انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

لبنان سے آبنائے ہرمز تک ایک جنگ، کئی محاذ

تحریر: عاصم رضا خیالوی

 

 

تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں ہمیشہ بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ مفادات کی میز پر لکھی جاتی ہیں۔ میدانِ جنگ میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے، اکثر وہ اصل کہانی کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے۔ اصل کہانی ان طاقتوں کے درمیان لکھی جاتی ہے جو نقشوں پر سرحدیں کھینچتی، معیشتوں کو کنٹرول کرتی اور قوموں کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔

آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ لبنان کے جنوبی دیہات سے لے کر آبنائے ہرمز کی موجوں تک آگ پھیلی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ الگ الگ محاذ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، اسرائیل کی عسکری کارروائیاں، حزب اللہ کی مزاحمت، لبنان کی سیاسی بے بسی اور خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی دراصل ایک بڑے جغرافیائی اور معاشی کھیل کا حصہ ہیں۔

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان کی جنگ اور خلیج کی جنگ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام ہے۔ تہران جانتا ہے کہ اگر لبنان میں مزاحمت کمزور پڑتی ہے تو خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، اور اگر آبنائے ہرمز پر اس کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے تو اس کی معاشی اور سیاسی طاقت بھی محدود ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سمجھتے ہیں کہ خطے میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ایران کے عسکری اور سیاسی اثرات کو محدود کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ ایک ساتھ چل رہے ہیں۔

یہ منظر نامہ ہمیں ماضی کی کئی تاریخی جنگوں کی یاد دلاتا ہے، جہاں جنگ صرف سرحدوں کے لیے نہیں بلکہ تجارت، توانائی اور عالمی طاقت کے توازن کے لیے لڑی گئی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج تلواروں کی جگہ میزائل ہیں، گھوڑوں کی جگہ ڈرون اور قاصدوں کی جگہ سیٹلائٹ نظام موجود ہیں۔

لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام کا ایران کو یہ کہنا کہ "ہمارے جنوب پر رحم کریں” دراصل ایک کمزور ریاست کی فریاد ہے جو خود کو بڑی طاقتوں کی کشمکش میں پھنسا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ لبنان کی سرزمین ایک بار پھر دوسروں کے تصادم کا میدان بنتی جا رہی ہے۔

ادھر ایران کا جواب بھی اپنی جگہ معنی خیز ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر لبنان صرف سودے بازی کا مہرہ ہوتا تو بہت پہلے معاہدہ ہو چکا ہوتا۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران لبنان کو اپنی علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔

اس پوری صورتحال کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کے توانائی کے اہم ترین راستوں میں شامل یہ آبی گزرگاہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی بے چینی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتی بلکہ لندن، نیویارک، بیجنگ، ماسکو اور اسلام آباد تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ واقعی کسی نظریے، کسی قوم یا کسی سرحد کی جنگ ہے؟

تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر بڑی جنگ کے پیچھے طاقت، معیشت اور مفادات کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ عوام قربانیاں دیتے ہیں، شہر تباہ ہوتے ہیں، معیشتیں کمزور ہوتی ہیں، لیکن ہتھیار بنانے والی صنعتیں، تیل کی منڈیاں اور عالمی طاقت کے مراکز اکثر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے آج لبنان، ایران، اسرائیل اور خلیج کے حالات کو الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک ہی شطرنج کے مختلف خانے ہیں جہاں ہر چال اگلی چال کو جنم دے رہی ہے۔

اگر خطے کے ممالک نے دانشمندی، سفارت کاری اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ آگ صرف لبنان یا خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن، معیشت اور مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جنگیں فتح سے زیادہ زخم چھوڑتی ہیں، جبکہ پائیدار امن ہمیشہ طاقت کے توازن، انصاف اور باہمی احترام سے جنم لیتا ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ یہ خطہ ایک اور طویل جنگ کی طرف بڑھتا ہے یا پھر مذاکرات اور دانشمندی کے ذریعے ایک نئے امن کی بنیاد رکھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button