آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے بڑے چیلنجز، مؤثر حکمت عملی ناگزیر: وزیر خزانہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کو درپیش دو بڑے چیلنجز ہیں، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنا ملک کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
عالمی یومِ آبادی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 2047 تک پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا خواب آبادی کے مسئلے کے مؤثر حل سے مشروط ہے۔
قومی آبادی حکمت عملی پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے گا
محمد اورنگزیب نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کے ذریعے آبادی سے متعلق قومی حکمت عملی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، جبکہ مقررہ اہداف اور کلیدی کارکردگی اشاریوں (KPIs) کی سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر نگرانی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کی تقسیم میں آبادی سے متعلق زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔
مانع حمل ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا گیا
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں مانع حمل ادویات اور متعلقہ اشیا پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے آبادی کے شعبے کے لیے سالانہ 600 سے 700 ملین ڈالر تک مالی معاونت دستیاب ہوگی، جس سے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد میں مدد ملے گی۔
خواتین کی صحت، تعلیم اور روزگار حکومتی ترجیحات
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں:
- اسکول سے باہر بچیوں کو تعلیم دینا
- بچوں میں غذائی قلت اور اسٹنٹنگ کا خاتمہ
- خواتین کی صحت میں بہتری
- لڑکیوں کی تعلیم کا فروغ
- خواتین کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنا
- مذہبی قیادت کے تعاون سے آگاہی مہم چلانا
شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، ایران اور انڈونیشیا نے آبادی میں اضافے پر قابو پانے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن سے پاکستان کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔
انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے، یو این ایف پی اے
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) کے پاکستان میں کنٹری نمائندے لوئے شبانے نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون اور ہر ضلع میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی دستیابی انتہائی ضروری ہے۔
پنجاب میں فیملی پلاننگ پروگرام پر خصوصی توجہ
رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے پاپولیشن کنٹرول سائرہ افضل نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ساتھ آبادی پر قابو پانے کے جامع پروگرام پر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں فیملی پلاننگ پروگرام کے تحت مانع حمل ادویات کی 100 فیصد دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
سائرہ افضل نے کہا کہ عوام میں یہ شعور بھی اجاگر کرنا ضروری ہے کہ اگر خاندان میں دو بیٹیاں ہوں تو صرف بیٹے کی خواہش میں مزید بچوں کی پیدائش ضروری نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل ذمہ داری بچوں کی اچھی تعلیم، تربیت، صحت اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔
خواتین کی صحت اور آگاہی مہم
سائرہ افضل کے مطابق پنجاب میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایک لاکھ 40 ہزار خواتین تک فیملی پلاننگ سے متعلق معلومات پہنچائی جا چکی ہیں، جبکہ علماء کرام سے بھی جمعہ کے خطبات کے ذریعے آبادی میں توازن اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔



