی کی سکیورٹی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر یہ آبی راستہ طویل عرصے تک بند رہتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی تجارت، معیشت اور سیاسی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔اس وقت دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری اور جنگ کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور بڑی جنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button