انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

1 لیٹر تیل بھی جانے نہیں دیں گے:آبنائے ہرمز کو امریکہ کیلئے قبرستان بنا دینگے، ایران

تہران، ریاض، کینبرا، روم ( ویب ڈیسک) ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آبنائے ہرمز پر اپنے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ اہم عالمی بحری گزرگاہ امریکی افواج کے لیے قبرستان بن سکتی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ثقافتی و نفسیاتی آپریشنز کے نائب کیپٹن سعید سیاح سارانی نے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر عوام اور حکام حکم دیں تو آبنائے ہرمز سے ایک لٹر تیل بھی ایران کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے کیپٹن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگرچہ مکمل بحری جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تاہم ایران نے ’’ سمارٹ ناکہ بندی‘‘ نافذ کر رکھی ہے، جبکہ غیر روایتی بحری جنگ کے لیے بھی مکمل تیاری ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں سفر کریں گے تاکہ ایران اپنی سکیورٹی حکمت عملی کے مطابق ان کی آمدورفت کو یقینی بنا سکے۔ ایرانی فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔ بریگیڈئیر جنرل محمد اکرمینیا نے ایرانی شہر مشہد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں امریکی ہتھیار خطے میں موجود فوجی اڈوں پر رکھے گئے تھے تو ان میں سے بیشتر اب تباہ ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایرانی افواج کی نگرانی میں یہاں سے گزرنا پڑے گا۔ مزید برآں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ایران کے خلاف دشمنی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا کو بربریت، تسلط اور جارحیت کے خلاف ایران کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی، ورنہ طاقتور ممالک دنیا کو لاقانونیت اور محکومی کی طرف دھکیل دیں گے۔اسماعیل بقائی نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 28فروری کو ایران پر مسلط کی گئی جنگ صرف زمین یا وسائل کیلئے نہیں بلکہ یہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش ہے کہ مستقبل میں اچھائی اور برائی کے معیارات کیا ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر حملہ کرنے والے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر فخر کرتے ہیں اور پرامن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ان کے مطابق حملہ آور طاقتیں شہری مقامات، حتیٰ کہ خواتین کے سپورٹس ہالز پر بھی میزائل حملے کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دوسری جانب ایرانی عوام اور افواج ہر ممکن حد تک بے گناہ جانوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال جھوٹ پھیلانے والوں اور اپنے وطن کا دفاع کرنے والوں کی درمیان جنگ ہے، اور ایسے وقت میں خاموش رہنا بھی برائی کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ مزید برآں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ کویت نے غیر قانونی طور پر ایک ایرانی کشتی پر حملہ کرکے چار ایرانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ ایک ایسے جزیرے کے قریب پیش آیا جو امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس کارروائی کا مقصد خطے میں اختلافات اور کشیدگی پیدا کرنا ہے۔
کویت نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ پاسداران انقلاب سے تعلق رکھتے ہیں اور سمندر کے راستے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔ ادھر آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے دفاعی مشن میں شامل ہوگا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے 40ممالک کے اجلاس کے بعد کہا کہ آسٹریلیا اس مشن کے لیے E-7Aویجٹیل نگرانی طیارہ فراہم کرے گا، جو پہلے ہی خطے میں متحدہ عرب امارات کو ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے تعینات ہے۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا ایک آزاد اور خالص دفاعی نوعیت کے کثیرالملکی فوجی مشن کی حمایت کے لیے تیار ہے جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔ جبکہ اٹلی نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل اور قابل اعتماد جنگ بندی قائم ہوجاتی ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی مشن کے تحت اپنے دو مائن سویپر جہاز بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔ اطالوی وزیر دفاع گائیدو کروسیتو نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجی تعیناتی سے قبل حقیقی، قابلِ اعتماد اور مستحکم جنگ بندی یا مکمل امن معاہدہ ضروری ہوگا۔ ادھر سعودی کابینہ نے خلیجی ریاستوں کی سرزمین اور علاقائی پانیوں کو نشانہ بنائے جانے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خطے کے امن و استحکام کیلئے مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ کا اجلاس ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کے زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی سرزمین اور علاقائی پانیوں میں ہونے والے حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی۔ کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب خلیجی ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری طرف چین نے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو بڑھانے پر زور دیا ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو شاندار ثالث قرار دیدیا ہے۔ تفصیل کے مطابق بیجنگ کی سرکاری میڈیا نے گزشتہ روز بتایا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی۔ اس بات چیت میں چینی وزیر خارجہ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو تیز کرے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے میں بھی مدد کرے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وانگ ای نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے کہا کہ چین پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اس میں اپنا حصہ بھی ڈالے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
ٹرمپ اپنے تین روزہ دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے، جس دوران تجارتی جنگ اور عالمی معیشت پر بات چیت ہو گی۔ چین نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مساوات اور احترام کی بنیاد پر کام کرنے کیلئے تیار اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ترجمان وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ اختلافات کو بات چیت سے دور کرنے پر آمادہ ہے، دونوں ملکوں کے سربراہان دوطرفہ تعلقات، عالمی امن اور ترقی سے متعلق امور پر بات کرینگے۔ دوسری جانب چین نے امریکی صدر کی بیجنگ آمد سے قبل ہی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں 4اہم سرخ لکیریں بھی واضح کر دیں۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ میں موجود چینی سفارتخانے کے مطابق تائیوان، جمہوریت و انسانی حقوق، سیاسی نظام اور چین کے ترقیاتی حقوق ایسے معاملات ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2روزہ ملاقات میں تائیوان کا معاملہ سب سے اہم موضوع ہو گا۔ تائیوان کے علاوہ تجارتی کشیدگی، مصنوعی ذہانت کی دوڑ، نایاب معدنیات کی برآمدات اور امریکی پابندیوں جیسے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ باہمی احترام، پرامن اور باہمی تعلقات اور مشترکہ مفاد ہی دونوں طاقتوں کے تعلقات کا درست راستہ ہیں۔
دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین میں صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سفارتی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان شاندار ملک ہے۔ جس کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے لیے بہترین کردار ادا کیا ہے۔ امریکی صدر پاکستان اور اس کی قیادت کے ایران جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کے کردار کی تعریف بارہا کر چکے ہیں، تاہم اس بار صدر ٹرمپ کے بیان کی اہمیت کچھ بڑھ گئی ہے۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی ہیں انہوں نے اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کو ایران جنگ بندی معاہدے میں ایک غیر جانبدار ثالث تسلیم نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں ساتھی سینیٹر کا نام تو نہیں لیا لیکن جس طرح پاکستانی قیادت کے ثالثی کے کردار کو سراہا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سینیٹر لنڈسے گراہم کے الزام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button