پچھلے چند سالوں میں خاص طور پر اس رجیم کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے سامنے آئے جن کی وجہ سے ان حکمرانوں کی عوامی ساکھ کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ پے درپے نا عاقبت اندیشانہ سیاسی فیصلوں اور دگرگوں معاشی حالات نے عوامی سطح پر اس رجیم کو نامراد رکھا ہے۔
آپ جس قدر مرضی عالمی ثالثی کر لیں، جب تک اپنے دیس واسیوں کے چہروں کو منور نہیں کریں گے تب تک کچھ نہیں ہو گا۔ ایسا ہی کچھ سلسلہ قومی اعزازات کے ساتھ رکھا گیا تمام شعبہ جات میں اپنے پسندیدہ افراد کو نوازنے کی روایت برقرار رکھی گئی جس نے اس چہرے کی کالک کو اور عیاں کر دیا۔
مگر صد شکر ہے کہ ادب کے اعزازات دینا اس رجیم کے بس سے باہر ہے کیونکہ ادبِ عالیہ سے ان کا کوئی سروکار نہیں، لہٰذا ادب کے اعزازات کے اعلان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بلاشبہ حق ہی غالب آتا ہے۔ ایسے ہی دو ادیب ہیں خالد فتح محمد اور محمد حفیظ خان، ان دونوں کو تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ جیسا کہ سطورِ بالا میں ذکر ہوا کہ ادب کے اعزازات کا اعلان کرنے والی جیوری اس رجیم کے اثر و رسوخ سے باہر ہوتی ہے، لہٰذا وہاں حقدار کو ہی حق ملتا ہے۔

خالد فتح محمد پچھلے 30 سالوں سے فکشن لکھ رہے ہیں۔ اب تک آٹھ ناول لکھ چکے ہیں جبکہ افسانوں کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں ان کے تخلیقی عمل کی 13 کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ تاہم ادبی جیوری نے اس سال ان کو یہ اعزاز ان کے ترجمے پر دیا ہے۔
خالد فتح محمد نے ترک ناول نگار اورحان کمال کے ناولوں ’بیکار کے ماہ و سال‘، ’باپ کا گھر‘ اور ہرٹا ملر کے ناول ’پاسپورٹ‘ کو اردو ترجمے کے قالب میں ڈالا، اور کیا خوب ڈالا! ترجمہ سو فیصد تخلیقی عمل ہے۔ جب آپ ترک یا روسی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالتے ہیں تو یہ ایک گہرا تخلیقی عمل ہوتا ہے۔

حفیظ خان اس عہد کے ایک اور اہم ترین فکشن نگار ہیں جو اردو اور سرائیکی ادب کے درخشاں ستارے ہیں۔ اردو میں ان کے پانچ ناول اور سرائیکی میں ان کے ڈراموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔ حفیظ خان کے لکھے یہ سرائیکی ڈرامے ریڈیو ملتان سے نشر ہوئے تھے جنہیں بعد میں کتابی شکل دی گئی۔
حفیظ خان کے ناول ’منتارا‘ اور ’کرک ناتھ‘ سیاسی منظر نامے کو ادبی شہ پارے میں ڈھالنے کا بے نظیر نمونہ ہیں، جبکہ ’انوسی‘ تاریخ اور فکشن کا حسین امتزاج ہے۔
حرفِ آخر! خالد فتح محمد اور محمد حفیظ خان کو تمغۂ امتیاز ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ بلاشبہ حق ہی غالب آتا ہے اور ایک بڑے فکشن لکھنے والے کے ہنر کے نام کا ڈنکا ہر جگہ بج ہی جاتا ہے۔



