پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی اربوں روپے کی واجب الادا رقم ادا نہیں کر رہی اور صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین کی حمایت اور عوامی اعتماد کے باعث انہیں آئندہ تین سال تک کوئی عہدے سے نہیں ہٹا سکتا۔
پشاور میں دلہ زاک روڈ انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز عمران خان کے وژن کے مطابق کیا جا رہا ہے اور عوام کو جلد اس کے مثبت نتائج نظر آئیں گے۔
پشاور کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے جاری
سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کی ترقی اور بحالی کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تقریباً 200 ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے بے مثال قربانیاں دیں اور صوبے نے 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اس کے باوجود صوبے کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا۔
وفاق 4,758 ارب روپے کا مقروض ہے، دعویٰ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کی 4 ہزار 758 ارب روپے کی مقروض ہے، تاہم یہ رقم ادا نہیں کی جا رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع اور خیبرپختونخوا کے لیے این ایف سی شیئر بھی مکمل طور پر فراہم نہیں کیا جا رہا جبکہ متعدد ترقیاتی منصوبے وفاقی عدم تعاون کا شکار ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کے کئی اہم منصوبوں کے لیے فنڈز روکے جا رہے ہیں اور بعض منصوبوں کو این او سی جاری نہیں کیا جا رہا۔
بجٹ مشاورت کے لیے بانی چیئرمین سے ملاقات کا مطالبہ
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ آئندہ بجٹ کے حوالے سے مشاورت بانی چیئرمین سے کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 9 جون تک انہیں اور وزیر خزانہ کو بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔
نوجوانوں، سیاحت اور فلاحی منصوبوں کا اعلان
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مانسہرہ میں سیاحت کے فروغ کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ نوجوانوں کے لیے خصوصی یوتھ پروگرام اور انٹرن شپ سکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اقلیتوں اور خصوصی افراد کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی طور پر خودمختار بنایا جا سکے۔
گلگت بلتستان کے عوام سے حمایت کی اپیل
اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں عوام کو حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام ووٹ کی طاقت سے تمام ناانصافیوں کا جواب دیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی، عوامی فلاح اور صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے ان کی حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔



