بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

سلام شہدائے پولیس،ہمیں آپ پر فخر ہے

لاہور(فیاض ملک) فیاضیاں

پولیس کا فرض صرف جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ عوام کی جان و مال، عزت اور آزادی کا تحفظ بھی ہے جب کوئی پولیس اہلکار وردی پہن کر گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شام کو اپنے اہلِ خانہ کے پاس واپس لوٹے گا یا وطن پر قربان ہو جائے گا۔
اسکے باوجود وہ اپنے حلف اور ذمہ داری کو ہر ذاتی مفاد پر مقدم رکھتا ہے،آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں پولیس اہلکار دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر ہیں،ایسا ہی کچھ ہوا 13 اگست کی شب کو جب ایک طرف شہر لاہور میں جشن آزادی کی تیاریاں پورے عروج پر چل رہی تھی تو دوسری طرف لاہور پولیس کے دو سپوت سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد بادامی باغ، پیشے خان چوک لاری اڈہ کے قریب سنگین جرائم میں ملوث ملزم ریحان بٹ کی گرفتاری کیلئے وہاں پر پہنچے تو وہاں موجود ملزموں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد شہید ہوگئے۔
ابھی اس واقعہ کی باز گشت شہر میں گونج ہی رہی تھی کہ انہی سفاک ملزمان نے دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات کرتے ہوئے نواں کوٹ، یتیم خانہ چوک کے قریب ایک اور حملے میں کالعدم تنظیم کے مرکز کے باہر ڈیوٹی پر موجود اے آر ایف کے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک جوان حارث کو شہید جبکہ ایک راہ گیر اور تین اہلکاروں کو زخمی کردیا ،یوں ایک ہی رات میں لاہور پولیس کے سب انسپکٹر سمیت تین جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔
 ابھی بات یہی پر ہی ختم نہیں ہوتی کہ حملہ آور آئے انہوں نے پولیس کو ٹارگٹ کیا اور باآسانی فرار ہوگئے،نہیں بلکل نہیں ، بلکہ لاہور پولیس کے آپریشن ،انویسٹی گیشن اور سی سی ڈی کے ا فسران و جوانوں پر مشتمل مختلف ٹیموں نے فائرنگ کرنےوالے دہشت گردوں کاتعاقب جاری رکھتے ہوئے محض چند ہی گھنٹوں نے ان کو شیخوپورہ کے علاقے میں گھیر لیا جہاں پر وہ دو طرفہ ہونےوالی فائرنگ میں حملہ آور اپنے انجام کو پہنچ گئے،یوں لاہور پولیس کے انتہائی منجھی  ہوئی پروفیشنل فورس نے  اس گھناؤنے جرم کی یہ داستان شروع ہونے کے محض چند گھنٹوں کے بعد ہی اپنے منطقی انجام تک پہنچادی،،جس کے بعد ان شہداء کی نماز جنازہ پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ادا کی گئی۔
کورکمانڈر لاہورنے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی طرف سے شہدا کے جسد خاکی پر پھول چڑھائے،وزیر خزانہ، کور کمانڈر، چیف سیکرٹری، ڈی جی رینجرز پنجاب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، اور سول و افواج پاکستان کے دیگر افسران نے شہداء کے جسد خاکی پر پھول چڑھائے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی  ۔
قارئین کرام: اب بحیثیت قوم ہم سب کیلئے سوچنے والی بات یہ ہے کہ13اگست کی شب کو بادامی باغ اور نواں کوٹ میں ہونےوالے یہ صرف فائرنگ کے واقعات نہیں تھے،بلکہ  یہ لاہور سمیت پورے ملک کی پولیس کی قربانیوں کی لازوال داستان ہے،یہ جذبے سے سرشار محکمہ پولیس کے ان تمام شہداءکے گھروں کی کہانی ہے، جن کے پیارے  اپنے گھر وں سے اس ملک و قوم کی حفاظت کیلئے وردی پہن کر تو نکلے، مگر پھر کبھی واپس نہیں آئے،پھر ہوتا یوں ہے کہ والدین کیلئے بیٹے کا ، بھائی کیلئے بھائی کا، بہن کیلئے بھائی کا اور بیوی کیلئے شوہر کا جبکہ بچوں کیلئے انکے باپ کی واپسی کا انتظار ہمیشہ کےلئے ختم ہوگیا۔
یقینااب کوئی نہیں آئے گا،صرف یادیں اور باتیں رہ جائیں گی ، جانےوالا تو چلا ہی گیا لیکن جاتے ہوئے گھر والوں کو عمر بھر کیلئے اپنی یادوں کا سہارا دے گیا ہے، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے محکمہ پولیس کی قربانیوں کے عزم اور جذبے کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔
شہدائے پولیس کے اہلِ خانہ کی قربانیاں پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں،یقینا ہمیں اپنے ان محافظوں کی عظیم خدمات کے اعتراف اور ان کی یادوں کو تازہ رکھنا ہوگا۔ ملک میں پائیدار امن، قانون کی بلاامتیاز عملداری اور تحفظ کی فراہمی کے لیے ایک مضبوط، جدید اور باصلاحیت پولیس فورس کی تشکیل ناگزیر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فرض کی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنےوالے پولیس اہلکار پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔کیونکہ شہید کبھی مرتا نہیں، بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
 فرمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہ چھو سکے گی ایک وہ آنکھ جو خوف خدا سے روتی ہو دوسری وہ آنکھ جو پہرہ دیتے ہوئے جاگتی ہو،بلاشبہ کسی بھی ریاست کا امن، استحکام اور قانون کی بالادستی محض قوانین سے قائم نہیں رہتی بلکہ ہماری فورسز کے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں سے مضبوط ہوتی ہے جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے معاشرے کو محفوظ بناتے ہیں، ہماری پولیس بھی انہی عظیم اداروں میں شامل ہے جس کے ہزاروں افسران اور جوانوں نے دہشت گردی، جرائم اور سماج دشمن عناصر کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ان کی قربانیاں قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
 پولیس کے شہداءبھی قوم کے حقیقی ہیرو ہیں ان کے بچے، والدین، شریکِ حیات اور اہلِ خانہ بھی اس قربانی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں،دہشت گردی کی اس جنگ میں اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کرنےوالے محکمہ پولیس کو پوری قوم کو کا سلام ،بلاشبہ یہی پولیس ہے جو ہمارا آج اچھا بنانے کےلئے ان گنت کاوشیں کرتے ہیں، آپ کہیں زیادہ احترام کے لائق ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے، جس میں پولیس فورس نے صفِ اول کا کردار ادا کیا خودکش حملوں، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائیوں میں ہزاروں پولیس افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
 ان شہداءکے لہو نے ملک میں امن کی شمع روشن رکھی اور قانون کی عملداری کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ،یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے دور میں پولیس فورس کو جدید تربیت، جدید ٹیکنالوجی، بہتر وسائل، حفاظتی سازوسامان اور عوامی تعاون کی مسلسل ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک مضبوط، پیشہ ور اور بااختیار پولیس ہی معاشرے میں امن، انصاف اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکتی ہے،آج جب ہم شہدائے پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہے تو وہی ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ان کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
ان کا خون ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کی حفاظت، عوام کی خدمت اور قانون کی سربلندی ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے سلام ہے ان عظیم شہداءکو جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے آنےوالی نسلوں کےلئے امن کی بنیاد رکھی ان کا ایثار، حوصلہ اور بہادری ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہے گی، اور پاکستان کی تاریخ ان کے روشن کردار کو ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button