
نو محرم کی شام کو کچھ دوستوں کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کے دو عظیم اولیاء حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ اورسلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمہ اللہ علیہ کی درگاہوں پر حاضری کیلئے نکلے ، دس محرم کی شام اس سفر سے واپسی ہوئی ۔ یوم عاشور بھی تھا اور ان بزرگان دین کے عرس کی تقریبات بھی تھیں ، پہلی بار حاضری کا موقع ملا ،کم و بیش ایک ہزار کلو میٹر کے اس سفر میں جگہ جگہ سبیلیں اور لنگر خانے سجے ہوئے تھے۔
اس سفر نے مجھ پر ایک حقیقت آشکار کی ہے ۔یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس پر جتنا رویا جائے کم ہے، ایک ایسا طمانچہ ہے جو ہماری نام نہاد دین داری اور کھوکھلی اخلاقیات کے منہ پر پڑتا ہے۔ ہم نے محبتوں کے دین کو تاریخوں اور مخصوص تقاریب کے تالوں میں بند کر دیا ہے، ہم نے اس وسیع و عریض کائنات کے مالک کی عبادت کو چند مخصوص دنوں کی قید میں ڈال دیا ہے۔
دل خون کے آنسو روتا ہے جب یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ محرم کی شروعات ہوتے ہی گلی گلی، کوچے کوچے سڑکوں پر سبیلیں سج جاتی ہیں، دودھ اور شربت کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں، لوگوں کی گاڑیاں روک روک کر ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر، زبردستی ان کے حلق میں پانی اتارا جاتا ہے۔
اس وقت یوں لگتا ہے جیسے ہم سے بڑھ کر پیاسوں کا درد کوئی جانتا ہی نہیں، ہم سے بڑا سخی اور انسانیت کا ہمدرد کوئی پیدا ہی نہیں ہوا لیکن پھر منظر بدلتا ہے ، جیسے ہی دس محرم کی شام ڈھلتی ہے، وہ ساری ہمدردی، وہ سارا درد، وہ ساری سخاوت یکدم یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
آج جب سورج آگ برسا رہا ہے، جب آسمان سے چنگاریاں ٹپک رہی ہیں اور زمین تپتے ہوئے تنور کا منظر پیش کر رہی ہے، تب وہ سبیلیں کہاں گئیں؟ ، وہ لنگر خانے کیوں دکھائی نہیں دے رہے ؟۔ آج جب حبس اور لو کی اس بدترین لہر میں انسان سڑکوں پر نڈھال پڑے ہیں، معصوم بچے پیاس سے بلک رہے ہیں، بے زبان جانور زبانیں باہر نکالے ہانپ رہے ہیں اور پرندے پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہوئے درختوں سے گر کر دم توڑ رہے ہیں، تب ہمیں وہ پیاس یاد کیوں نہیں آتی؟
کیا پیاسے کو پانی پلانے کا ثواب صرف مخصوص ایام تک ہی محدود تھا؟ کیا پیاس صرف انہی مخصوص دنوں میں لگتی ہے؟ کیا اللہ کی مخلوق کا یہ تڑپنا، یہ بلکنا ہمارے پتھر ہو چکے دلوں کو نہیں پگھلاتا؟ پیاس تو پیاس ہے، وہ محرم کی ہو یا جیٹھ اور ہاڑ کی جھلسا دینے والی گرمی کی، پیاسے کا حلق تو اسی طرح سوکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے نیکی کو اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ ایک سالانہ میلے اورمخصوص رسومات کی خاطر اپنایا ہوا ہے۔ ہمیں پیاسے کی تڑپ سے غرض نہیں، ہمیں تو بس اپنی اس مخصوص رسم کو پورا کرنا ہے ۔
یہی حال ہماری نذر و نیاز اور افطار و سحر کا ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی روشنیوں کا سیلاب آ جاتا ہے، دیگوں پر دیگیں اترتی ہیں، اتنا کھانا پکا کر بانٹا جاتا ہے کہ نالیوں اور کچرے کے ڈھیروں پر رزق کی بے حرمتی ہوتی نظر آتی ہے۔ رمضان آتا ہے تو افطار پارٹیوں کے نام پر دسترخوانوں پر اسراف کی انتہا کر دی جاتی ہے لیکن جیسے ہی یہ دن گزرتے ہیں، ہماری سخاوت کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔
باقی کے گیارہ مہینے ہمارے اپنے پڑوس میں سفید پوشوں کے بچے بھوکے پیٹ سو جاتے ہیں، کسی بیمار باپ کے پاس دوا کے پیسے نہیں ہوتے، کسی بیوہ کے گھر کا چولہا بجھ چکا ہوتا ہے لیکن ہمیں کوئی تڑپ محسوس نہیں ہوتی۔ کیوں؟ کیونکہ وہاں کوئی دکھاوا نہیں ہے، وہاں کوئی میلہ نہیں سجتا، وہاں معاشرے میں واہ واہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
ہم نے اسلام کے اس خوبصورت تصور کو مسخ کر دیا ہے جس نے سکھایا تھا کہ اپنے پڑوسی کا خیال رکھو، جس نے سکھایا تھا کہ مسکینوں اور یتیموں کو کھانا کھلانا مومن کی مستقل صفت ہے۔ہم کتنے بڑے منافق بن چکے ہیں کہ ہم نے اللہ کی عبادت کو بھی سیزنل کاروبار بنا دیا ہے۔ ہم سال کے چند دن نیکی کا لبادہ اوڑھ کر خود کو جنت کا حقدار سمجھ بیٹھتے ہیں اور باقی پورا سال حقوق العباد کو پیروں تلے روندتے رہتے ہیں۔
ایک طوائف کو صرف اس لیے بخش دیا گیا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو کنویں سے جوتے کے ذریعے پانی نکال کر پلایا تھا۔ اس وقت نہ محرم تھا، نہ ربیع الاول تھا، نہ رمضان تھا۔ وہاں صرف ایک پیاسی مخلوق تھی اور ایک تڑپتا ہوا دل تھا۔ اللہ کو وہ تڑپ پسند آ گئی اور اس نے مغفرت کا پروانہ جاری کر دیا لیکن ہمارے دل تو اس احساس سے بالکل خالی ہو چکے ہیں۔
ہم گلیوں میں تڑپتے انسانوں اور پرندوں کو دیکھ کر بھی منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں کیونکہ ہماری نظر میں اب یہ "عبادت کا سیزن” نہیں ہے۔خدارا اس رسومات کی قید سے باہر نکلئے! اللہ کسی تاریخ کا محتاج نہیں، اللہ کا دین کسی مخصوص دن کا پابند نہیں ہے۔ پیاسے کو پانی پلانا، بھوکے کو کھانا کھلانا، اور تڑپتی ہوئی مخلوق پر رحم کرنا ہر اس لمحے عبادت ہے جب کسی کو اس کی ضرورت ہو۔
اگر آج اس بدترین گرمی میں ہم اپنے گھروں کی چھتوں پر پرندوں کے لیے پانی کا ایک کٹورا نہیں رکھ سکتے، اگر ہم اپنی گلی کے موڑ پر کسی مزدور کے لیے پانی کا مٹکا نہیں رکھ سکتے، اگر ہم تپتی دھوپ میں کام کرنے والے کسی غریب کو ٹھنڈا پانی نہیں پلا سکتے، تو محرم کی سبیلیں ، ربیع الاول کی نذو نیاز اور رمضان کےسحریاں اور افطاریاں کچھ بھی نہیں ۔ اللہ کو ہماری رسمیں نہیں، ہمارے دلوں کا تقویٰ اور مخلوق کے لیے تڑپ چاہیے ہوتی ہے، جن مقدس شخصیات کے ایصال ثواب کیلئے یہ سب کچھ کیا جاتا وہ بھی خوش ہوں گی۔ عبادات کو تاریخوں کی زنجیروں سے آزاد کیجئے، اس سے پہلے کہ ہماری یہ بے حسی ہمیں اللہ کے غضب کا شکار بنا دے اور ہم ابدی خسارے میں چلے جائیں۔



