انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحتکالم

کتوں کو بھی انصاف چاہیے

سپیڈبریکر، میاں حبیب

جس معاشرے میں انسانوں کو انصاف نہ مل رہا ہو وہاں کتوں بلیوں جانوروں اور پرندوں کے انصاف کی بات کرنا عجیب سا لگتا ہے یہاں انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے جہاں پھول جیسی معصوم سی بچیوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہو جہاں بچوں سے بیگار لی جاتی ہو جہاں معمولی سی غلطی پر ہوم بیسڈ ورکرز کی چمڑی ادھیڑ دی جاتی ہو وحشیانہ تشدد کیا جاتا ہو جہاں معمولی سی رقم دے کر ملازمین کو یرغمال بنا لیا جاتا ہو جہاں ظلم وستم سے تنگ آکر بھاگ جانے والے ملازمین پر چوری کا الزام لگا کر پورے خاندان کو گرفتار کروا دیا جاتا ہو جس معاشرے میں من مانی اور طاقت ہی سب کچھ ہو وہاں انصاف نہیں ہوتا وہاں فیصلے طاقت سے ہوتے ہیں وہاں اصول ضابطے انسانیت نہیں دیکھی جاتی وہاں سٹیٹس دیکھا جاتا ہے۔

جہاں روپے پیسے سے چیزیں مینج کی جاتی ہوں جہاں ہر چیز خریدنے کا رواج عام ہو جائے جہاں ہر کوئی بکنے کے لیے تیار ہو جہاں ایجوکیشن، ہیلتھ اور انصاف برائے فروخت ہو وہاں جانوروں کے حقوق کی بات کرنا نقار خانے میں طوطی والی بات ہے جہاں انسانوں کے حقوق پامال ہو رہے ہوں وہاں جانوروں اور پرندوں کے حقوق کی بات کرنا واقعی ہی عجیب لگتا ہے لیکن کچھ بہت زیادہ حساس درد دل رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو برداشت نہیں کر پاتے ایسے ہی ہمارے ایک دوست ملک سلمان ہیں جو معاشرے کی برائیوں کی اکثر نشاندہی کرتے رہتے ہیں اور اپنے حصے کا کام کیے جا رہے ہیں۔

اس تگ ودو میں بہت کچھ درست کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں انھوں نے کم ازکم آواز بلند کرنے کا شعور تو اجاگر کیا ہے وہ آجکل کتوں کو انصاف دلانے کے لیے میدان عمل میں ہیں ان کا موقف ہے کہ بےجا کتوں کا قتل عام درست نہیں کتوں کے کاٹنے کے روک تھام کے لیے اور بھی اقدامات کیے جا سکتے ہیں ضروری نہیں کتوں کو مار دیا جائے انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کیا ہے جس نے ہلا کر رکھ دیا ہے اس ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح روٹی پر زہر لگا کر کتوں کے آگے پھینکی جاتی ہے اور وہ کھانے کے بعد کس کرب سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یہ دہلا دینے والی ویڈیو ہے وہ کتوں کو انصاف دلانے کے لیے صوبے کی سب سے بڑی عدالت میں بھی گئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کتوں کو انصاف دینا ہے یا نہیں۔

2002 میں مجھے پہلی بار لندن جانے کا اتفاق ہوا میں اس معاشرے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا تھا وہاں انسانیت سے ہی پیار نہیں کیا جاتا انسانوں سے بڑھ کر جانوروں اور پرندوں سے پیار کیا جاتا ہے اور جانوروں کے باقاعدہ حقوق ہیں جہاں جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر باقاعدہ سزا دی جاتی ہے وہاں کے ایک چوک ٹیفیلگر سکوائر میں بہت زیادہ کبوتر ہوتے ہیں وہاں لوگ کبوتروں کو دانہ ڈبل روٹی اور اس قسم کی چیزیں ڈال جاتے ہیں کسی نے زہر آلود ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا پھینک دیا جسے کھانے سے کچھ کبوتر مر گئے مقامی حکومت نے اس دن سے وہاں 2پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ خیال رکھیں کہ کوئی دوبارہ ایسی چیز نہ ڈال دے جس سے کبوتروں کو نقصان پہنچے۔

اسی طرح ہم نے بکنگھم پیلس کے باہر واقع پارک میں خوبصورت منظر دیکھا کہ پرندے آپ کے پائوں میں پھر رہے ہیں لوگ ہتھیلی پر دانہ ڈالتے ہے گلہری ہاتھ پر سے دانہ چگ کر دوبارہ درخت پر چڑھ جاتا وہ معاشرہ اتنا محفوظ ہے کہ پرندوں کو بھی اپنے تحفظ کا احساس ہے وہ اس لیے آذادانہ پھرتے ہیں کہ انھیں پتہ ہے کسی نے ان سے چھیڑ خانی نہیں کرنی اور ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں اب ذرا اپنے معاشرے کا جائزہ لیں ہم سوئے ہوئے کتے بلیوں کو خواہ مخواہ پتھر مار دیں گے ہم پتھر مارنے سے پہنچنے والی اذیت کو انجوائے کرتے ہیں ۔

 

آپ کبھی چڑیا گھر جا کر دیکھ لیں پڑھے لکھے لوگ بھی جانوروں اور پرندوں سے چھیڑخانی کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنے بچوں کو بھی جانوروں کو چھیڑنے کی ترغیب دے رہے ہوتے ہیں ہم ہر ذی جان کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ہم تشدد پسند معاشرہ ہیں کتوں کو لڑا کر مزہ لیتے ہیں مرغوں کی لڑائی بٹیروں کی لڑائی پر مجمعے جمتے ہیں ہم بندروں کی اٹھکھیلوں سے محظوظ نہیں ہوتے انھیں تنگ کر کے انجوائے کرتے ہیں ہم معاشرے کو شعوری طور پر عورت کے احترام پر قائل نہیں کر سکے ۔

ہم نیفہ جسٹس کے ذریعے خوفزدہ کرکے عورت کے احترام پر مجبور کر رہے ہیں ہم دوران تفتیش ذہانت سے راز اگلوانے کے قائل نہیں ہر بات تشدد سے منواتے ہیں نہ ہمیں بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے نہ بات منوانے کا ڈھنگ آتا ہے ہمیں تو احتجاج کرنا بھی نہیں آتا ہم احتجاج کرتے ہوئے سب کچھ ملیا میٹ کر دینے کے قائل ہیں ہم تضادات کا مجموعہ ہیں ایک طرف لاہور پولیس نے زخمی جانوروں کو ریسکیو کرنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ بنا رکھا ہے جہاں زخمی جانوروں کا علاج ہوتا ہے دوسری جانب ہم پولیس مقابلوں میں دھڑا دھڑ انسانوں کو مارے جا رہے ہیں جانوروں کا قتل عام کیے جا رہے ہیں۔

ملک سلمان نے اپنے گھر کے باہر پرندوں کے لیے سایہ فراہم کرکے وہاں دانہ پانی رکھ کر ایک ماڈل متعارف کروایا ہے اور وہ جو کتوں کو انصاف دلانے کی مہم شروع کیے ہوئے ہیں دراصل یہ معاشرے میں برداشت کو فروغ دینے کی ایک شعوری کوشش ہے شہریوں پر ظالمانہ جرمانوں سے ٹریفک کا نظام درست کرنے کی بجائے انھیں ٹریفک قوانین کا احترام سکھائیں راستہ روک کر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے راستے دے کر لوگوں کے لیے سہولتیں پیدا کریں اور یہ سارا کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عام لوگوں کو انصاف مہیا نہیں ہوتا ہم جبر سے معاشرے کو درست نہیں کر سکتے ہم بذریعہ انصاف لوگوں کو تحفظ دے کر شعوری طور پر معاشرے کو درست ڈگر پر لا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button