بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

ثمینہ سید،جا نے والی احساس کے گلستاں میں رہ گئی

شہزاد فراموش

ثمینہ سیّد ایسی شاعرہ اور ادیبہ جو لفظوں کے جنگل میں نئے راستے بنا لیتی اور ان کو اپنی سوچ کے زاویوں سے مہکا دیتی تھی۔وہ ایسا درد لکھتی جو روح کی گہرائیوں تک اتر کر دل کے بند دریچوں کو ہلا دیتا تھا۔جب وہ افسانہ رقم کرتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے اندر صدیوں سے سویا ہوا نوحہ جاگ اٹھا ہو۔وہ اپنے زخموں کی شمع جلانا جانتی تھی، وہ زخم جو زندگی نے اسے خاموشی سے عطا کیے، مگر اس نے انہیں اپنی مسکراہٹ پر حاوی نہ ہونے دیا۔ اندر کے کرب کو چھپا کر ہونٹوں پرتبسم سجانا کوئی معمولی بات نہیں۔

ثمینہ سید/فائل فوٹو

یہ ہنر اُن نفیس روحوں کو ملتا ہے جودرد کیساتھ بھی شان سے جینا سیکھ لیتی ہیں۔وہ اداؤں کی فقیرانہ سادگی بھی جانتی تھی اور قلم کی سحر کاری بھی۔کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے بھی اس نے کبھی کسی کے سامنے اپنے درد کا ماتم نہیں کیا۔ وہ خاموشی سے ٹوٹتی رہی، مگر دوسروں کیلئے محبت کے دیئے جلاتی رہی۔ وہ اپنے پیچھے لفظوں کا ایسا گلستان چھوڑ گئی جہاں احساس مہکتا ہے۔ شاعری، افسانوں اور تنقید پر مشتمل اس کی 6 کتابیں ادب کے ماتھے کا جھومر بنیں، جبکہ ایک ناول ابھی اشاعت کے دروازے پر دستک دینے والا ہے۔ اس کی روح لفظوں میں زندہ ہے،وہ مری نہیں وہ یہیں کہیں ہے۔

 

گزشتہ دنوں شاذیہ مفتی نے یو ایم ٹی میں ثمینہ سید کی یاد میں تعزیتی نشست ”ثمینہ سیّد ایک اُمید کا جگنو“کے نام سے اہتمام کیا۔صدارت نجیب جمال نے کی جبکہ مہمان خصوصی غلام حسین ساجد تھے۔سٹیج پر انجم شیرازی، نیلم احمد بشیر، ثمینہ سید کے بیٹے صارم رضا، بیٹی شوال رضا، ان کی بہن نوشین نقوی بھی موجود تھیں۔ہال میں ثمینہ کی والدہ، بہنوئی راجہ ریاض اور ادب کی معتبر شخصیات موجود تھیں۔ ہال یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے لفظ، آنسوؤں کے لباس میں خاموش کھڑے ہوں۔ اسی دوران احمد سہیل نصراللہ سٹیج پر آئے، جو صرف یونیورسٹی کے انتظامات سے وابستہ شخصیت نہیں بلکہ ادب کے شمع کو جلائے رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد منزہ سحر نے ثمینہ سید کی لکھی ہوئی نعت ؐ عقیدت بھرے انداز میں پیش کی۔

”دل میں بسا کے رکھو الفت نبیؐ کی لوگو – کارِ ثواب جانو، مدحت نبیؐ کی لوگو“

قومی ترانہ کے دوران اس لمحے کی سنجیدگی میں عقیدت، محبت اور یادوں کی نمی شامل تھی۔ احمد سہیل نصراللہ نے یو ایم ٹی کا مختصر تعارف پیش کیا، مگر اصل تعارف ثمینہ سیّدکا تھا،ایک ایسی قلمکارہ کا جو بظاہر دنیا سے رخصت ہوئی مگر اپنے لفظوں میں ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گئی۔

ڈاکٹر نجیب جمال نے کہا کہ اس کی شاعری میں دیا بہت اہم ہے جو اس کی روح کی لو تھی۔زندگی نے اس کا ہر قدم پر امتحان لیا،جوانی کی دہلیز پر پاؤں رکھا تھا کہ سہاگ اُجڑ گیالیکن اس نے ہار نہیں مانی۔ایک مزدور کی طرح ہاتھوں کے چھالے چھپا کر بچوں کی پرورش کی۔ ثمینہ نے شاعری اور افسانوں کے بعد تنقید کی طرف قدم بڑھایا تو تنقید بھی تخلیق کے رنگ میں ڈھل گئی۔اس کی پنجابی شاعری میں مٹی کی خوشبو اور رچاؤ ہے جو شائید اردو میں کم ہے۔اس کا افسانہ بہت کمال کا ہے۔اس نے جب ڈگری لی تو میرے پاس آکر تصویر بنائی،وہ لمحہ میرے اندر کہیں رُک سا گیا ہے۔اب اس کی یادیں دل کے آنگن میں نوحہ کناں ہیں ”وعدوں کی رت رخصت ہوئی، باتوں کو چپ سی لگ گئی“۔

غلام حسین ساجد نے ماضی کے دریچوں کو وا کیا اور بتایاکہ یہ حسنِ اتفاق تھا کہ جس ادبی محفل میں شاذیہ اور ثمینہ طویل ہجر کے بعد ملیں، اس لمحے کا میں عینی شاہد ہوں۔ میں نے ثمینہ کی تخلیقی پرواز پر ایک مضمون لکھا تھاجو اُس کی کتاب ”میرے ہم عصر“ کا دیباچہ بنا۔ انہوں نے ایک دل سوز یاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری اور ثمینہ کی آخری ملاقات شاذیہ کے گھر پر ہوئی تھی۔ اس دن ثمینہ نے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں معصوم سی چمک تھی۔اس نے دھیمے لہجے میں کہا ”آپ کو دیکھ کر مجھے ابو یاد آ جاتے ہیں، اُن کی آنکھیں بالکل آپ جیسی تھیں“۔

ثمینہ نے ایف سی کالج سے ایم فل کیا اُسی کالج کے استاد شاہد اشرف نے اسکی شخصیت کے روشن گوشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حسنِ اخلاق اور ملنساری کا پیکر تھی۔ ادب اس کی رگوں میں دوڑتا تھا اور تدریس اس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ لاہور کے ادبی حلقوں میں ہمیشہ ایک معتبر، محترم اور سدا بہار شاعرہ کے طور پر زندہ ہیں۔

شاذیہ مفتی کے الفاظ عقیدت اور محبت کا گلدستہ تھے۔ انہوں نے دل کے نہاں خانے سے ایک بچھڑی رفاقت کی داستان چھیڑدی۔انہوں نے بتایا کہ ثمینہ اور ان کی دوستی کوئی عارضی رشتہ نہ تھی، بلکہ یہ چار دہائیوں پر محیط ایک لازوال سفر تھا۔ پاکپتن کے سکول اور کالج کی گزرگاہیں ان کے مشترکہ قہقہوں اور باتوں سے مہکتی رہیں۔ پھر زندگی اپنے راستے بدلتی گئی، ثمینہ پیا دیس سدھار گئیں۔ وقت کی تیز لہروں نے انہیں ایک دوسرے سے دور کر دیا،مگر تقدیر نے اس ادھورے افسانے کو مکمل کرنا تھا۔ وقت نے کروٹ بدلی اور 2015ء کی ایک ادبی شام میں دونوں کا آمنا سامنا ہو گیا۔ یوں برسوں سے رکا ہوا یہ سفرِ محبت دوبارہ چل پڑا۔

شاذیہ نے بتایا کہ ثمینہ ایسی دوست تھی جو صبر، حوصلہ، خودداری، بہادری اور محنت کا مرقع تھی۔جب زندگی نے کینسر کی صورت میں ایک کٹھن موڑ لیا، تب بھی ثمینہ کا علم سے رشتہ نہ ٹوٹا، وہ اس وقت ایم فل کی طالبہ تھیں۔تعزیتی تقریب میں ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک،خالد محمود آشفتہ، رقیہ اکبر، دلشاد نسیم،راجہ ریاض، ولایت احمد فاروقی، رابعہ رحمان، عرفان صادق، عطرت بتول، شاہین اشرف، محمد جمیل، نوشین نقوی،شہناز نقوی اور شوال رضا نے بھی گفتگو کی ۔

ثمینہ سید پر تہنیت نقوی اور شوال رضا نے بہت عمدہ ڈاکیو مینٹری بنائی جسے سکرین پر دکھایا گیا۔اس میں ثمینہ کہیں غزل سنا رہی ہیں تو کہیں دانشوروں کے جھرمٹ میں ہیں۔ انجم شیرازی نے ثمینہ سید کی پسندیدہ جگجیت سنگھ کی گائی غزل ”پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے“ اور ساحر لدھیانوی کا لکھا گیت ”میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا“ جبکہ نیلم احمد بشیر نے ثمینہ سید کو بے حد پسند گیت ”پھول تمہیں بھیجا ہے خط میں“ گا کر ان سے عقیدت کا اظہار کیا۔ اسامہ عباس مرزا نے خود کمپوز کی ہوئی ثمینہ کی دو غزلیں بھی سنائیں ۔ ثمینہ کے شعروں میں سے ایک مجھے بھی یاد رہ گیا۔

لوڑاں دے ہڑھ اِنج ولیواں پایا اے
مٹی دے وچ رُل گئے شملے وِیراں دے

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button